خالد خان۔ کالم نگار
جو اقوام ایک منظم ارتقائی عمل سے گزرتے ہوئے تعلیم، تحقیق اور ادارہ جاتی تربیت کے ذریعے ترقی کرتی ہیں، ان میں نہ صرف ٹیکنالوجی کی سمجھ پیدا ہوتی ہے بلکہ ذمہ داری کا شعور بھی پروان چڑھتا ہے۔ اس کے برعکس جب ٹیکنالوجی شعوری ارتقاء کے بغیر کسی معاشرے میں داخل ہوتی ہے تو وہ ترقی کے بجائے انتشار اور زوال کا سبب بن جاتی ہے۔
آج کا سب سے بڑا امتحان سوشل میڈیا ہے—ایک ایسی طاقت جو معلومات بھی ہے، ہتھیار بھی، اور فتنہ بھی۔
ہم ایک ایسے معاشرے میں رہ رہے ہیں جہاں ایک طرف موبائل فون اور انٹرنیٹ عام آدمی کی دسترس میں ہیں، اور دوسری طرف ڈیجیٹل خواندگی تقریباً نہ ہونے کے برابر ہے۔ نتیجہ یہ ہے کہ ایک ایسا معاشرہ تشکیل پا رہا ہے جو معلومات رکھتا ہے مگر ان کی تصدیق کرنے کی صلاحیت نہیں رکھتا۔
سوشل میڈیا نے خبر اور رائے کے درمیان حدیں مٹا دی ہیں۔ ہر شخص رپورٹر بھی ہے، تجزیہ کار بھی، اور کبھی کبھی عدالت بھی۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہر کوئی آواز اٹھاتا ہے، مسئلہ یہ ہے کہ آواز کے ساتھ ذمہ داری کا نظام موجود نہیں۔
آج فیک نیوز ایک عام اصطلاح نہیں بلکہ ایک باقاعدہ سماجی بیماری بن چکی ہے۔ ایک غیر مصدقہ پوسٹ چند منٹوں میں لاکھوں لوگوں تک پہنچ جاتی ہے، جذبات بھڑکاتی ہے، معاشرتی تقسیم پیدا کرتی ہے اور بعض اوقات ریاستی اداروں، اقلیتوں یا افراد کی زندگیوں کو خطرے میں ڈال دیتی ہے۔
مزید تشویشناک بات یہ ہے کہ معلومات کے بجائے “ردعمل” کو اہمیت حاصل ہو چکی ہے۔ تحقیق نہیں، شیئرنگ اہم ہے۔ سچائی نہیں، وائرل ہونا مقصد بن چکا ہے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں سوشل میڈیا بندر کے ہاتھ میں اس استرے کی مانند دکھائی دیتا ہے جس سے وہ نہ صرف خود زخمی ہوتا ہے بلکہ دوسروں کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
ماضی میں غلط معلومات محدود حلقوں تک رہتی تھیں، مگر آج ایک وٹس ایپ گروپ، فیس بک پوسٹ یا ٹوئٹ پورے معاشرے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیل سکتی ہے۔ اس عمل میں سب سے خطرناک کردار ان افراد کا ہے جو بغیر سوچے سمجھے ہر پیغام کو آگے پھیلاتے ہیں۔ وہ خود بھی غیر ذمہ دار ہیں اور غیر ارادی طور پر سماجی انتشار کے معاون بھی۔
اس مسئلے کا ایک پہلو ریاستی حساسیت بھی ہے۔ جھوٹی معلومات نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو متاثر کرتی ہیں بلکہ اداروں پر اعتماد کو بھی کمزور کرتی ہیں۔ اسی طرح انسانی حقوق کے نام پر بعض اوقات ایسے بیانیے بھی فروغ پاتے ہیں جو حقائق سے زیادہ جذبات پر مبنی ہوتے ہیں اور نتیجتاً انصاف کے بجائے انتشار پیدا کرتے ہیں۔
اس کا حل پابندی نہیں، بلکہ تربیت ہے۔ ہمیں ایک ایسے معاشرے کی ضرورت ہے جہاں شہری صرف ٹیکنالوجی استعمال نہ کریں بلکہ اس کے اثرات کو سمجھنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں۔ ڈیجیٹل تعلیم، میڈیا لٹریسی، اور تنقیدی سوچ اب بنیادی ضرورت بن چکی ہے۔
سوشل میڈیا کو مسئلہ نہیں، ایک طاقت سمجھنا چاہیے—لیکن یہ طاقت اسی وقت مفید ہے جب اس کے استعمال کرنے والے باشعور ہوں۔
ورنہ یہ وہی استرا ہے جو ہر فرد کو زخمی کرتا رہے گا۔
واپس کریں