دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پٹواری اور پُل صراط
عصمت اللہ نیازی
عصمت اللہ نیازی
کسی دیہاتی علاقہ کی مسجد میں جمعہ کے دن ایک مولانا صاحب واعظ کر رہے تھے اور حاضرین کو پُل صراط کے بارے میں سمجھانے کی کوشش کر رہے تھے کہ قیامت کے دن ہر انسان کو اس پُل سے گزرنا ہو گا جو تلوار سے بھی تیز ہو گا اور بال سے بھی پتلا ہو گا۔ یہ سُن کر ایک شخص نے کھڑے ہو کر باآواز بلند کہا کہ "استاد جی ایسے کہو کہ گزرے کا رستہ نہیں ہو گا"
کچھ ایسی ہی صورتحال آجکل ہمارے پٹواریوں کے ساتھ چل رہی ہے۔ پٹواریوں کو گذشتہ دنوں یہ احکامات حکومت پنجاب کی جانب سے موصول ہوئے ہیں کہ آئندہ کوئی بھی پٹواری کسی پرائیویٹ عمارت میں بیٹھ کر کام نہیں کرے گا۔ جس پر عملدرآمد کرنے کیلئے تحصیل بھر کے تقریباً 60 پٹواری حضرات ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھ گئے ہیں کیونکہ تحصیل بھر میں ان کے دفاتر تقریباً نہ ہونے کے برابر ہیں اور اس سے قبل انہی پٹواریوں نے اپنی مدد آپ کے تحت ہر شہر اور قصبے میں پرائیویٹ عمارات میں دفاتر کرائے پر لئے ہوئے تھے اور ان دفاتر کے بجلی کے بل سمیت تمام اخراجات بھی اپنی جیب سے پورا کرتے تھے۔ لیکن ہمارے حکمران "انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند رے" کے مقولہ پر چلتے ہیں اور جب عوام کے خون پسینہ کی کمائی کو باپ کی جاگیر سمجھتے ہوئے باہر ممالک چکر شکر پر جاتے ہیں اور وہاں کے سسٹم دیکھتے ہیں تو واپس آ کر اُن کو بھی سارے سسٹم چُھو منتر کے ذریعے ایک ہی حکم نامہ کے ذریعے تبدیل کرنے کا شوق ستاتا ہے۔ لیکن یہ بنیادی طور پر کم عقل لوگ یہ نہیں دیکھتے نہ ہمارے پاس ترقی یافتہ ممالک جیسا انفراسٹرکچر موجود ہے اور نہ اُن جیسی دوسری ٹیکنیکل سہولیات موجود ہیں جس پر نیا سسٹم رَن کر سکے ۔ جس کی وجہ سے ان حکمرانوں کی کسی بھی بڑی میٹنگ میں صرف زبان ہلتی ہے اور چونکہ نیچے بیوروکریسی بغیر میرٹ کے پسند نا پسند پر بیٹھی ہوتی ہے بس وہ ان عقل کے اندھوں کو کوئی اچھا مشورہ دینے کے اُن کے احکامات پر عملدرآمد کرانے کو سر پٹ دوڑ پڑتے ہیں۔ جس کے نتیجہ میں ایک کے اوپر ایک سسٹم تو مصیبت بن کر نازل ہوتا رہتا ہے لیکن کچھ عرصہ کے بعد فیل ہونا اس کا مقدر بن جاتا ہے۔ لینڈ ریکارڈ سنٹرز کی مثال دیکھ لیں کتنی حکومتیں گزر گئی ہیں لیکن اس سسٹم کو پراپر طریقے سے اسے چلایا نہیں جا سکا کیونکہ دیہی علاقوں میں نہ تو مجوزہ طور پر انٹرنیٹ کی سہولت ہے اور نہ ہی بلا تعطل بجلی کی فراہمی کی سہولت ۔ کسان جب بھی بیسیوں میل دور سے دھکے کھاتا جب پٹواریوں کے پاس ان دفاتر میں پہنچتا تو آگے سے کبھی کمپوٹر سسٹم کی خرابی، کبھی انٹرنیٹ کی عدم دستیابی اور کبھی بجلی کی معطلی کا رونا سننے کو ملتا۔ اب تو سونے پر سہاگا ہے کہ تحصیل بھر کے تمام پٹواریوں کو پرائیویٹ دفاتر بند کر کے تحصیل آفس بلایا جا رہا ہے۔ اب گیارہ ارب روپے کے جہازوں میں مفت سفر کرنے والے حکمرانوں اور ائیر کنڈیشنڈ دفاتر میں بیٹھے افسران کو کون سمجھائے کہ جب ٹولہ بھنگی خیل، چاپری، کتکی، ناصری، سلطان خیل جیسے پہاڑی اور دشوار گزار علاقوں سے ایک غریب کسان دھکے کھاتا تحصیل آفس عیسیٰ خیل پہنچے گا تو اس کا کتنا خرچہ ہو گا یا دوسری طرف لائنوں میں لگ کر وہ شام کو واپس گھر چلا جائے گا؟ اور مزے یہ بات یہ ہے کہ یہ افسران صرف احکامات صادر کرنے کے شیر ہیں اور زمینی حقائق کے مطابق کام کرنے سے بھاگتے ہیں ۔ کچھ عرصہ قبل بھی جب حکومت کو اسی طرح کا دورہ ہوا تھا تو پٹواریوں نے اسسٹنٹ کمشنر عیسیٰ خیل کو مشورہ دیا تھا کہ کمرمشانی محلہ تانی خیل میں بر لب سڑک پٹوار خانہ کیلئے مختص اراضی پڑی ہوئی ہے جس پر ایک خستہ حال پرانی بلڈنگ بھی بنی ہوئی ہے اور اگر اس بلڈنگ کو گرا کر اسکا سامان استعمال کیا جائے تو تعمیر پر صرف 5 لاکھ روپے خرچ آئے گا لیکن اس سابق اسسٹنٹ کمشنر نے حسب عادت آنکھیں موند لیں ۔ جبکہ کمرمشانی سے تعلق رکھنے والی ایک کاروباری شخصیت نے آفر کی کہ اُسے اگر فرنٹ پر تین دوکانیں کرایہ پر تعمیر کرنے کی اجازت دے دی جائے تو وہ پیچھے پورا دفتر اپنی جیب سے بنوا کر دے سکتا ہے اور صرف شدہ رقم ان دوکانات کے کرائے سے پوری کر لے گا۔ لیکن اس منصوبہ پر بھی توجہ نہ دی گئی جس کے نتیجہ میں گذشتہ ایک ہفتہ سے تحصیل بھر کے کسان دھکے کھا رہے ہیں، پٹواری سڑکوں پر پھر رہے ہیں جبکہ افسران ائیر کنڈیشنڈ دفاتر میں مزے لوٹ رہے ہیں اور عوام جائے بھاڑ میں۔ مزے کی ایک اور بات بھی ہے کہ انہی پٹواریوں کا ایک دفتر ریسکیو 1122 کمرمشانی کے عقب میں زیر تعمیر ہے جس کی پہلی سٹوری کی چھت بھی مکمل ہے لیکن اس میں نہ صرف کھوتے بسیرا کرتے ہیں بلکہ پوڈریوں کو بیٹھک کے طور پر استعمال کرنے کی سہولت دی جا رہی ہے کیونکہ کافی عرصہ سے اس پر کام فنڈز کی عدم فراہمی کی وجہ سے بند ہے۔ لیکن ڈپٹی کمشنر میانوالی اور ہر اسسٹنٹ کمشنر کے دفاتر کی تزئین و آرائش اور نئی نویلی ریوو گاڑیوں کیلئے فنڈز موجود ہیں لیکن ان عوامی مسائل کیلئے ایک روپیہ بھی موجود نہیں۔ میں حیران ہوں کہ صرف اسی محکمہ ریونیو کے تحصیل عیسیٰ خیل کے صرف ماہانہ انتقالات کی فیسوں کی مد میں ماہانہ کروڑوں روپے عمرو عیار کی کس زنبیل میں جا رہے ہیں۔ پتہ نہیں ہمارے سیاسی راہنما کدھر سو رہے ہیں جن کی آنکھ صرف الیکشن کے دنوں میں کھلے گی جب وہ عوام کو ایک مرتبہ پھر بے بوقوف بنا کر ووٹ حاصل کر لیں گے۔ پتہ نہیں عوام کب جاگے گی؟ پتہ نہیں کسان کب دھکے کھا کھا کر ان افسران سے پوچھیں گے؟ پتہ نہیں کب؟؟ پتہ نہیں کب؟
واپس کریں