طاہر سواتی
کوئی دو دس دن قبل لکھا تھا کہ ایران پر امریکی حملہ وقتی طور پر ملتوی ہو گیا، کیونکہ امریکہ کو اپنے بیڑے اور دیگر سازوسامان کو مطلوبہ مقامات پر پوزیشن لینے میں ابھی وقت درکار ہے۔
کل امریکہ کا یو ایس ایس ابراہم لنکن ائرکرافٹ کیریئر خلیج میں پہنچ گیا۔ اس بحری بیڑے کے بارے میں اتنا جان لیں کہ یہ ایٹمی ایندھن سے چلتا ہے اور مسلسل بیس برس تک سمندر میں رہ سکتا ہے۔ اس پر 90 لڑاکا طیارے لینڈ کر سکتے ہیں۔ اس کا عملہ تقریباً 5,600 افراد پر مشتمل ہے۔
اس بیڑے کے پہنچتے ہی امریکہ نے ایران کو ممکنہ فوجی کارروائی روکنے کے لیے تین مطالبات پیش کیے ہیں:
1. ایران بھر میں موجود تمام مقامات پر یورینیم کی افزودگی کا مستقل طور پر خاتمہ۔
2. ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) کے زیرِ استعمال طویل فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائلوں کی تعداد اور رینج پر پابندیاں۔
3. مشرقِ وسطیٰ میں تمام پراکسی گروہوں کی حمایت کا خاتمہ، جن میں حماس، حزب اللہ اور یمن میں سرگرم حوثی شامل ہیں۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار کے مطابق تہران نے امریکہ کی بعض شرائط مسترد کر دی ہیں، اور شہری مقاصد کے لیے یورینیم افزودگی یا اپنے میزائل پروگرام پر کسی بھی قسم کے سمجھوتے سے انکار کیا ہے۔
کل رات امریکی فضائیہ کا C-5M “سپر گیلیکسی” اسٹریٹجک ہیوی لفٹ طیارہ قطر کے العدید ایئر بیس کی جانب محو پرواز تھا۔ امکان یہی ہے کہ یہ طیارہ وہاں سے ضروری دفاعی سازوسامان کسی دور دراز محفوظ ائر بیس پر منتقل کرنے کے لیے استعمال ہو رہا ہو۔ C-5M سپر گیلیکسی امریکی فضائیہ کا سب سے بڑا اسٹریٹجک ٹرانسپورٹ طیارہ ہے، جو انتہائی بھاری اور غیر معمولی جسامت والا سامان لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے — مثلاً دو M1 ایبرامز ٹینک یا چھ اے ایچ-64 اپاچی ہیلی کاپٹر۔
سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی فوج مشرقِ وسطیٰ میں تھاڈ (THAAD) میزائل دفاعی نظام منتقل کرنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے۔ یاد رہے کہ یہ نظام کم، درمیانی اور بیلسٹک میزائلوں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اور اپنے ہدف کو 200 کلومیٹر دور تک تباہ کر سکتا ہے۔
ایک اور خبر کے مطابق B-52 بمبار طیاروں کو فضا میں ایندھن بھرنے والے (ریفولنگ) طیارے امریکہ کے فیئرچائلڈ ایئر فورس بیس سے روانہ ہو چکے ہیں۔
امریکہ نے ایران میں جنوری کے مہینے میں ہونے والے عوامی احتجاج کی انٹیلی جنس کے لیے CCTV فوٹیج حاصل کرنا شروع کر دی ہے۔ ان سی سی ٹی وی کیڈیوز سے دنیا کے سامنے ایسے ہولناک مناظر سامنے لائے جا سکتے ہیں جو ایران پر حملے کے لیے جواز بن سکتے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق روسی Su-34 جنگی طیارہ بحیرۂ اسود میں جزیرۂ سانپ (Snake Island) کے قریب پیٹریاٹ زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائل (SAM) کے ذریعے مار گرایا گیا۔ طیارے کا پائلٹ ہلاک ہو گیا۔
ادھر ایران کا ڈرون بردار بحری جہاز شہید باقری بندر عباس کے قریب دیکھا گیا، جو اس مقام کے نزدیک ہے جہاں امریکی MQ-4C ٹرائٹن نگرانی کرنے والا ڈرون آپریٹ کرتا ہے۔ یہ جہاز ایک شہری کنٹینر جہاز کو تبدیل کر کے تیار کیا گیا تھا، اور فروری 2025 میں سروس میں شامل ہوا۔ یہ ڈرونز، ہیلی کاپٹرز، نور/قادر اینٹی شپ میزائل (جن کی رینج 300 کلومیٹر تک ہے) لانچ کر سکتا ہے، اور اس میں قلیل فاصلے کا فضائی دفاعی نظام بھی موجود ہے۔
لگتا ہے کہ اس ہفتے کچھ ان ہونی ہونے والی ہے۔
واپس کریں