طاہر سواتی
اس وقت ایران کی اندھا دھند حمایت اور امریکہ و اسرائیل کی مذمت سب سے معروف بیانیہ ہے۔
حقائق پر بات کرو گے تو آپ کو گالیاں پڑیں گی۔
مجھے تو ویسے اس خطے میں اس قسم کی ہر بڑی جنگ میں خوب گالیاں ملی ہیں، بلکہ ایک بار تو ابا مرحوم سے مار بھی کھائی۔
یہی فروری کا مہینہ تھا، سال تھا ۱۹۹۱۔ صدام سے کویت کا قبضہ چھڑانے کے لیے امریکہ اور نیٹو اتحادی ایک ماہ سے بمباری کر رہے تھے اور پاکستانیوں کی اکثریت صدام حسین کو وقت کا صلاح الدین ایوبی ثابت کر رہی تھی۔ ہر جگہ جلسے جلوس اور شہروں کی دیواروں پر اس کی تصاویر، اسکول میں اساتذہ، مسجد میں مولوی اور گھر میں اباجی۔ کسی فورم پر صدام کے خلاف بات ناقابل برداشت تھی۔
ایک تازہ میٹرک پاس نابالغ نوجوان کے تین سوالات تھے، لیکن کسی کے پاس اس کا جواب نہیں تھا۔
پہلا سوال کہ کسی کی حمایت ذاتی مفاد کے لیے ہوتی ہے، لیکن یہاں جو لوگ سالوں سے عرب ممالک میں محنت مزدوری کرکے رزق حلال کما رہے ہیں وہ بھی صدام کی حمایت میں پاگل ہو رہے تھے۔ متحدہ عرب امارات میں تو کافی پاکستانیوں کو گرفتار بھی کیا تھا۔
دوسری حمایت ملکی مفاد کے لیے ہوتی ہے، صدام نے کبھی پاکستانی ریاست کی حمایت نہیں کی۔ہمیشہ بھارت کا ساتھی رہا اور پاکستان کو امریکہ کی غلامی کے طعنے دیتا رہا۔کس ملکی مفاد کے تحت اس کی حمایت کی جائے ۔
حمایت کی تیسری وجہ دینی بنیاد پر ہوتی ہے، صدام جیسا سیکولر ڈکٹیٹر لاکھوں مسلمانوں کے قتل عام میں ملوث تھا، اس نے ایک اسلام ملک کویت پر ناجائز قبضہ کیا ۔ اسلام اور امت مسلمہ کے لیے اس کی کون سی خدمت تھی جس کی بنیاد پر اس کی حمایت کی جائے؟
پندرہ سال بعد ۳۰ دسمبر ۲۰۰۶ کو فیملی کے ساتھ ڈرائیو بس میں گھر جا رہے تھے، اگلے دن بڑی عید تھی، اخبار کی شہ سرخی میں صدام کی پھانسی کی خبر تھی۔ میں نے والد سے عرض کیا، "کیا آپ نے پندرہ سال پہلے نہیں بتایا تھا کہ یہ شخص خود بھی مرے گا اور اپنی پوری قوم کو بھی مروائے گا؟"
پھر ہم نے ملا عمر کو حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا درجہ دے دیا۔ پچیس سال قبل جب امریکی طیارے کابل پر بمباری کرتے تو ہم پاکستان میں کربلا کا ماحول بنا دیتے۔ آج وہی افغانستان ہے، اسی ملا عمر کا بیٹا وزیر دفاع اور اسی حقانی کا بیٹا وزیر داخلہ ہے، جب پاک فضائیہ کے طیارے کابل پر بمباری کرکے آتے ہیں تو ہم جشن مناتے ہیں۔ ہم اس وقت غلط تھے یا اب غلط ہیں؟
اب ایران ایک دوسرا افغانستان بننے جا رہا ہے۔
یہ پاکستان اور عربوں کے لیے اس سے بڑا درد ہوگا۔ یہاں جو بات امریکہ اور اسرائیل کو نہیں معلوم، اس سے میاں چنوں کا اللہ دتہ یا دیر کمراٹ کا شیر بہادر زیادہ باخبر ہے کہ امریکہ مار پڑے گی کیونکہ ایران میں کوئی متبادل قیادت دستیاب نہیں۔
جب تک ایران نے علاقے میں اپنے پراکسیز سے پڑوسی ممالک میں انتشار پیدا کیا، امریکہ اور اسرائیل کو کوئی مسئلہ نہیں تھا، لیکن جب وہ اپنی چادر سے نکل کر ان کے لیے خطرہ بن گیا تو اس کا بندوبست کرنا پڑا۔ یہ جنگ اس وقت شروع ہو گئی تھی جب ایران اور روس کی شہ پر حماس نے اکتوبر ۲۰۲۳ میں اسرائیل پر حملہ کیا۔ اس وقت جب پاکستانیوں کی اکثریت جشن منا رہی تھی، ہم جیسے جاہل اسی دن سے خبردار کرتے رہے۔
امریکہ نہ یہاں جمہوریت قائم کرنے آرہا ہے نہ ہی متبادل قیادت تلاش کررہا ہے ۔ اور یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک وہ خطرہ ختم نہیں ہو جاتا۔
یہی سب کچھ انہوں نے افغانستان میں کیا،
آج افغانستان امریکہ کے علاوہ اپنے پڑوس کے سارے ممالک کے لیے خطرہ ہے۔ یہی صورت حال ایران کی ہوگی۔ امریکہ چلا جائے گا، لیکن اس خطے میں آگ کے شعلے بھڑکتے رہیں گے۔
کچھ سیانے کہتے ہیں کہ پاکستان کو ایران سے سیکھنا چاہیے۔ بالکل پاکستان کو ایران سے سیکھنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو وہی رویہ اختیار کرنا چاہیے جو اس نے ۱۹۹۱ اور ۲۰۰۱ کی خلیجی جنگوں میں اختیار کیا تھا۔ اس دوران ایران کی قوم مکمل خاموش تماشائی رہی، صدر سیاسی بیانات دیتے رہے جبکہ خامنہ ای اور اس کے پاسداران انقلاب نے درپردہ امریکہ کو پوری مدد کی۔
پرانی چھوڑیں۔ جب ۶ مئی کو انڈیا پاکستان پر حملہ کر چکا تھا تو ۸ مئی کو ایرانی انڈیا کے ساتھ معاہدے سائن کر رہے تھے۔ پاکستان اپنے ملکی مفاد کے لیے اس قسم کے معاہدوں میں آزاد ہے، لیکن اس سے پہلے ایرانی اور افغانی ہم خواروں کو اپنی اوقات میں لانا ہوگا۔
پاکستانی دنیا کی واحد قوم ہے جسے اپنے ملک کے علاوہ نیا جہاں کا مفاد عزیز ہے۔اور مذہبی جماعتوں کا اس بیانیہ کی ترویج میں سب سے کردار ہے ۔
واپس کریں