طاہر سواتی
آج ایک اور برس بیت گیا۔ بیتے برس میں کیا کامیابیاں حاصل کیں اور کون سی ناکامیاں ملیں، یہ اب کوئی معنی نہیں رکھتیں۔ سب سے بڑی کامیابی اور خوشی یہ ہے کہ ہم ایک نئے سال میں داخل ہو گئے ہیں۔ ورنہ کتنے لوگ ہیں جو پچھلے برس تھے، مگر آج نہیں ہیں۔
یہ دکھ، درد، رنج و الم… یہ خوشیاں اور مسکراہٹیں… سب زندگی کی مرہونِ منت ہیں۔ زندگی نہ رہی تو پھر کیا خوشی اور کیا غم؟ اس لیے زندگی سے پیار کیجیے، اس کو بھرپور انجوائے کیجیے۔ آج کا دن آپ کی زندگی میں دوبارہ نہیں آئے گا۔
لیکن ہم ایسے بدقسمت خطے کے باسی ہیں جہاں مذہب کے نام نہاد بیوپاریوں نے ہم سے غم و خوشی سب چھین لی ہیں۔ نہ غم پر رونے دیتے ہیں، نہ خوشی منانے دیتے ہیں۔ حالانکہ جو پورا سال زندگی کے سارے معاملات اسی شمسی (عیسوی) تقویم کے ساتھ چلاتے ہیں، جن کی تاریخِ پیدائش اسی کلینڈر کے مطابق ہے، جو اپنی اور اپنے بچوں کی سالگرہ اسی حساب سے مناتے ہیں، جن کے شناختی کارڈ، پاسپورٹ اور تعلیمی اسناد پر اسی عیسوی کلینڈر کے ہندسے ہیں، جو سارا سال تنخواہ اور مزدوری اسی حساب سے لیتے ہیں… وہی لوگ آج کے دن فتوے لے کر آ جاتے ہیں کہ ہمارا نیا سال محرم سے شروع ہوتا ہے اور عیسوی تقویم منانا کفر ہے۔
ایسے سڑیل اور تنگ نظر لوگوں سے دور رہیے۔ کوئی کلینڈر خدا نے نہیں اتارا، نہ کوئی سال اسلامی ہے اور نہ ہی کافر۔ یہ سارے کلینڈر انسانوں نے اپنی آسانی اور ضرورت کے لیے بنائے ہیں۔
تاریخی حقیقت یہ ہے:
طلوعِ اسلام سے تقریباً دو سو سال قبل، کلاب بن مرہ کے عہد میں قمری مہینوں کے نام (محرم الحرام، صفر، ربیع الاول، ربیع الثانی، جمادی الاولیٰ، جمادی الثانیہ، رجب، شعبان، رمضان، شوال، ذیقعدہ، ذی الحجہ) متعین کیے گئے تھے اور سال کی ابتدا محرم سے ہی ہوتی تھی۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے عہدِ خلافت میں ہجرت کے سال کو حوالہ (ریفرنس) بنا کر تاریخ لکھنے کی روایت شروع کی گئی۔ اس لیے صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم اجمعین نے جب ہجرت کے سال سے سن کی ابتداء کی، تو سن کے پہلے مہینے کے لیے محرم الحرام کا ہی انتخاب کیا، تاکہ نظامِ سابقہ اپنی اصلی حالت پر باقی رہے۔
بہر حال، ربِّ کائنات سے دعا ہے کہ یہ نیا سال پوری انسانیت کے لیے خوشیوں اور امن کا پیغام لے کر آئے۔
آپ اور آپ کے اہلِ خانہ کو نیا سال مبارک ہو!
واپس کریں