طاہر سواتی
اس جنم میں تو ٹرمپ دوستوں کا قبلہ درست کرنےکے لیے ہی پیدا ہوئے ہیں۔ دوسرے جنم میں شاید دشمنوں کا کچھ بن پڑے۔
سوئزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں ورلڈ اکنامک فورم سے ٹرمپ کا خطاب روایتی دھمکیوں، طنز، تضحیک اور چند حقائق کا مجموعہ تھا۔ جس میں اس نے امریکہ کے قریبی اور تاریخی دوست ممالک جیسے کینیڈا، یورپ اور اسرائیل کو پورا سبق پڑھا دیا۔
آئرن ڈوم کے بارے میں ٹرمپ نے نیتن یاہو کو یاد دلاتے ہوئے کہا:
"میں نے بی بی (نیتن یاہو) سے کہا تھا — ڈوم کا کریڈٹ لینا بند کرو، یہ ہماری ٹیکنالوجی ہے۔ ہم نے یہ اسرائیل کے لیے بنایا۔"
قبلہ ٹرمپ نے یہ بھی اعتراف کیا:
"لوگ مجھے آمر کہتے ہیں، لیکن کبھی کبھار آپ کو آمر بننا پڑتا ہے۔"
امریکہ کی عظمت کا راگ الاپتے ہوئے فرمایا:
"امریکہ دنیا کی معیشت کا انجن ہے، اور جب امریکہ ترقی کرتا ہے تو پوری دنیا ترقی کرتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ جب امریکہ زوال پزیر ہوتا ہے تو پوری دنیا زوال کا شکار ہوتی ہے۔ جب ہم نیچے جاتے ہیں تو آپ بھی ہمارے ساتھ نیچے جاتے ہیں۔ جب ہم اوپر جاتے ہیں تو آپ بھی ہمارے ساتھ اوپر جاتے ہیں۔"
نیٹو اور یورپ کو کچھ یوں آئینہ دکھایا:
"نیٹو نے ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ بہت غیر منصفانہ سلوک کیا ہے۔ امریکہ پوری دنیا کو سنبھالے ہوئے ہے۔ ہمیں دنیا کے کسی بھی ملک کے مقابلے میں سب سے کم شرح سود ادا کرنی چاہیے، کیونکہ امریکہ کے بغیر آپ کے پاس کوئی (محفوظ) ملک نہیں رہتا۔ اگر ہم نہ ہوتے تو آپ سب جرمن بول رہے ہوتے، یا پھر تھوڑی بہت جاپانی۔ ہماری فوج کے بغیر، آپ کو ایسے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا جن کا آپ تصور بھی نہیں کر سکتے۔"
کینیڈا کے وزیراعظم نے ایک روز قبل ٹرمپ پر تنقید کی تھی، جس کے جواب میں ٹرمپ نے کہا:
"کینیڈا امریکہ کی وجہ سے زندہ ہے۔ یہ بات یاد رکھنا، مارک، جب تم اگلی بار کوئی بیان دو۔"
سوئٹزرلینڈ کو کچھ یوں دھمکی دی:
"مجھے احساس ہوا کہ ہمارے بغیر یہ سوئٹزرلینڈ نہیں رہتا۔ یہ یہاں نمائندگی کرنے والے کسی دوسرے ملک جیسا نہیں رہتا۔ اور ہم ان کے ساتھ کام کرنا چاہتے ہیں۔ ہم انہیں تباہ کرنے کی کوشش نہیں کر رہے۔ میں 39 یا 40 فیصد (ٹیرف) کہہ سکتا تھا۔ میں یہ بھی کہہ سکتا تھا کہ میں 70 فیصد ٹیرف چاہتا ہوں — اور پھر ہم سوئٹزرلینڈ سے پیسہ کماتے۔ لیکن غالباً سوئٹزرلینڈ مالی طور پر تباہ ہو جاتا۔ میں ایسا نہیں چاہتا۔"
گرین لینڈ کے حصول کے لیے منت ترلوں اور دھمکیوں میکس استعمال کرتے ہوئے فرمایا:
"ہم عالمی تحفظ کے لیے برف کا ایک ٹکڑا چاہتے ہیں۔ اور وہ ہمیں نہیں دے رہے۔ اگر میں حد سے زیادہ طاقت استعمال کرتا تو ہم ناقابلِ شکست ہوتے، لیکن میں ایسا نہیں کروں گا۔ لوگ سمجھتے تھے کہ میں طاقت استعمال کروں گا، میں طاقت استعمال نہیں کروں گا۔
میں گرین لینڈ سلامتی کے لیے چاہتا ہوں۔ میں اسے کسی اور مقصد کے لیے نہیں چاہتا۔ ہمارے پاس اتنی نایاب معدنیات ہیں کہ ہمیں معلوم نہیں ان کا کیا کریں۔ ہمیں کسی اور چیز کے لیے اس کی ضرورت نہیں۔ اور گرین لینڈ کے معاملے میں، آپ کو برف میں تقریباً 25 فٹ نیچے جانا پڑتا ہے تاکہ وہاں تک پہنچا جا سکے۔ یہ کوئی ایسی چیز نہیں جسے بہت سے لوگ کریں یا کرنا چاہیں۔ نہیں، یہاں بات سلامتی کی ہو رہی ہے۔ ہاں کہیں گے تو شکر گزار رہوں گا، نہ کہیں گے تو یاد رکھوں گا۔"
حقائق:
حقیقت یہ ہے کہ جرمنی سے چھ گنا بڑے گرین لینڈ کو ٹرمپ صرف قیمتی دھاتوں اور معدنیات کے لیے حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ گرین لینڈ میں چین کے بعد دنیا کا سب سے بڑا قیمتی دھاتوں کا ذخیرہ ہے، جو امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق تقریباً 36 ملین ٹن بنتا ہے۔ جہاں موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے برف تیزی سے پگھل رہی ہے۔
ٹرمپ ایک شاطر اور چالاک انسان ہے، جو ڈٹ جانے والوں سے راستہ بدلتا ہے اور دبنے والوں کو مزید دباتا رہتا ہے ، یورپ کو امید تھی کہ یہ یوکرین کا مسئلہ حل کروائے گا اس نے گرین لینڈ کا رولا ڈالُ دیا ۔ اگر یورپ اس موقع پر ڈٹ گیا تو یہ کچھ نہیں کر سکے گا۔ اس وقت یہ جان بوجھ کر روس کو اُکسا رہا ہے ، تاکہ یورپ کو خوفزدہ کر کے بلیک میل کیا جا سکے۔
دوسری جانب روس نے ٹرمپ کے "ہیس آف بورڈ" میں ایک ارب ڈالرز کا عطیہ دیتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ اسے ان کے منجمد اثاثوں سے ادا کیا جائے۔
یہُ تو ملک ریاض اور نیازی کے 190 ملین پاؤنڈ والی کہانی لگتی ہے۔
واپس کریں