دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
صحافتی عیدی، تردید اور ایک برہنہ سوال
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
خیبر پختونخوا میں حالیہ دنوں ایک ایسا معاملہ سامنے آیا جس نے ایک بار پھر سوشل میڈیا، صحافت اور ریاستی بیانیے کے درمیان اعتماد کی لکیر کو متنازع بنا دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر ایک مبینہ سرکاری نوٹیفکیشن تیزی سے وائرل ہوا جس میں یہ دعویٰ کیا گیا کہ وزیر اعلیٰ کی سوشل میڈیا ٹیم اور بعض میڈیا سے وابستہ افراد کے لیے سرکاری خزانے سے ماہانہ ادائیگیوں کی منظوری دی گئی ہے۔ اس دستاویز میں مختلف نام اور مبینہ رقوم درج تھیں اور مجموعی رقم تقریباً پینتالیس لاکھ روپے ماہانہ بتائی گئی۔
یہ خبر وائرل ہوتے ہی ایک وسیع عوامی بحث میں تبدیل ہو گئی۔ بعض حلقوں نے اسے سرکاری وسائل کے استعمال اور میڈیا مینجمنٹ سے جوڑ کر دیکھا، جبکہ دیگر نے اس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا کہ اگر یہ درست ہے تو اس کی قانونی اور اخلاقی بنیاد کیا ہے۔
تاہم صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ ہو گئی جب حکومت خیبر پختونخوا اور محکمہ اطلاعات و تعلقات عامہ کی جانب سے باضابطہ تردیدی بیان جاری کیا گیا۔ سرکاری مؤقف کے مطابق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والا نوٹس جعلی اور من گھڑت ہے، ایسا کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا، اور عوام کو غیر مصدقہ معلومات پر یقین نہیں کرنا چاہیے۔
یہاں تک معاملہ ایک معمول کی خبر اور سرکاری تردید کے دائرے میں رہتا ہے، مگر اس کے فوراً بعد پشاور پریس کلب کی جانب سے بھی سخت ردعمل سامنے آیا۔ پریس کلب نے ان دعوؤں کو مکمل طور پر جھوٹ، من گھڑت اور صحافیوں کی کردار کشی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے کسی عہدیدار یا رکن کو کسی قسم کی کوئی سرکاری ادائیگی یا مراعات حاصل نہیں ہوئیں۔ پریس کلب نے ان الزامات کو صحافتی برادری کے خلاف منظم مہم قرار دیتے ہوئے متعلقہ عناصر کے خلاف NCCIA میں قانونی کارروائی کا اعلان بھی کیا ہے۔
یوں یہ معاملہ اب ایک سادہ نوٹیفکیشن کے تنازع سے نکل کر ایک ادارہ جاتی تصادم کی شکل اختیار کر چکا ہے، جہاں ایک طرف وائرل ہونے والی دستاویز ہے، دوسری طرف حکومت کی تردید، اور تیسری طرف پریس کلب کی سختی سے کی گئی تردید اور قانونی چارہ جوئی کا اعلان۔
یہ تمام بیانات اپنی اپنی جگہ موجود ہیں، مگر اس شور میں چند بنیادی سوالات اب بھی اپنی جگہ قائم ہیں۔
اگر وائرل ہونے والی دستاویز جعلی تھی تو اسے تیار کرنے والے کون ہیں؟ کیا ریاستی اداروں نے اس کے پیچھے موجود عناصر تک پہنچنے کے لیے کوئی باضابطہ تحقیقات شروع کی ہیں؟ اور اگر یہ ایک منظم جعلی مہم تھی تو اس کے محرکات کیا تھے؟
کیونکہ اگر کوئی شخص یا گروہ سرکاری لیٹرہیڈ، ناموں اور مالی اعداد و شمار کے ساتھ ایک مکمل دستاویز تیار کر کے اسے بڑے پیمانے پر پھیلا سکتا ہے تو یہ صرف ایک سوشل میڈیا مسئلہ نہیں بلکہ ادارہ جاتی ساکھ اور معلوماتی تحفظ کا سنگین سوال ہے۔
اسی طرح ایک اور پہلو بھی اس بحث سے جڑا ہوا ہے، اور وہ یہ کہ ایسے معاملات میں صرف تردید کافی کیوں سمجھی جاتی ہے؟ کیا شفافیت کا تقاضا یہ نہیں کہ حکومت اور متعلقہ ادارے نہ صرف وضاحت دیں بلکہ اس پورے سلسلے کی تہہ تک جائیں تاکہ اصل حقیقت سامنے آ سکے؟
یہ معاملہ اس لیے بھی اہم ہے کہ اس میں صحافتی برادری کے بعض نام بھی مبینہ طور پر وائرل دستاویز میں شامل تھے۔ اگر حکومت اور پریس کلب دونوں یہ مؤقف رکھتے ہیں کہ یہ دستاویز جعلی ہے تو پھر یہ سوال مزید اہم ہو جاتا ہے کہ ان ناموں کے استعمال سے جن افراد کی ساکھ متاثر ہوئی، اس کا ازالہ کس سطح پر ہوگا؟
آخرکار اصل مسئلہ کسی ایک نوٹیفکیشن کا نہیں بلکہ اعتماد کا ہے۔ ریاستی بیانیہ، صحافتی ادارے اور سوشل میڈیا تینوں اس وقت ایک ایسے چکر میں نظر آتے ہیں جہاں خبر، تردید اور ردعمل کے درمیان حقیقت کہیں دھندلا جاتی ہے۔ اور ایسے میں سب سے بڑا سوال یہی رہ جاتا ہے کہ اگر سب فریق اپنے اپنے مؤقف پر قائم ہیں تو پھر اصل حقیقت عوام تک کیسے پہنچے گی؟
جمہوری معاشروں میں سوالات کو دبایا نہیں جاتا، ان کے جواب دیے جاتے ہیں۔ اور شاید اس پورے معاملے کا سب سے برہنہ سوال بھی یہی ہے۔
واپس کریں