طاہر سواتی
بالآخر ایران نے سرکاری طور پر سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای، ان کی بیٹی، داماد اور پوتے، پاسداران انقلاب کے کمانڈر انچیف محمد پاکپور، اور خامنہ ای کے سینئر سیاسی مشیر و ایران کی دفاعی کونسل کے سیکرٹری علی شمخانی کی شہادتوں کا اعلان کر دیا ہے۔
اس سانحے کے بعد ایران میں 7 روزہ تعطیل اور 40 روزہ قومی سوگ منایا جائے گا۔
اس کا مطلب ہے کہ کافروں کا دعویٰ سچا تھا اور ایرانی امارت سارا دن جھوٹ بولتی رہی۔
حالانکہ وہ صبح دس بجے مارے گئے تھے جبکہ وہ اپنے کمپاؤنڈ میں چند اعلیٰ مشیروں کے ساتھ دوسری منزل پر اعلیٰ سطحی میٹنگ کر رہے تھے۔
سنہ 2023 سے جب سے ایران کی شہ پر حماس نے یہ جنگ شروع کی ہے، اسرائیل نے جب بھی کسی بڑے نقصان کا دعویٰ کیا ہے ایران اسے جھٹلاتا رہا ہے اور پھر بالآخر اس کی تصدیق کرتا رہا ہے۔
اور ہم بھی ہمیشہ ایرانیوں کے دعوؤں پر یقین کرتے رہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان عارضی طور پر قیادت سنبھالیں گے جبکہ بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی کو ایران کے اسلامی انقلابی گارڈ کور کا نیا کمانڈر انچیف مقرر کر دیا گیا ہے۔
حالانکہ خود صدر بھی کل سے لاپتہ ہیں۔
علی خامنہ ای کی موت کے بعد ایران نے خلیجی ممالک اور خطے میں امریکی اڈوں پر تاریخ کی سب سے 'تباہ کن' فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
اس وقت امارات، بحرین، قطر، کویت سمیت 27 مقامات پر ایران کے زبردست حملے جاری ہیں۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت دفاع کے مطابق:
آج ایران کی طرف سے امارات کی جانب 137 بیلسٹک میزائل داغے گئے، جن میں سے 132 کو فضائی دفاع نے تباہ کر دیا، جبکہ 5 خلیجِ فارس میں گر گئے۔ مزید برآں، ایران کی طرف سے 209 ون وے اٹیک ڈرون داغے گئے، جن میں سے 195 کو روک لیا گیا۔
قطر کا کہنا ہے کہ ایرانی حملوں میں 16 افراد زخمی ہوئے ہیں۔
ایران عرب خلیجی ریاستوں کو کیوں نشانہ بنا رہا ہے، حالانکہ انہوں نے "عوامی سطح پر" ایران کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا تھا اور ایران پر حملے ان اڈوں سے نہیں ہو رہے؟
ایرانی حکومت بخوبی جانتی ہے کہ وہ اسرائیل یا اپنی سرحدوں پر موجود امریکی جنگی جہازوں کے خلاف براہ راست جوابی کارروائی کی پوزیشن میں نہیں ہے۔
وہ خلیجی ریاستوں کو نشانہ بنا رہا ہے تاکہ علاقائی بحران پیدا کر دے جو واشنگٹن اور یروشلم کو کشیدگی کم کرنے پر مجبور کر دے۔
لیکن ایران کی اس احمقانہ حکمت عملی نے ان ممالک کو امریکی صف میں دھکیل دیا جنہوں نے اب تک ایران کے خلاف امریکی یا اسرائیلی کارروائیوں کے لیے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دینے میں مزاحمت کی تھی۔
ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس نے دوسری اور تیسری سطح کی قیادت کا انتخاب کر لیا ہے۔
دوسری جانب ٹرمپ کا کہنا ہے کہ:
"مجھے علم ہے کہ خامنہ ای کے بعد کون احکامات جاری کر رہا ہے، اب تک ایرانی ردعمل ہماری توقع سے انتہائی کم ہے۔"
ادھر امریکی اس وقت اے ٹی اے سی ایم ایس بیلسٹک میزائل کے ذریعے ایران کے میزائل لانچنگ سائٹس کو نشانہ بنا رہا ہے۔ اگر امریکہ اس میں کامیاب ہو گیا تو ایران کی ساری دفاعی قوت مفلوج ہو جائے گی، کیونکہ میزائل اور ڈرون کے علاوہ ایران فضائیہ شاہ دور کے امریکی ساختہ F-14 پر انحصار کر رہی ہے۔
ہمارے دانشوروں کے ہاں ایران کا تمام پڑوسی مسلمان ممالک پر حملہ جائز ہے کیونکہ وہاں امریکہ کے اڈے ہیں اور امریکہ نے ایران پر حملہ کیا ہے۔
لیکن ان ہی دانشوروں کے نزدیک پاکستان کا افغانستان میں حملہ ناجائز تھا، بے شک وہاں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے اڈے ہیں اور بے شک وہ وہاں سے پاکستان پر حملے کر رہے ہیں۔
افغانستان تازہ ترین!
شاید پاکستان کی خوش قسمتی کہ امارتِ شیطانی نے ایسے وقت میں جنگ کی ابتدا کی جہاں اب کسی کو ان کی چیخ و پکار سننے کے لئے بھی وقت نہیں ۔
آج صبح مقامی وقت کے مطابق تقریباً 5:40 بجے پاکستانی فضائیہ نے کابل پر کلستر بموں سے ایک بڑا حملہ کر دیا ہے جس سے زیر زمین بنکرز میں چھپایا گیا امریکی اسلحہ تباہ ہو گیا ہے۔ کابل شہر میں متعدد دھماکے سنے گئے اور میریٹ ہوٹل کو بھی نقصان پہنچا ہے۔
پاکستان ہتھیاروں کے ڈپوؤں اور امریکہ کی تیار کردہ انفراسٹرکچر اور بچی کھچی تنصیبات کو نشانہ بنا رہا ہے۔
یہ جنگ ختم ہونے کے بعد، طالبان کے پاس نہ کوئی ہیلی کاپٹر بچے گا، نہ بکتر بند گاڑیاں اور نہ ہی جدید ہتھیار!
اور انشااللہ بہت جلد ہم ہیبت اللہ کے ساتھ اِنَّا لِلّٰہِ پڑھیں گے۔
واپس کریں