مبینہ غیر قانونی حراست، رشوت طلبی اور تشدد کا سنگین کیس
خالد خان۔ کالم نگار
ایبٹ آباد میں ایکسائز اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کے اہلکاروں اور خیبر سے تعلق رکھنے والے پانچ نوجوانوں کے درمیان پیش آنے والا واقعہ اب ایک سنگین کرمنل اور ادارہ جاتی احتساب کیس کی شکل اختیار کر گیا ہے، جس میں مبینہ غیر قانونی حراست، بھتہ طلبی، تشدد اور اختیارات کے غلط استعمال کے الزامات نے پورے نظام پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق پشاور باڑہ سے تعلق رکھنے والے عمران آفریدی ولد حاجی یوسف جان نے تھانہ کینٹ ایبٹ آباد میں درج ایف آئی آر میں مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنے چار ساتھیوں نیک محمد، انعام اللہ، ایاز، اور کامران کے ہمراہ یکم جون 2026 کو ناراں کی طرف جا رہے تھے جب ہزارہ موٹروے کھوکھر میرا کے قریب پہنچے تو یونیفارم میں ملبوس تقریباً دس افراد نے انہیں روکا۔
مدعی کے مطابق اہلکاروں نے خود کو ایکسائز اہلکار ظاہر کرتے ہوئے انہیں زبردستی گاڑی سے اتار کر اپنی گاڑی میں منتقل کیا اور بعد ازاں ایک قریبی ریسٹورنٹ میں لے جا کر مبینہ طور پر گالم گلوچ، بدتمیزی اور 15 لاکھ روپے تک کی رشوت کا مطالبہ کیا۔ شکایت کے مطابق اس دوران ان کے موبائل فونز چھین لیے گئے اور نقد رقم بھی نکالی گئی۔
ایف آئی آر میں مزید کہا گیا ہے کہ رات گئے تک مطلوبہ رقم نہ ملنے پر متاثرہ افراد کو ایکسائز تھانے منتقل کیا گیا جہاں مبینہ طور پر ڈنڈوں سے تشدد کیا گیا اور انہیں غیر قانونی طور پر حبسِ بے جا میں رکھا گیا۔ متاثرین کے مطابق ان کے ایک ساتھی نے وزیر اعلیٰ سیکریٹریٹ سے رابطہ کیا، جس کے بعد صبح تقریباً آٹھ بجے انہیں رہا کیا گیا۔
پولیس نے مقدمہ علت نمبر 669 کے تحت تعزیراتِ پاکستان کی دفعات 341، 342، 506، 160، 337-F(i)، 427 اور 34 کے تحت درج کرکے تفتیش شروع کر دی ہے۔
دوسری جانب متاثرہ نوجوانوں کا یہ بھی مؤقف ہے کہ ان کے پاس تمام سفری دستاویزات اور گاڑی کے قانونی کاغذات موجود تھے اور کسی بھی قسم کی غیر قانونی شے برآمد نہیں ہوئی۔
ادھر ابتدائی رپورٹنگ اور ذرائع کے مطابق اس واقعے کے بعد محکمہ ایکسائز کے ایڈیشنل ایس ایچ او اور سب انسپکٹر نسیم خان کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ وزیر اعلیٰ کے حکم پر فوری طور پر انہیں معطل کرنے کے احکامات بھی جاری کیے گئے ہیں۔ محکمہ ایکسائز نے واقعے کی محکمانہ انکوائری بھی شروع کر دی ہے۔
دوسری طرف محکمہ ایکسائز کے بعض ذرائع کا مؤقف ہے کہ کارروائی ایک مشکوک گاڑی اور انٹیلیجنس رپورٹ کی بنیاد پر کی گئی تھی اور ابتدائی طور پر منشیات سمگلنگ کا شبہ ظاہر کیا گیا تھا، تاہم اس مؤقف کی آزادانہ تصدیق تاحال نہیں ہو سکی۔ اسی طرح موبائل فونز سے مبینہ شواہد ملنے کے دعوے بھی سامنے آئے ہیں، جن کی فرانزک تفصیلات ظاہر نہیں کی گئیں۔
اہم پہلو یہ ہے کہ اگر یہ کارروائی باقاعدہ انٹیلیجنس یا انسداد منشیات آپریشن تھی تو اس کا ایف آئی آر، گرفتاری ریکارڈ اور قانونی پروسیجر کہاں ہے، اور اگر نہیں تھی تو پھر ریاستی اختیار کے تحت شہریوں کی مبینہ غیر قانونی حراست اور تشدد کا یہ عمل کس اتھارٹی کے تحت انجام دیا گیا۔
یہ پورا معاملہ اس وقت دو متضاد بیانیوں میں تقسیم ہے: ایک طرف سرکاری کارروائی اور مشکوک سرگرمی کا دعویٰ، جبکہ دوسری طرف غیر قانونی حراست، رشوت طلبی اور تشدد کے سنگین الزامات۔
فی الحال کیس کی اصل حقیقت پولیس تفتیش، محکمانہ انکوائری اور ممکنہ عدالتی کارروائی کے نتائج سے مشروط ہے، تاہم یہ واقعہ ریاستی اداروں میں اختیارات کے استعمال، نگرانی اور جوابدہی کے نظام پر سنجیدہ سوالات ضرور اٹھا رہا ہے۔
واپس کریں