دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
جنید صفدر کی شادی پر قومِ یوتھ کا ماتم
طاہر سواتی
طاہر سواتی
مریم نواز کے بیٹے جنید صفدر کی شادی پر قومِ یوتھ کا ماتم اور طوفانِ بدتمیزی جاری ہے۔سیاسی مخالفین کا بیڈروم ہو یا ہسپتال میں وینٹی لیٹر پر پڑا مریض اور اس کا پرائیویٹ کمرہ—یہ اس میں گھسنا اپنا دینی و قومی فریضہ سمجھتے ہیں، جبکہ خود پبلک جلسے کی اسٹیج پر ہوں یا ڈی چوک کے عوامی میدان میں، ان کی ہر حرکت پرائیویٹ اور ذاتی زندگی کے زمرے میں آتی ہے اور اس پر بات کرنا غیر اخلاقی حرکت سمجھا جاتا ہے۔
ان کا لیڈر ناجائز بیٹی کا باپ بننے، درجنوں خواتین کے ساتھ تعلقات قائم کرنے، یورپ کے کلبوں میں عیاشیاں کرنے، عائلیہ ملک کو پلیئر پوائنٹ بتانے اور رِمل علی جیسے خسرے کے ساتھ ناجائز اور غیر فطری تعلقات قائم کرنے کے باوجود بھی امتِ مسلمہ کا لیڈر اور ریاستِ مدینہ بنانے کا معمار ہوتا ہے۔
پیرنی، دادی نانی کی عمر میں بھی مرید کے ساتھ عشق لڑانے اور ناجائز تعلقات قائم کرنے کے باوجود بھی نیک سیرت اور بقول طارق جمیل امتِ مسلمہ کی خواتین کے لیے رول ماڈل ہوتی ہیں۔
اور یہ دونوں فراڈیے پاکستانیوں کو خاندانی نظام پر لیکچر دے رہے ہوتے ہیں،
لیکن سیاسی مخالفین کی ایک روایتی شادی بھی بہت بڑا اسکینڈل بن جاتی ہے۔
اس مخلوق کی ٹاؤں ٹاؤں پر حیران ہونے کی ضرورت نہیں۔ ان کے ہاں اس قسم کے گل چھڑوں کی کوئی گنجائش نہیں۔ ان کے ہاں خفیہ نکاح اور خفیہ طلاقوں کا رواج ہے۔ عدت میں نکاح اور بغیر نکاح کے بھی کام چل جاتا ہے، بلکہ بہترین نکاح وہ سمجھا جاتا ہے جس میں کم از کم دلہن کے پوتے پوتیاں اور نواسے نواسیاں تو شریک ہوں۔
سیاسی وژن دیکھیں تو جس محمود خان اچکزئی کا یہ مذاق اڑایا کرتے تھے، اور جس نے اپنے فیصلہ کن ووٹ سے اس کی حکومت کو گرایا تھا، آج اسی کو قومِ یوتھ کا دادا ابو بنا دیا گیا ہے۔ قومی اسمبلی میں دو تہائی اکثریت کے دعویدار اس جماعت نے اپنے کسی ایک رکن کو بھی اس قابل نہیں سمجھا کہ اسے اپوزیشن لیڈر بنا دیا جاتا۔
اور آخرکار یہ نامزدگی بھی اسی نواز شریف کے ایک ’’نکئی، جی ہاں‘‘ کی مرہونِ منت ٹھہری، جو ان کے بقول سیاست سے مائنس ہو چکا ہے۔
مولا خوش رکھے۔
کچھ شرم ہوتی ہے، کچھ حیا۔
واپس کریں