دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جس 8 فروری کا شور سنتے تھے، وہ بھی گزر گیا۔
طاہر سواتی
طاہر سواتی
حیدر علی آتش نے کہا تھا:
بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا
جس 8 فروری کا شور سنتے تھے، وہ بھی گزر گیا۔
پنجاب میں تو خیر حالت یہ تھی کہ لال حویلی کے وہ دکانیں، جن کا کرایہ شیخ رشید وصول کرتے ہیں، وہ بھی کھلی رہیں، بنی گالا پورا کھلا رہا۔لیکن خیبر پختونخوا، جہاں ان کی صوبائی حکومت ہے، وہاں سہیل آفریدی کے حکم پر انتظامیہ نے مکمل سہولت کاری کرتے ہوئے مختلف مقامات پر زبردستی بازار بند کرانے کی کوشش کی، جو ناکام رہی۔
ہمارے علاقے چکدرہ، ملاکنڈ میں پی ٹی آئی نے انتظامیہ کی آشیرباد سے زبردستی دکانیں بند کرانے کی کوشش کی۔ انجمنِ تاجران کے رہنما فیض الغفور کے بیٹے پر تشدد کیا ، جس کے خلاف انجمنِ تاجران نے احتجاج کیا اور پی ٹی آئی مردہ باد کے نعرے لگائے۔ پی ٹی آئی کے ایم پی اے ہمایون خان کو تقریر ادھوری چھوڑ کر بھاگنا پڑا۔
ایک پراپرٹی سے وابستہ یوتھئے نے کل پوسٹ لگائی تھی کہ “کل میرا آفس بند رہے گا”، جس پر ایک دل جلے نے خوبصورت ضرب المثل لکھی:
“پہ یو ہندو بٹ خیلہ نہ ورانیگی”
یعنی ایک ہندو کے جانے سے بٹ خیلہ برباد نہیں ہوگا۔
بٹ خیلہ پاکستان کا سب سے لمبا بازار ہے۔
آج یہ بازار مکمل طور پر کھلا رہا۔
مانسہرہ میں بھی زبردستی دکانیں بند کرانے کی کوشش کی گئی، جسے انجمنِ تاجران نے ناکام بنا دیا۔
وزیرِ اعلیٰ سہیل آفریدی کے آبائی حلقے باڑہ اور شفیق جان کے حلقے کوہاٹ کے تاجروں نے ان کے احتجاج کو مسترد کر دیا۔
اسد قیصر کا صوابی بازار مکمل کھلا رہا۔ پشاور، مردان، نوشہرہ، مینگورہ، تیمرگرہ، اپر دیر الغرض پورے خیبر پختونخوا میں 90 فیصد لوگوں نے انہیں مسترد کر دیا۔
بلکہ عام طور پر جن علاقوں میں اتوار کے روز دکانیں بند ہوتی ہیں، آج انہوں نے بھی ضد میں آ کر اپنی دکانیں کھول دیں۔
دوسری جانب، تمام تر پروپیگنڈے کے باوجود جشنِ بسنت بخیریت اور کامیابی سے ہمکنار ہوا۔
علیمہ خان نے پی ٹی آئی کارکنان سے کہا تھا کہ:
“آج کے دن کچھ بڑا کرنا ہے۔”
سب سے پہلے ان کے فرزند نے اس پر عمل کیا اور لاہور میں فیملی سمیت بسنت منائی۔
فواد چوہدری اور ہبا فواد بھی دھوم دھام سے بسنت منا رہے تھے ۔
پی ٹی آئی کے وکیل اظہر صدیق جس نے بسنت کے خلاف پٹیشن دائر کی تھی وہ خود پتنگیں خریدنے اور بسنت منانے پہنچ گئے ، کہتے ہیں میں اپنا بچپن تو نہیں بھول سکتا ،
حامد میر بسنت کے رنگ میں بھنگ ڈالنے والے سب سے پہلے صحافی تھے۔ یہ لیگیوں کے پرانے ویڈیو کلپس چلاتے ہیں کہ آپ نے فلاں سال یہ کہا تھا، لیکن خود سب سے پہلے بسنت منانے پہنچے۔ بلکہ پتنگ اڑانے کے ساتھ ساتھ ڈھول بھی بجایا۔ یہ صحافت کا عمران نیازی ہے۔ عبداللہ بن ابی کے یہ پیروکار پی ٹی کلٹ سے بھی زیادہ خطرناک ہیں۔
امریکی سفارت خانے کے اہلکار اور برطانوی ہائی کمشنر جین میریٹ خود لاہور جا کر بسنت مناتے نظر آئے۔
ایک جانب پی ٹی آئی والے عام دکانیں بند کرا کے یہ دلیل دیتے ہیں کہ اس سے حکومتی نظام مفلوج ہوگا، پہیہ جام ہوگا اور معیشت رک جائے گی، لیکن دوسری جانب کہتے ہیں کہ بسنت سے عام لوگوں کو کیا فائدہ؟
اگر پہیہ جام معیشت روکتی ہے تو بسنت جیسی صحت مند سرگرمیوں سے معیشت کا پہیہ چلتا ہے۔
سماء نیوز کے مطابق ایک ارب روپے سے زائد کی پتنگیں فروخت ہوئیں۔
اندرونِ لاہور میں گھروں کی چھتیں دو دو لاکھ روپے تک میں بکیں۔
لاہور میں تقریباً 2000 ہوٹل ہیں۔ اگر ایک ہوٹل میں اوسطاً 20 کمرے ہوں تو کل 40 ہزار کمرے بنتے ہیں۔ اگر ان میں سے 10 ہزار روپے میں ایک کمرہ بھی بک ہو تو صرف ہوٹلوں کی آمدن 40 کروڑ بنتی ہے۔
جبکہ فور، تھری اور فائیو اسٹار ہوٹلوں کے 20 سے 40 ہزار روپے کرائے والے کمرے ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے میں بک گئے۔
پھر لوگوں نے دو یا تین وقت کھانا کھایا، جس سے اربوں روپے ریسٹورنٹس اور فاسٹ فوڈ پر خرچ ہوئے۔ مکئی کے چھلے سے لے کر گنڈیری تک ہر ریڑھی والے کا کاروبار چلا۔
لوگوں نے بسنت کے لیے خاص کپڑے بنوائے، پتنگ، ڈور، موسیقی، کار رینٹل، ٹیکسی سروسز وغیرہ کا استعمال ہوا۔پنجاب میں تین دنوں کے دوران نو لاکھ گاڑیاں داخل ہوئیں۔
ایک محتاط اندازے کے مطابق ان تین دنوں میں لاہور کی کاروباری سرگرمیوں میں کم از کم 15 سے 20 ارب روپے شامل ہوئے۔یہ سارا پیسہ ایلیٹ کلاس کے بینک اکاؤنٹس سے نکل کرٗ غریب کی جیب میں گیا۔
اس کاروباری سرگرمی سے حکومت کو ٹیکس ملا،
بسنت جیسی خوشیوں سے بھرپور سرگرمیاں نفرت، انتہا پسندی اور دہشت گردی کے سائے میں دبے ہوئے معاشرے کو زندگی، رنگوں اور امید کی روشنی کی طرف واپس لے آتی ہیں، اور ہمیں دوبارہ ایک پُرامن، اور معتدل معاشرہ بننے کا حوصلہ دیتی ہیں۔
اگر اگلے سال اسے اسی طرح منظم طریقے سے منانے کی کوشش کی گئی تو یہ بین الاقوامی سطح پر پاکستان کا ایک روشن چہرہ دکھائے گا، اور بڑی تعداد میں غیر ملکی سیاح اسے منانے آئیں گے۔
یہ سیاحت کا ایک نیا باب ہوگا۔
واپس کریں