دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جب فیض کو معافی نہیں تو اس کے تخلیق کر دہ کردار کیسے بچیں گے
طاہر سواتی
طاہر سواتی
کرنل (ریٹائرڈ) انعام رحیم لاپتہ افراد کے وکیل تھے۔ 17 دسمبر 2019 کو نیازی کے "ریاست مدینہ" میں، انہیں باجوہ اور فیض کے حکم پر نامعلوم افراد نے ان کے گھر سے اغوا کر لیا۔ بعد میں پتہ چلا کہ وہ وزارتِ دفاع کی تحویل میں ہیں اور ان پر غداری کا مقدمہ چلایا جا رہا ہے۔ یہ الزام ایک ریٹائرڈ کرنل کے لیے کسی بڑے صدمے سے کم نہیں تھا، جس کے بچے پاک فوج اور پاک فضائیہ میں حاضر سروس آفیسر کے طور پر خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔
لیکن جب ایک پیج پھٹا اور عمران نیازی بے فیض ہوئے، تو بقول کرنل انعام رحیم، انہوں نے ایک اہم صحافی کے ذریعے مجھ سے رابطہ کرکے قانونی رائے مانگی۔ میں نے جواب دیا کہ اگر عمران نیازی سمجھتے ہیں کہ ان کی حکومت غیر قانونی طور پر ہٹائی گئی ہے اور ان کے پاس ثبوت ہیں، تو وہ درخواست دیں، ہم ان کا کیس خود سپریم کورٹ میں لڑنے کو تیار ہیں۔ مگر درخواست اور ثبوت انہیں دینے ہیں، کیونکہ جنرل باجوہ سے وہ رابطے میں تھے۔ مگر آج تک عمران نیازی نے درخواست دائر نہیں کی۔
کل انعام رحیم نے عاصمہ شیرازی کے ساتھ ایک تفصیلی انٹرویو دیا۔ یہ اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ فوجی پس منظر کے ساتھ کرنل صاحب ایک قانون دان اور وکیل بھی ہیں۔ اس انٹرویو کا مختصر خلاصہ کچھ یوں ہے:
"جب فوج نے فیض حمید کے لیپ ٹاپ اور موبائل کا فرانزک کیا، تو پتہ چلا فیض حمید نو مئی سے قبل پی ٹی آئی کے رہنماؤں سے رابطے میں تھے، یوٹیوبرز سے رابطے میں تھے اور ان کو ہاتھ سے لکھے ٹویٹس اور یوٹیوب پروگرام کے لیے مواد بھیجتے تھے، جو قبضے میں لیے جا چکے ہیں۔ ان کے لیپ ٹاپ اور موبائل میں سے بہت سے ٹاپ سیکرٹ دستاویزات ملے، جو وہ اپنے پاس نہیں رکھ سکتے تھے۔ ان سے ملنے والے ثبوتوں کے مطابق، جنرل فیض پی ٹی آئی کے سیاسی رہنماؤں، یوٹیوبرز سے رابطے میں تھے اور ان کو ہاتھ سے لکھے ٹویٹس اور یوٹیوب پروگرام کے لیے مواد بھیجتے تھے۔ جنرل فیض یہ سب شوقیہ تحریری طور پر کر کے اپنے پاس فائل میں رکھتے تھے، تاکہ وقت آنے پر استعمال کر سکیں، مگر انہیں نہیں معلوم تھا کہ وہ اپنے خلاف ثبوت تحریری کر رہے ہیں۔ جنرل فیض سے جو چیزیں برآمد ہوئی ہیں، وہ انہوں نے سمری ٹرائل میں مان لی ہیں۔"
"میں نے شواہد دیکھے ہیں، نو مئی کے مقدمات میں مطلوب کئی ملزمان اور یوٹیوبرز جنرل فیض کے فارم ہاؤس میں چھپے ہوئے تھے۔ جنرل فیض نو مئی کے وقت، اس سے پہلے اور بعد میں ان سے رابطے میں تھے۔ جنرل فیض آئے روز اپنی موبائل سِم بدلتے تھے اور پھر کسی ایک کو فون کر کے بتاتے تھے، 'یہ میرا نیا نمبر ہے، سب کو بتا دو'۔ انہیں اندازہ نہیں تھا کہ ان کے ساتھ جڑے ہر شخص کا فون ریکارڈ ہو رہا تھا، ہر نئی سِم ڈالنے کے پندرہ بیس منٹ میں ریکارڈنگ سسٹم میں آ جاتی تھی۔"
"جنرل فیض نے ایک سو سے زائد لوگوں کی فہرست اپنے گواہان کے طور پر دی۔ جن میں سے پہلے تین گواہوں کو بلایا گیا، انہوں نے جنرل فیض کے حق میں گواہی نہیں دی، بلکہ کراس ایگزامینیشن میں انہیں نقصان ہوا، جس کے بعد جنرل فیض نے اپنا ایک پرانا افسر مقرر کیا جو ان کے گواہان کو گھر جا کر ملا۔ مگر پھر جنرل فیض نے باقی تمام گواہوں کے نام واپس لے لیے۔ ملٹری کورٹ کو پتہ ہے کہ معاملہ بعد میں ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ جا سکتا ہے، اس لیے انہوں نے ہر قانونی کارروائی مکمل کی۔"
"جنرل فیض یہ سب اس یقین کے ساتھ کر رہے تھے کہ بطور سابق آئی ایس آئی چیف کوئی انہیں ہاتھ نہیں لگائے گا اور معاملات دبے رہیں گے۔ جنرل فیض جن جن لوگوں کے ذریعے جیل میں عمران خان سے رابطوں کی کوشش کرتے رہے، سب کے شواہد ہیں۔ جنرل فیض نے ٹاپ سٹی کے مالک کی دو قیمتی گاڑیاں اٹھا کر اس وقت کے چیف جسٹس ثاقب نثار اور ان کے بیٹے کو تحفے میں دے دیں۔ چیف جسٹس کے بیٹے والی گاڑی ریکور ہو کر اس کیس کا حصہ بن چکی ہے۔ جس رینجر اہلکار نے وہ گاڑی واپس لی، میں اس سے ملا ہوں، اس نے بتایا کہ ہمیں ڈر تھا کہ اس نے آگے بیچ نہ دی ہو۔"
یاد رہے:
یہ وہی ثاقب نثار ہے، جس نے عمران نیازی کو صادق اور امین قرار دے دیا تھا، اور جس کا بیٹا پی ٹی آئی کا ٹکٹ بیچ رہا تھا۔ پی ٹی آئی کو باجوہ اور فیض جیسے جنرلز اور ثاقب نثار، اعجاز الحسن اور بندیال جیسے جج ہی پسند ہیں۔ پھر ان کے نزدیک نہ ملک میں بنیادی حقوق پامال ہوتے ہیں، نہ ہی آئین کی بالادستی کا کوئی مسئلہ ہوتا ہے۔
ادھر لاہور میں انسدادِ دہشتگردی کی عدالت نے کالعدم تحریکِ لبیک پاکستان (ٹی ایل پی) کے مرکزی رہنما ظہیر الحسن شاہ کو سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو دھمکی دینے، مذہبی منافرت پھیلانے اور دیگر الزامات ثابت ہونے پر مجموعی طور پر ساڑھے 35 برس قید کی سزا سُنائی ہے۔ یہ سزائیں ایک ساتھ شروع ہوں گی اور یہ خبیث کل 10 برس جیل کاٹے گا ۔
جب فیض کو معافی نہیں تو اس کے تخلیق کر دہ کردار کیسے بچیں گے۔
واپس کریں