پارلیمنٹ تک ایکسائز کے مالِ مقدمہ گاڑیوں کی غیر قانونی منتقلی
خالد خان۔ کالم نگار
خیبر پختونخوا میں محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن کے زیرِ تحویل مالِ مقدمہ اور نان کسٹم پیڈ گاڑیوں کے مبینہ غیر قانونی استعمال اور تقسیم کا ایک بڑا سکینڈل سامنے آیا ہے، جس نے سرکاری نظام اور قانونی طریقہ کار پر جہاں سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں، وہاں پاکستان تحریک انصاف کے اصل چہرے کو بھی بے نقاب کر دیا ہے۔
سرکاری ریکارڈ کے مطابق سینکڑوں مالِ مقدمہ اور این سی پی گاڑیاں بجائے ویئر ہاؤس میں رکھنے اور نیلامی کے عمل سے گزارنے کے، مخصوص افراد اور بااثر حلقوں میں بانٹ دی گئی ہیں۔
سرکاری خط نمبر 145/IPW/XXIII کے مطابق ایک گاڑی Toyota Prius ماڈل 2019، رجسٹریشن نمبر AUA-145 ضلع کرک سے تعلق رکھنے والے پاکستان تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شاہد خٹک کے نام الاٹ کر دی گئی ہے، جو ان کے زیرِ استعمال ہے۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ اس بابت پشاور ہائی کورٹ کے واضح احکامات موجود ہیں، جس کے تحت مالِ مقدمہ کے طور پر ضبط شدہ گاڑیاں سپرداری پر نہیں دی جا سکتیں بلکہ متعلقہ حکومتی اداروں کے مختص ویئر ہاؤسز میں تکمیلِ مقدمہ اور عدالتی احکامات تک امانتاً کھڑی رہیں گی۔
محکمہ ایکسائز نے بغیر کسی قانون اور سرکاری قواعد و ضوابط کے یہ عمل کیا، جو صریحاً عدالت عالیہ کے حکم کی خلاف ورزی اور سنگین جرم ہے۔
اطلاعات کے مطابق بعض حلقوں کی جانب سے یہ دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے کہ ایسی سینکڑوں گاڑیاں مبینہ طور پر پاکستان تحریک انصاف سے تعلق رکھنے والے مختلف اراکین قومی، صوبائی، سینیٹ اور پارٹی رہنماؤں کے زیرِ استعمال ہیں، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔
دوسری جانب محکمہ ایکسائز یا متعلقہ حکام کی جانب سے اس معاملے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
یہ معاملہ اب ایک بڑے انتظامی اور احتسابی سوال کی شکل اختیار کر چکا ہے، جس پر مطالبہ کیا جا رہا ہے کہ مالِ مقدمہ گاڑیوں کے مکمل ریکارڈ، نیلامی، سپرداری اور استعمال کے تمام پہلوؤں کی آزادانہ اور شفاف تحقیقات کی جائیں تاکہ اصل حقائق سامنے آ سکیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی 160 سے زائد مالِ مقدمہ گاڑیوں سے متعلق بندر بانٹ کی خبر منظرِ عام پر آ چکی ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ مردان، نوشہرہ، چارسدہ، صوابی، ڈی آئی خان، پشاور اور دیگر اضلاع میں آج بھی کئی مالِ مقدمہ گاڑیاں مبینہ طور پر بااثر شخصیات، ان کے رشتہ داروں اور قریبی افراد کے زیرِ استعمال ہیں۔
واپس کریں