دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مبینہ غیر قانونی حراست، تشدد اور دباؤ کا الزام، متضاد دعوؤں نے کیس کو ہلا کر رکھ دیا
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
ضلع خیبر سے تعلق رکھنے والے پانچ نوجوانوں اور خیبر پختونخوا ایکسائز اینڈ نارکوٹکس کنٹرول کے اہلکاروں کے درمیان پیش آنے والا واقعہ سنگین الزامات اور متضاد بیانات کے باعث ایک ہائی پروفائل تنازع میں تبدیل ہو گیا ہے، جس میں مبینہ طور پر غیر قانونی حراست، تشدد، رشوت طلبی اور سیاسی دباؤ جیسے دعوے سامنے آئے ہیں۔
متاثرہ نوجوانوں عمران آفریدی، انعام اللہ، نیک محمد، کامران آفریدی اور محمد ایاز کا مؤقف ہے کہ وہ سیاحت کے لیے ہزارہ ڈویژن گئے تھے جب مبینہ طور پر ان کی گاڑی کو روکا گیا اور انہیں کسی باقاعدہ تھانے یا قانونی ریکارڈ کے بغیر ایک ہوٹل منتقل کر دیا گیا۔ متاثرین کے مطابق انہیں کئی گھنٹے تک حراست میں رکھا گیا جہاں مبینہ طور پر شدید تشدد کیا گیا اور 25 لاکھ روپے تک کا مطالبہ بھی سامنے آیا۔
متاثرین کا دعویٰ ہے کہ ان کے پاس گاڑی کے تمام قانونی کاغذات موجود تھے اور کوئی غیر قانونی شے برآمد نہیں ہوئی، جبکہ اس پورے عمل کی نہ تو کوئی ایف آئی آر درج کی گئی اور نہ ہی گرفتاری کا کوئی باضابطہ ریکارڈ موجود ہے۔ ان کے مطابق بعد ازاں انہیں اچانک چھوڑ دیا گیا۔
یہی نکتہ اس کیس کا سب سے بڑا سوال بن کر سامنے آ رہا ہے کہ اگر گرفتاری مبینہ طور پر انٹیلیجنس معلومات یا مشکوک سرگرمی کی بنیاد پر تھی تو پھر نہ ایف آئی آر درج ہوئی، نہ عدالتی کارروائی شروع ہوئی، اور نہ ہی کسی باضابطہ تفتیشی عمل کا آغاز کیا گیا۔
دوسری جانب محکمہ ایکسائز کے بعض ذرائع اور معطل اہلکاروں کے مؤقف کے مطابق کارروائی ایک مشکوک گاڑی اور انٹیلیجنس رپورٹ پر کی گئی تھی، اور ابتدائی طور پر یہ شبہ ظاہر کیا گیا کہ گرفتار افراد مبینہ منشیات سمگلنگ میں ملوث ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان ذرائع کے مطابق بعد ازاں ان افراد کی رہائی “بیرونی دباؤ” کے باعث عمل میں آئی۔
اہم بات یہ ہے کہ انہی اہلکاروں کی جانب سے یہ بھی دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ زیرِ تفتیش موبائل فونز سے منشیات سے متعلق مبینہ شواہد سامنے آئے تھے، تاہم اس دعوے کی آزادانہ تصدیق یا فرانزک تفصیلات تاحال سامنے نہیں آ سکیں۔
اسی واقعے کے بعد بعض اہلکاروں کی معطلی کی اطلاعات بھی ہیں، تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا اس حوالے سے کوئی باقاعدہ انکوائری کمیٹی تشکیل دی گئی ہے یا نہیں، اور نہ ہی معطلی کی وجوہات سرکاری طور پر تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔
ادھر متاثرین اپنے مؤقف پر قائم ہیں کہ یہ کارروائی نہ صرف غیر قانونی تھی بلکہ اس دوران مبینہ طور پر طاقت کا غلط استعمال، تشدد اور مالی مطالبات کیے گئے۔ ان کے مطابق تشدد کی ویڈیوز، تصاویر اور میڈیکل رپورٹ ان کے دعوؤں کی تائید کرتی ہیں۔
یہ پورا معاملہ اب ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکا ہے جہاں دو بالکل متضاد بیانیے موجود ہیں—ایک طرف مبینہ طور پر منشیات اور انٹیلیجنس بنیادوں پر کارروائی کا دعویٰ، اور دوسری طرف بغیر کسی قانونی ریکارڈ کے حراست، تشدد اور رشوت طلبی کے سنگین الزامات۔
فی الحال اصل سوال یہ ہے کہ اگر یہ کارروائی قانونی تھی تو اس کا باضابطہ ریکارڈ کہاں ہے، اور اگر غیر قانونی تھی تو یہ عمل کس اختیار اور کس طریقہ کار کے تحت انجام دیا گیا۔
معاملہ تاحال تفتیشی وضاحت اور آزادانہ تصدیق کا منتظر ہے۔
واپس کریں