پولیس شہداء کے معاوضے اور مراعات: بڑھتے واقعات، کمزور ہوتی عملداری اور سوالات
خالد خان۔ کالم نگار
خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں حالیہ دنوں کے دوران پولیس اہلکاروں پر حملوں اور شہادت کے واقعات میں اضافہ ایک بار پھر ریاستی نظام، وسائل کی تقسیم اور شہداء پالیسی کے عملی نفاذ پر سنگین سوالات کھڑے کر رہا ہے۔
مقامی اطلاعات کے مطابق مختلف اضلاع میں پولیس اہلکاروں کی شہادت کے بعد فوری سرکاری ردعمل اور مالی معاونت یا شہداء پیکج سے متعلق واضح اعلانات پہلے کے مقابلے میں کم نظر آ رہے ہیں۔ تاہم اس حوالے سے باضابطہ اور جامع سرکاری اعداد و شمار یا مکمل تفصیلات عوامی سطح پر کم دستیاب ہیں۔
قانونی طور پر پاکستان میں پولیس شہداء کے لیے خصوصی مراعات اور مالی معاوضے کا ایک نظام موجود ہے، جس میں وفاقی اور صوبائی سطح پر مختلف پیکجز، تنخواہوں کی ادائیگی، بچوں کی کفالت، اور بعض صورتوں میں ملازمتوں کی فراہمی بھی شامل ہوتی ہے۔ لیکن زمینی سطح پر ان پالیسیوں کے نفاذ میں تاخیر، پیچیدہ طریقہ کار اور ادارہ جاتی رکاوٹوں کی شکایات وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہیں۔
حالیہ صورتحال میں ایک اہم نکتہ یہ سامنے آ رہا ہے کہ پولیس روزانہ کی بنیاد پر شہداء دے رہی ہے، تاہم اس کے باوجود فورس کا مورال اور جذبہ برقرار نظر آتا ہے۔ اس کے برعکس صوبائی حکومت کے مالی و انتظامی وسائل اور ترجیحات کے حوالے سے سوالات جنم لے رہے ہیں کہ آیا شہداء کے لیے مختص وسائل اور پیکیجز موجودہ رفتار سے فراہم کیے جا رہے ہیں یا نہیں۔ بعض حلقوں کے مطابق حالیہ عرصے میں باقاعدہ شہداء پیکیج کے اعلانات میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جس پر بحث جاری ہے۔
اسی تناظر میں یہ سوال بھی اٹھایا جا رہا ہے کہ ایک طرف بعض غیر ترقیاتی اور کم ترجیحی اخراجات میں اضافہ نظر آتا ہے، جبکہ دوسری جانب امن و امان کی صورتحال، پولیس کی قربانیوں اور شہداء کے اہل خانہ کی معاونت کے معاملات زیادہ توجہ کے متقاضی ہیں۔ یہ صورتحال حکومتی ترجیحات پر ایک سنجیدہ احتسابی بحث کو جنم دے رہی ہے۔
مزید یہ بھی بحث کا حصہ ہے کہ فنڈز کی تقسیم، استعمال اور شفافیت کے طریقہ کار میں بہتری کی ضرورت ہے تاکہ وسائل کا رخ براہ راست ان شعبوں کی طرف ہو جو مسلسل دباؤ میں ہیں، خصوصاً پولیس فورس اور اس کے شہداء کے خاندان۔
ذرائع کے مطابق بعض کیسز میں معاوضہ جاتی کارروائیوں میں تاخیر کی وجوہات بجٹ کی منظوری کے مراحل، انتظامی فائل ورک، اور مختلف اداروں کے درمیان رابطہ کاری کے مسائل بتائی جاتی ہیں۔ تاہم ان دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر شہداء کے خاندانوں کو بروقت اور شفاف انداز میں مراعات نہ ملیں تو اس کا براہ راست اثر فورس کے مورال اور عوامی اعتماد دونوں پر پڑتا ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ صرف فنڈز کا نہیں بلکہ عملدرآمد، ترجیحات اور شفافیت کے نظام کا بھی ہے۔
موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ پولیس شہداء کے معاوضوں، فنڈز کی دستیابی، حکومتی ترجیحات اور ادائیگی کے طریقہ کار پر ایک جامع اور شفاف احتسابی جائزہ لیا جائے تاکہ نہ صرف متاثرہ خاندانوں کی فوری داد رسی ممکن ہو بلکہ اداروں پر عوامی اعتماد بھی برقرار رہے۔
واپس کریں