طاہر سواتی
امریکہ نے ایران پر بہت بڑا حملہ کر دیا۔ یہ نوشتۂ دیوار تھا۔ ہم نے تو کئی ہفتے قبل گزارش کی تھی کہ امریکہ اب اس قضیے کو ختم کیے بغیر نہیں جائے گا۔
دو دہائیوں بعد امریکہ نے اپنی اتنی بڑی فوجی طاقت جمع کی تھی۔ اس کی تیاری میں جو وقت لگ رہا تھا، اسے ٹرمپ نے مذاکرات کے لیے استعمال کیا۔
اُدھر ایرانی قیادت نے سب سے پہلے پاکستان اور دیگر دوست ممالک کو مذاکرات سے نکال کر چالاکی دکھائی، براہِ راست مذاکرات کی شرط رکھی، مذاکرات ترکی کی بجائے عمان لے گئے۔ ہم نے اُس وقت گزارش کی تھی کہ یہ ایرانی ملاؤں کی سب سے بڑی حماقت ہے۔ جن ممالک نے امریکہ سے جنگ رُکوانے کی درخواست کی، انھیں ہی آؤٹ کر دیا۔ وہ آئندہ اس قسم کی درخواست کبھی نہیں کریں گے۔
کل جب چین نے اپنے شہریوں کو ایران چھوڑنے کا حکم دے دیا تو کنفرم ہو گیا کہ اب حملہ ہوگا۔
بہرحال، وہ لوگ جو طالبان کے حالیہ حملوں کو پاکستان کے ماضی کی غلطیوں سے جوڑ کر سارا ملبہ پاکستان پر گرا دیتے ہیں، وہی اب حالیہ امریکی حملوں میں ایرانی ملاؤں کو کھلی چھُٹ دیں گے۔
اس حملے کی ابتدا تو اُس وقت ہوئی تھی، جب ایران نے اکتوبر ۲۰۲۳ میں اپنی پراکسی حماس کے ذریعے اسرائیل پر حملہ کیا، پھر دوسری پراکسی حزب اللہ کو میدان میں اتارا، پھر تیسری پراکسی حوثیوں سے امریکہ اور مغربی تنصیبات پر حملے کرائے، اور آخر کار اکتوبر ۲۰۲۴ کو براہِ راست اسرائیل پر حملہ آور ہوا۔
پھر سنجیدہ مذاکرات کی بجائے ایرانی قیادت پینترے بدل کر روزانہ بھڑکیں مارتی رہی،
"اگر ہم پر حملہ ہوا تو ہم پورے خلیج کو جلا کر خاکستر کر دیں گے۔"
ہمارے نادان دوست اسے سنجیدہ لے کر سوشل میڈیا پر دعویٰ کرتے رہے کہ امریکہ صرف دھمکیاں دے رہا ہے، ورنہ اندر سے ڈرا ہوا ہے، حملہ کبھی نہیں کرے گا۔
اب یہ رہا جنگ اور یہ خلیج کا میدان،
جتنے گرجتے رہے اتنے ہی اب برسے بھی۔
ہم تو بھئی اس جنگ میں ایران کے ساتھ ایسے کھڑے ہیں جیسے وہ پاک بھارت جنگ میں پاکستان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے تھے ۔
واپس کریں