مسلسل تیسری حکومت تبدیلی کے جھوٹے دعوے اور مال بناؤ مقابلہ
خالد خان۔ کالم نگار
دنیا کی تاریخ گواہ ہے کہ قومیں نعروں، جلسوں، سوشل میڈیا مہمات یا دلکش تقاریر سے ترقی نہیں کرتیں بلکہ اچھی حکمرانی، مضبوط اداروں، قانون کے یکساں نفاذ، شفاف احتساب اور عوامی خدمت کے ذریعے آگے بڑھتی ہیں۔ حکومتیں بدلتی رہتی ہیں، سیاسی جماعتیں آتی جاتی رہتی ہیں، مگر کسی بھی معاشرے کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہوتا ہے کہ عام آدمی کی زندگی میں کتنا مثبت فرق آیا، اس کے مسائل کتنے کم ہوئے، اس کے بچوں کو بہتر تعلیم ملی یا نہیں، اسے معیاری علاج میسر آیا یا نہیں، اسے انصاف ملا یا نہیں، اور ریاست نے اسے عزت، تحفظ اور مواقع فراہم کیے یا نہیں۔
خیبر پختونخوا میں پاکستان تحریک انصاف کو ایک، دو یا تین سال نہیں بلکہ مسلسل تیرہ برس سے زیادہ عرصہ حکومت کرنے کا موقع ملا۔ پرویز خٹک سے لے کر محمود خان، علی امین گنڈاپور اور اب سہیل آفریدی تک اقتدار کا تسلسل موجود رہا۔ اسمبلی میں مؤثر اپوزیشن نہ ہونے کے برابر رہی، سیاسی مزاحمت محدود رہی، اور عوام نے بار بار اعتماد کا اظہار کیا۔ ایسی صورتحال میں اگر کوئی حکومت اپنی کارکردگی کا جواز وسائل کی کمی، سیاسی رکاوٹوں یا مخالفین کی سازشوں میں تلاش کرے تو یہ دلیل کمزور محسوس ہوتی ہے، کیونکہ طویل اقتدار خود ایک غیر معمولی موقع ہوتا ہے۔
تحریک انصاف نے اقتدار میں آنے سے قبل تبدیلی، انصاف، احتساب، میرٹ، شفافیت اور جدید حکمرانی کے بلند و بانگ دعوے کیے تھے۔ عوام کو بتایا گیا تھا کہ ایک نیا نظام وجود میں آئے گا، سرکاری ادارے سیاسی مداخلت سے پاک ہوں گے، کرپشن کا خاتمہ ہوگا، تعلیم اور صحت میں انقلاب آئے گا اور خیبر پختونخوا پورے ملک کے لیے ایک ماڈل بن جائے گا۔ سوال یہ ہے کہ آج تیرہ برس بعد عام شہری اپنی زندگی کو دیکھ کر کیا محسوس کرتا ہے؟
اگر کسی قانون کی کتاب میں موجودگی کو کامیابی کا معیار قرار دیا جائے تو شاید ہر حکومت خود کو کامیاب ثابت کر سکتی ہے۔ دنیا بھر میں اچھے قوانین بنتے ہیں۔ اصل سوال قانون نہیں بلکہ اس کا نفاذ ہوتا ہے۔ اگر معلومات تک رسائی کا قانون موجود ہو لیکن شہری اور صحافی معلومات کے حصول کے لیے دروازے کھٹکھٹاتے رہ جائیں، درخواستوں کے جواب نہ ملیں اور سرکاری ادارے جوابدہی سے بچتے رہیں تو قانون کاغذ کا ایک ٹکڑا بن کر رہ جاتا ہے۔ اگر پولیس اصلاحات کے دعوے ہوں لیکن عوام خود کو محفوظ محسوس نہ کریں، جرائم، بدامنی، سٹریٹ کرائم، اختیارات کے غلط استعمال اور احتساب کے بارے میں سوالات مسلسل موجود رہیں تو اصلاحات کے سرکاری دعوے عوامی تجربے کے سامنے اپنی اہمیت کھو دیتے ہیں۔
اسی طرح صحت کے شعبے کو دیکھ لیا جائے۔ اگر بڑے بڑے منصوبوں اور اشتہارات کے باوجود ہسپتالوں کے برآمدوں میں مریض فرش پر پڑے ہوں، علاج کے انتظار میں اذیت برداشت کر رہے ہوں، ادویات کی کمی ہو، طبی عملہ دباؤ کا شکار ہو اور غریب آدمی اپنی بیماری سے زیادہ نظام کی بے حسی سے لڑ رہا ہو تو کامیابی کے سرکاری دعوے عوام کے زخموں پر مرہم نہیں بن سکتے۔ تعلیم کا شعبہ بھی اسی تلخ حقیقت کی عکاسی کرتا ہے۔ اگر جامعات مالی بحران کا شکار ہوں، اساتذہ اور ملازمین تنخواہوں کے لیے احتجاج پر مجبور ہوں، تحقیق اور علمی ترقی کے بجائے بقا کی جنگ لڑ رہے ہوں تو مستقبل کی تعمیر کے دعوے کھوکھلے محسوس ہوتے ہیں۔
اصل مسئلہ یہ نہیں کہ کوئی سڑک بنی یا کوئی عمارت تعمیر ہوئی۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کیا ریاستی اداروں کی مجموعی کارکردگی بہتر ہوئی؟ کیا عام شہری کے لیے زندگی آسان ہوئی؟ کیا نوجوانوں کو روزگار ملا؟ کیا سرمایہ کاری بڑھی؟ کیا صنعتوں کا دائرہ وسیع ہوا؟ کیا سرکاری خدمات کے معیار میں واضح اور مستقل بہتری آئی؟ اگر ان بنیادی سوالات کے جوابات تسلی بخش نہ ہوں تو حکومت کی کامیابی کے دعوے کمزور پڑ جاتے ہیں۔
افسوسناک حقیقت یہ ہے کہ پاکستان میں سیاست کا بڑا حصہ عوامی خدمت کے بجائے اقتدار کے حصول اور اس کے فوائد کے گرد گھومتا نظر آتا ہے۔ نظریات، منشور اور وعدے اکثر انتخابی مہم تک محدود رہ جاتے ہیں۔ اقتدار ملنے کے بعد توجہ عوامی مسائل سے زیادہ سیاسی وفاداریوں، گروہ بندیوں، مراعات اور وسائل کی تقسیم پر مرکوز ہو جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عوام کے سامنے بار بار تبدیلی کے خواب پیش کیے جاتے ہیں لیکن ان خوابوں کی تعبیر نظر نہیں آتی۔
یہ تنقید کسی ایک جماعت تک محدود نہیں ہونی چاہیے۔ ہر حکومت، ہر سیاسی جماعت اور ہر منتخب نمائندے کو اسی پیمانے پر جانچا جانا چاہیے۔ لیکن چونکہ خیبر پختونخوا میں تحریک انصاف کو سب سے زیادہ اور مسلسل موقع ملا ہے، اس لیے اس سے سوال بھی زیادہ ہوں گے اور احتساب کا معیار بھی بلند ہوگا۔ جتنا بڑا دعویٰ ہوگا، اتنا ہی بڑا حساب بھی دینا پڑے گا۔
انسانیت کی فلاح کا تقاضا یہی ہے کہ ہم شخصیات، نعروں اور جماعتی وابستگیوں سے بالاتر ہو کر نتائج کو دیکھیں۔ عوام کو بہتر زندگی چاہیے، بہتر تعلیم چاہیے، بہتر علاج چاہیے، امن چاہیے، انصاف چاہیے اور روزگار چاہیے۔ اگر کوئی حکومت یہ اہداف حاصل کرنے میں کامیاب ہو تو اسے سراہا جانا چاہیے، اور اگر ناکام ہو تو اس پر سوال اٹھانا بھی عوام کا حق ہے۔ جمہوریت کا حسن بھی یہی ہے کہ اقتدار امانت سمجھا جائے، کارکردگی کی بنیاد پر جانچا جائے اور عوامی مفاد کو ہر سیاسی مصلحت پر ترجیح دی جائے۔ جب تک ہماری سیاست خدمت کے بجائے اقتدار اور نظام عوام کے بجائے اشرافیہ کے گرد گھومتا رہے گا، تبدیلی کے دعوے بلند ہوتے رہیں گے لیکن عام آدمی کی زندگی میں حقیقی تبدیلی ایک خواب ہی بنی رہے گی۔
واپس کریں