طاہر سواتی
پہلی گزارش یہ ہے کہ مجھے شہباز شریف کی حکومت کے خاتمے پر اس طرح کا افسوس کبھی نہیں ہوگا جس طرح آٹھ سال قبل نواز شریف کی حکومت کے خلاف سازشوں پر ہو رہا تھا۔ اس وقت مہنگائی ، دھشت گردی اور لوڈ شیڈنگ کے جن قابو میں آچکے تھے اور سی پیک سے ملکی معیشت بہت اونچی آڑان بھرنے والی تھی ۔ لیکن امریکہ اور پاکستان میں اس کے سہولت کاروں کی وجہ سے سب کچھ ختم ہوگیا ۔
آج شہباز شریف اور مریم نواز نے اپنی اہلیت اور کارکردگی ثابت کر دی ہے، اور یہی بہت ہے۔
لیکن چند دن قبل سہیل وڑائچ، اور اب محمد مالک اور محسن بیگ نے باخبر ذرائع کے حوالے سے یہ شوشہ چھوڑا ہے کہ شہباز شریف کو چھ ماہ کا وقت دیا گیا ہے اور اس کے بعد کہانی ختم۔ اگر یہ بات سچ ہے تو چھ ماہ کیوں؟ آج ہی ختم کر دیں، اور جو اس ملک کو شہباز شریف سے بہتر چلا سکتا ہے، اسے سامنے لے آئیں۔
اگر لاہور اور پنجاب کی ترقی کو شعبدہ بازی کہا جاتا ہے تو پشاور اور کراچی کی ٹوٹی سڑکوں والی حقیقی ڈیولپمنٹ دکھا دیں۔
حقیقت میں ایسا کچھ نہیں۔
میری معلومات کے مطابق کچھ ریٹائرڈ عمرانڈوز ایک خاص ایجنڈے کے تحت اس قسم کی افواہیں پھیلا رہے ہیں، اور ایسے وقت میں جب نیازی اور اس کی سیاست اپنی آخری ہچکی لے رہی ہے۔ سہیل آفریدی اگر 8 فروری تک آٹھ سو چور کو رہا نہ کروا سکا تو اس کے بعد قوم یوتھ کو کس ٹرک کی بتی کے پیچھے لگائیں گے؟
محمد مالک کی اصلیت ایک ہائبرڈ یوتھئے کے سوا کچھ نہیں، آج کل جس کے لیے گیٹ نمبر چار کے دروازے مکمل بند ہیں۔ غیر جانبداری کا ناٹک کرنے والے اس یوتھئے کی صحافتی بددیانتی ملاحظہ فرمائیں۔
پچھلے دنوں اس کے پروگرام میں شفیع جان نے جب یہ مضحکہ خیز دعویٰ کیا کہ لیڈی ریڈنگ اور حیات آباد میڈیکل کمپلیکس پی ٹی آئی دور میں بنے ہیں، اور شرکا اس لطیفے پر ہنس رہے تھے، تو مالک اسے بار بار لقمہ دے رہا تھا کہ آپ یہ کہہ دیں کہ ان ہسپتالوں میں توسیع ہوئی ہے۔
دوسری طرف مالک تسلیم کر رہا ہے کہ جی ڈی پی، اسٹاک مارکیٹ اور بڑے معاشی اشاریے بہتر ہو چکے ہیں، لیکن نچلی سطح پر عوام کو ریلیف نہیں مل رہا، اس لیے شہباز حکومت چھ ماہ میں فارغ ہو جائے گی۔
لیکن جب نواز شریف کے دور میں ڈالر سو روپے اور پٹرول 67 روپے کا تھا تو یہی منافق ہر شام میکرو اکنامکس کا رونا شروع کر دیتا تھا۔ میکرو اکنامکس کی بہتری کے بغیر آپ مائیکرو اکنامکس ٹھیک نہیں کر سکتے۔ دیوالیہ ہوتے ملک میں عوام کو ریلیف نہیں دیا جا سکتا۔ پڑوس میں تیل سے مالا مال ایران میں کیا ہو رہا ہے؟ پچاس سالہ انقلاب داؤ پر لگا ہوا ہے۔
حکومت کے بس میں ہوتا تو عوام پر ڈالر نچھاور کر دیتی، لیکن جنگ اور پابندیوں نے میکرو اکنامکس کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
کل نیب فاروق نے اپنے پروگرام میں مریم نواز کی کارکردگی اور عام لوگوں کو ریلیف کا ذکر کیا تو اسی وقت یہی محمد مالک، ایثار رانا، علینہ شکری اور حفیظ اللہ نیازی فرما رہے تھے کہ مریم نواز کے ان اقدامات کی بنیاد پر ن لیگ اگلا الیکشن نہیں جیت سکتی کیونکہ ان کے پاس کوئی بیانیہ نہیں۔
مطلب میکرو اکنامکس بہتر کرو تو یہ مائیکرو اکنامکس کو لے آتے ہیں، مائیکرو بہتر کرو تو بیانیے کا رونا شروع کر دیتے ہیں۔ اب پی ٹی آئی کا بیانیہ کیا ہے؟ آٹھ سو چور کی رہائی کے علاوہ کچھ ہو تو بتا دیں۔
پرسوں رائٹرز نے خبر دی کہ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان تقریباً دو ارب ڈالر کے سعودی قرضوں کو JF-17 لڑاکا طیاروں کے معاہدے میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔ کل رائٹرز کی خبر ہے کہ سوڈان کے ساتھ 1.5 ارب ڈالر کا دفاعی معاہدہ آخری مراحل میں ہے۔
بنگلہ دیش تھنڈر خریدنا چاہتا ہے ،
یوں مجموعی طور پر کوئی دس ارب ڈالر کے دفاعی معاہدے ہو رہے ہیں۔
امارات پہلے ہی اپنے قرضوں کو سرمایہ کاری میں تبدیل کر رہا ہے۔
77 سالہ تاریخ میں پہلی بار پاکستان دفاعی سازوسامان خریدنے کے بجائے فروخت کر رہا ہے۔ جس دفاع پر معیشت کا بڑا حصہ خرچ ہوتا تھا، وہ آج امریکہ کی طرح معیشت کو سہارا دے رہا ہے۔
ایسے میں نہ صرف عمران نیازی اور اس کی شرپسند ٹولے کی سیاست دفن ہو رہی ہے بلکہ مالک جیسے صحافی بھی مالکوں کی نظر میں غیر متعلقہ ہو رہے ہیں۔ اب وہ اس قسم کے شوشے نہ چھوڑیں تو اور کیا کریں؟
واپس کریں