طاہر سواتی
مہاتما نیازی ہمیشہ اس ملک میں امیر اور غریب کے لیے جدا جدا قوانین ختم کرنے کا بھاشن دیتا رہا، لیکن اپنی باری پر وہ اور اس کی جماعت ہمیشہ اپنے لیے خصوصی درجے کا مطالبہ کرتے رہے۔
اب جیل کا قانون تو کسی قیدی کو مہینے میں دو ملاقاتوں کی اجازت دیتا ہے، لیکن اسلام آباد ہائیکورٹ کے سہولت کار ججوں نے مہاتما کے لیے ہفتے میں دو ملاقاتوں کا حکم جاری کیا تھا۔ جب اٹارنی جنرل نے اس کے خلاف عدالت میں جیل قوانین کا حوالہ دیا تو ان انصاف پسند ججوں نے کہا
: "اِسے ایک طرف رکھو۔"
کیونکہ وہ کوئی عام قیدی نہیں ہماری ملیحاؤں کا کرش ہے۔
جیل قوانین کو ایک طرف رکھنے کا نتیجہ یہ نکلا کہ اڈیالا جیل، جیل کی بجائے انصاف کا ایک ایسا دفتر بن گیا، جہاں وزیر اعلیٰ سے لے کر ایم این اے اور ایم پی اے تک پارٹی کے ہر رہنما کو آکر بائیو میٹرک لگوانے پر مجبور ہونا پڑتا تھا۔
ہر ہفتے وکلا، فیملی اور سیاسی لوگوں کا میلہ لگا رہتا تھا۔ اور ہر ملاقات میں ڈٹ کر کھڑے کپتان کا ایک ہی مطالبہ ہوتا تھا کہ میری رہائی کے لیے کچھ کرو۔
گنڈا پور گزشتہ ڈیڑھ سال سے ادھر ڈوبا ادھر نکلا کا ناٹک کر کے کارکنان کو لیڈر کے رہائی کے لارے دیتا رہا۔ جب وہ آخر کار بالکل بے بس ہو کر ہاتھ کھڑے کر گیا تو مہاتما نے اسے ہٹا کر اقتدار کے ہما کو سہیل آفریدی کے سر پر بٹھا دیا ،
اب آفریدی لیڈر کی رہائی کی دھائی کے علاوہ کچھ کر ہی نہیں سکتا، کیونکہ اس کرسی کی پہلی اور آخری شرط ہی یہی رکھی گئی تھی۔
یہ مہاتما کا مطالبہ ہے کہ بِلا شبہ خیبر پختونخوا کے چار کروڑ کیڑے مکوڑوں پر سیلاب آئے یا کوئی مصیبت کا پہاڑ ٹوٹے، پہلے مجھے اس مصیبت سے نکالو۔ اس کے باوجود کچھ زومبیز یوتھ اس قسم کے خود غرض لیڈر کے ساتھ اپنی تمام امیدیں وابستہ کیے بیٹھے ہیں۔
سہیل آفریدی کے وزیر اعلیٰ منتخب ہونے کے بعد، وزیر اعظم شہباز شریف نے اسے فون کر کے مبارکباد دی اور صوبے کے مسائل کے لیے ہر قسم کے تعاون کی پیشکش کی۔ اس "عمرانڈو" نے صوبے کے مسائل پر بات کرنے کی بجائے "آٹھ سو چور" سے ملاقات کا مطالبہ کر دیا۔ شہباز شریف نے اسے یقین دلایا کہ وہ متعلقہ وزارت سے بات کر کے یہ مشکل حل کرا دیں گے۔
لیکن سہیل آفریدی نے ایک روایتی یوتھیے کی طرح سوشل میڈیا پر اس بات کا مذاق اڑانا شروع کر دیا کہ مجھے وزیر اعظم نے کہا ہے کہ وہ اسٹیبلشمنٹ سے پوچھ کر بتائیں گے۔ زومبیز سوشل میڈیا نے اس جھوٹ پر خوب ٹرولنگ کی، میمز بنائیں اور طنز کے تیر برسائے۔
لیکن جس سہیل آفریدی نے 26 نومبر کے قتل عام کی برسی پر پورے صوبے کے وسائل کے ساتھ اسلام آباد پر چڑھائی کر کے اپنے لیڈر کو رہا کروانا تھا، وہ آج حلف اٹھانے کے ڈیڑھ ماہ بعد بھی صرف ایک ملاقات کے لیے ترس رہا ہے۔
اب وہ دہائی دے رہا ہے کہ
“ایک صوبے کا وزیر اعلیٰ ساری رات بیٹھا رہا لیکن پاکستان کے کسی ادارے میں ہمت نہیں تھی کہ وہ دو منٹ ہماری ملاقات کرائے۔"
پوری رات سڑکوں پر ذلیل ہونے کے بعد وہ اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس کے چیمبر میں گھس گیا، لیکن وہاں سے بھی دھتکار ملی کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے بعد وہ عدلیہ نہیں رہی۔
اب اس "عمرانڈو" نے رؤف کلاسرا کے سوال کے جواب میں غیر معمولی اعتراف کیا ہے کہ وزیر اعظم کی انہیں کی گئی مبارکباد کی فون کال کے بعد، پارٹی اور سوشل میڈیا پر شہباز شریف کا مذاق اڑانا، میمز بنانا اور ٹرولنگ کرنا غلط تھا۔
ہم تو گزشتہ تین برسوں سے بار بار یہی کہتے آ رہے ہیں کہ جس دن اداروں کی اندرونی سہولت کاری ختم ہوئی، اسی روز ان کے انقلاب کی ہوا نکل جائے گی اور انہیں دن میں آسمان پر ستارے نظر آئیں گے۔
اب حقیقی صورتِ حال یہ ہے کہ پی ٹی آئی کی سینئر قیادت خود چاہتی ہے کہ ملاقات پر یہ پابندی برقرار رہے—نہ ملاقات ہوگی اور نہ احتجاج کی کال ملے گی ۔ کیونکہ احتجاج کی سکت اب کسی میں نہیں رہی۔ ان میں ایک ایسا "عاشق عمران" بھی ہے جو کہتا ہے: "آپ پابندی لگا کر رکھیں، بس مجھے شور مچانے کا ڈرامہ کرنے دیں۔"
واپس کریں