دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کس طرح سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا گیا
طاہر سواتی
طاہر سواتی
امریکی سینٹرل کمانڈ نے کہا ہے کہ دو دن قبل ایران کے گیارہ بحری جہاز تھے، جن میں سے اب کوئی نہیں رہا۔ امریکہ نے حالیہ جنگ میں اپنے ۶ فوجیوں کی ہلاکت کو تسلیم کیا ہے۔
پاسداران انقلاب نے آبنائے ہرمز سے گزرنے والے ہر جہاز کو آگ لگانے کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی اخبار نے ایک رپورٹ جاری کی ہے کہ کس طرح سپریم لیڈر کو نشانہ بنایا گیا۔
اس رپورٹ کے مطابق، آیت اللہ خامنہ ای کو نشانہ بنانے کے لیے اسرائیل نے تہران کے ٹریفک کیمروں کو بھی ہیک کیا۔ ٹریفک کیمرے اور اہم رہنماؤں کے سٹاف کی آمدورفت کو وہ ایسے دیکھ رہے تھے گویا وہ ان کے سامنے پھر رہے ہوں۔
پاکستان میں کل اسٹاک مارکیٹ ۱۵ ہزار پوائنٹس گر گئی، جبکہ اسرائیل، جہاں جنگ جاری ہے، وہاں کی اسٹاک مارکیٹ نے ۴.۷ فیصد چھلانگ لگائی۔
یہ ہوتی ہے اعصابی جنگ۔ دشمن سے سیکھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اگرچہ خلیجی ممالک میں امریکن بیسز ایران کے خلاف حملے میں استعمال نہیں ہو رہے، اس کے باوجود یہ ہمارے لیے اہم ٹارگٹ ہیں۔
گزشتہ ۳ روزہ جنگ میں ایران نے عرب ممالک پر حملے کیے جو اسرائیل گزشتہ ستر سالوں میں نہیں کر سکا۔
ناصر عباس ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ ہمارا دشمن امریکہ یا اسرائیل نہیں، بلکہ
ہمارا دشمن شہباز شریف ہے، ہمارا دشمن فیلڈ مارشل عاصم منیر ہے۔ فیلڈ مارشل کو تو پھر بھی باپ بنا لیں، اصل دشمن شہباز شریف ہے جس نے اس مشکل وقت میں بھی ایک متوازن پالیسی سے اپنے ملک کو بچایا ہوا ہے۔
کل افغان دہشت گردوں نے تورخم میں ایک پاکستانی چیک پوسٹ پر حملہ کیا اور مرنے والے پاکستانی فوجی کی لاش کی شدید بے حرمتی کرکے ویڈیو جاری کی، جس کے بعد کابل پر تاڑپھوڑ حملے شروع کر دیے گئے ہیں۔
اسلام میں میت کی بے حرمتی سے منع کیا گیا ہے، لیکن ان دیوبندی وحشیوں کا اپنا ہی دین و مذہب ہے۔ یہ پہلے بھی ہمارے فوجیوں کے سروں کے ساتھ فٹ بال کھیلتے رہے۔ دوسری جانب، جس پاکستان کو یہ غلام اور کافر ملک سمجھتے ہیں، اس کے ڈی جی آئی ایس پی آر نے دو دن قبل پیرس کانفرنس میں کہا تھا کہ ہمارے پاس طالبان کی لاشیں ہیں جنہیں ہم نے جنیوا معاہدے کے تحت احترام سے رکھا ہوا ہے۔
ہمارے شہدا کے لاشوں کی ایسی بیحرمتی تو بھارت نے سارے جنگوں میں نہیںٗ کی ، بلکہ کارگل کے جنگ میں کرنل شیر خان کی لاش کو نہ صرف نہایت احترام سے واپس کیا بلکہ اس بہادر کا اعتراف بھی کیا ۔
آج سے پچیس سال قبل ان وحشیوں کے لیے ہماری قوم اسی طرح پاگل بنی ہوئی تھی، جس طرح آج ایرانی مولویوں کے لیے مری جا رہی ہے۔
اگر امریکہ کے ہاتھوں مرنا حسینیت ہے تو اس صدی کا پہلا حسین ملا عمر تھا، دوسرا حسین صدام حسین تھا۔
ان دونوں کو خامنہ ای کے پیروکار کس نظر سے دیکھتے ہیں؟
کوئی بھی اہل تشیع صدام اور ملا عمر کو شہید نہیں مانے گا، کیونکہ یہاں ہر ایک نے اپنے اپنے مسلک کا بت سجا رکھا ہے۔
ہمارے نزدیک تو یہ تینوں فاشسٹ تھے جنہوں نے اپنی قوم کو غلام بنایا اور پھر امریکہ کے ہاتھوں مروا دیا۔
اتنے لوگ امریکہ اور اسرائیل نے مارے جتنے ایرانی سیکیورٹی فورسز نے گزشتہ دو ماہ کے مظاہروں میں قتل کیے ہیں۔
واپس کریں