عصمت اللہ نیازی
ہمارے معاشرہ میں ایک مشہور لطیفہ سنایا جاتا ہے کہ ایک شخص اپنے دوست کے گھر ملنے گیا۔ دروازے پر دستک دی گئی تو اندر سے معلوم ہوا کہ میزبان صاحب سو رہے ہیں۔ اطلاع دی گئی کہ فلاں صاحب آپ سے ملنے آئے ہیں۔ میزبان نے اپنے چھوٹے بیٹے کو بلایا اور کہا کہ جا کر انکل کو کہہ دو کہ ابو گھر پر نہیں ہیں۔ بچہ دروازہ کھول کر باہر آیا اور معصومیت سے بولا "انکل! ابو کہہ رہے ہیں کہ وہ گھر پر موجود نہیں ہیں۔” ہہ لطیفہ سن کر ہنسی تو آتی ہے مگر درحقیقت اس چھوٹے سے لطیفے میں ہمارے معاشرے کی تربیت کا ایک گہرا فلسفہ چھپا ہوا ہے۔ ہم اپنے بچوں کو سب سے پہلے کیا سکھاتے ہیں؟ سچ یا جھوٹ؟ بدقسمتی سے یہی صورتحال آج ہمارے تعلیمی نظام میں بھی نظر آتی ہے حال ہی میں پنجاب حکومت نے تیل کی بچت کی پالیسی کے تحت صوبہ بھر کے سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں دس دن کی تعطیلات کا اعلان کیا اور ساتھ یہ رعایت بھی دی گئی کہ جہاں سالانہ امتحانات جاری ہوں وہاں سکول کھلے رکھے جا سکتے ہیں۔ اس پالیسی کو کاغذی جواز بنا کر کمرمشانی سمیت کئی نجی سکولوں نے ایک عجیب طریقہ اختیار کر لیا کہ امتحانات پہلے ہی ختم ہو چکے تھے اور نتائج کا اعلان ہونا تھا مگر نتائج روک لئے گئے اور ہر سکول نے ایک جعلی ڈیٹ شیٹ تیار کر لی اور بچوں کو ہدایت دی گئی کہ اگر چیکنگ ٹیم آئے تو کہنا کہ ہمارے امتحانات ہو رہے ہیں۔ سوچنے کی بات یہ ہے کہ جن اداروں میں ہر ماہ ہزاروں روپے فیس وصول کی جاتی ہے وہاں بچوں کو کیا تعلیم دی جا رہی ہے؟ کتابیں رٹوانا یا اخلاقیات؟ یہی المیہ ہمارے معاشرہ کی اصل جڑ ہے کہ ہم بچوں کو نصاب تو پڑھاتے ہیں مگر کردار نہیں سکھاتے۔
کچھ عرصہ پہلے ہمیں کمرمشانی کے ایک نجی سکول میں جانے کا موقع ملا جہاں اسلم خان شادی خیل کو نویں اور دسویں جماعت کے طلبہ کو موٹیویشنل لیکچر دینا تھا جب انہوں نے طلبہ سے سوال کیا کہ ایک اچھے انسان کی کیا نشانیاں ہوتی ہیں تو بچوں کے جواب دلچسپ مگر تشویشناک تھے۔ کسی نے کہا "جو پانچ وقت کا نمازی ہو” کسی نے کہا "جو سفید کپڑے پہنتا ہو اور سر پر ٹوپی رکھتا ہو” کسی نے کہا "جس کی لمبی سفید داڑھی ہو۔” یہ جواب سن کر اندازہ ہوا کہ ہمارے بچوں کو اچھے انسان کی پہچان ظاہری علامتوں تک محدود کر دی گئی ہے حالانکہ دیانت داری، سچائی اور امانت داری جیسے اوصاف کہیں پیچھے رہ گئے ہیں اسی کا نتیجہ ہے کہ ہمارے معاشرہ میں مذہبی علامات کی کمی نہیں مگر خالص دودھ کا ایک کلو ملنا مشکل ہے۔ بازاروں میں کھانے پینے کی اشیاء میں ملاوٹ عام ہے مگر انہی تاجروں میں سے اکثر ہر سال عمرہ ادا کرتے ہیں اور بعض کئی حج بھی کر چکے ہوتے ہیں۔ یہ تضاد دراصل ہماری تربیت کی ناکامی ہے۔ اگر ہم دنیا کے ترقی یافتہ معاشروں کی طرف دیکھیں مثلاً جاپان یا یورپ تو وہاں تعلیم کا بنیادی مقصد صرف معلومات دینا نہیں بلکہ کردار سازی ہوتا ہے۔ جاپان میں پرائمری سکولوں میں ابتدائی جماعتوں تک بچوں کو اخلاقیات اور اجتماعی ذمہ داری سکھانے پر زیادہ زور دیا جاتا ہے وہاں بچے اپنی کلاسیں خود صاف کرتے ہیں تاکہ انہیں محنت اور ذمہ داری کا احساس ہو۔ اساتذہ انہیں سچ بولنے اور اجتماعی مفاد کو ذاتی فائدے پر ترجیح دینے کی تربیت دیتے ہیں۔ اسی طرح یورپی ممالک میں بچوں کو چھوٹی عمر سے ہی قانون کی پابندی، ایمانداری اور سماجی ذمہ داری کا درس دیا جاتا ہے وہاں اگر کوئی طالب علم نقل کرے یا جھوٹ بولے تو اسے صرف تعلیمی غلطی نہیں بلکہ اخلاقی جرم سمجھا جاتا ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے ہاں صورتحال اس کے برعکس ہے۔ یہاں والدین، اساتذہ اور ادارے مل کر غیر محسوس طریقہ سے بچوں کو وہ سبق دے دیتے ہیں جو کسی نصاب میں نہیں لکھا ہوتا۔ جب بچہ دیکھتا ہے کہ بڑوں کیلئے جھوٹ ایک معمولی چیز ہے تو وہ بھی اسے معمول سمجھنے لگتا ہے۔ اصل سوال یہ ہے کہ ہم اپنے بچوں کو کس معاشرہ کیلئے تیار کر رہے ہیں؟ اگر ہم انہیں شروع ہی سے سچائی اور دیانت کی بجائے مصلحت اور جھوٹ سکھائیں گے تو پھر آنے والے کل میں ہم ان سے ایمانداری کی توقع کیسے کر سکتے ہیں؟ معاشرہ کی اصلاح کا آغاز نصاب سے نہیں بلکہ تربیت سے ہوتا ہے جب تک گھر اور سکول دونوں مل کر بچوں کو سچائی اور کردار کی تعلیم نہیں دیں گے تب تک ہمارے تعلیمی ادارے ڈگریاں تو پیدا کرتے رہیں گے مگر اچھے انسان پیدا نہیں کر سکیں گے۔
واپس کریں