دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اینج نہ سہی تو پھر اینج سہی
طاہر سواتی
طاہر سواتی
ایران نے بھارت کے Pushpak اور Parimal نامی دو LNG جہازوں کو آبنائے ہرمز سے گزرنے دیا ہے۔ یہ وہی بھارت ہے جس کے پانیوں میں ایرانی جہاز ڈبو دیا گیا اور ڈوبنے والے اہلکاروں کو سری لنکا نے بچایا، انڈین تماشا دیکھتے رہے۔
یہ وہی بھارت ہے جس کے وزیراعظم مودی نے ایران پر حملے سے قبل اسرائیل کا دورہ کیا اور اسے اپنا فادر لینڈ یعنی آبائی وطن قرار دیا، جس نے اسرائیلی پارلیمان سے خطاب میں حماس اور اس کے اکتوبر والے حملے کی شدید مذمت کی۔ انڈیا اور اسرائیل کی قربتوں کا اندازہ ائیرپورٹ پر مودی کے استقبال سے لگائیں، جہاں نیتن یاہو کی اہلیہ نے مودی کے لباس والے رنگ کا لباس زیب تن کیا تھا۔
اس سب کے باوجود ایران کو بھارت سے عشق اور عربوں سے دشمنی ہے۔ جن عربوں پر ایران صبح شام حملے کر رہا ہے، ان میں سے کس نے اسرائیل کے ساتھ مودی والا عشق لڑایا ہے؟
بظاہر "مرگ بر امریکہ" کے نعرے لگا کر اور امت مسلمہ کے اتحاد کا چورن بیچ کر ایران والے دراصل اپنے مخصوص متعصب نظریے کی ترویج کے لیے سرگرداں ہیں۔ اوپر سے ان ملاؤں کے پیروکاروں کی خواہش ہے کہ تمام مسلمان ممالک وہی کریں جو ایران چاہتا ہے، یعنی ایران کا دوست ان سب کا دوست اور ایران کا دشمن ان سب کا بھی دشمن ہو، اور جو ایسا نہ کرے اس سے کھلی دشمنی۔
بقول ایرانی سفیر "بھارت ایران کا دوست ہے اور ہمارے اور بھارت کے مفادات مشترکہ ہیں"۔ پھر ایرانیوں کو ایک بات اب یاد رکھنی چاہیے کہ سعودی عرب ہمارا دوست ہے اور ہمارے اور سعودیہ کے مفادات بھی مشترکہ ہیں۔
سعودی عرب، قطر، امارات، بحرین اور کویت میں لاکھوں پاکستانی روزگار سے وابستہ ہیں، جن سے سالانہ اربوں ڈالر زرمبادلہ آتا ہے، ایران سے سوائے فرقہ واریت کے اور کیا مل رہا ہے؟
میں علامہ جواد نقوی کو ایک معتدل عالم سمجھتا تھا اور اکثر دوستوں کو ان کا حوالہ بھی دیا کرتا تھا، لیکن ان کی حالیہ بکواس کے بعد محترم افضل بٹ کا یہ مقولہ ماننے پر مجبور ہوں کہ مولوی کبھی انسان نہیں بن سکتا۔
پاکستان میں شیعہ ملا اور ان کے بچے امن اور سکون سے زندگی بسر کر رہے ہیں، اس کے باوجود یہ پاکستان سے زیادہ ایران کے وفادار ہیں، ان کو وہاں کا نظام زیادہ اچھا لگتا ہے۔ اسی طرح دیوبندی مولویوں کو پاکستان سے زیادہ افغانستان اور اس کے نظام سے زیادہ پیار ہے۔ تو پھر ٹھیک ہے، ان کے لیے پاکستان میں انہی ممالک کے نظام نافذ کیے جائیں۔
پھر حقیقت یہ ہے کہ گزشتہ دو ہفتوں کی بمباری سے مرنے والوں سے چار گنا زیادہ پاسداران انقلاب نے صرف جنوری کے مہینے میں مارے ہیں۔
ابھی کل ہی پاسداران انقلاب نے دھمکی دی ہے کہ حکومت مخالف کسی مظاہرے کی اجازت نہیں دی جائے گی، اگر کسی نے کوشش کی تو ان کا حشر پچھلے والوں سے بھی برا ہوگا۔
آج کے بعد فوج ہماری پاسداران پاکستان اور روحانی پیشوا ہمارے آیت اللہ حافظ جی، اسی طرح شہباز شریف آج کے بعد میاں شہبازاللہ۔ جس طرح ہیبت اللہ اور آیت اللہ کے خلاف بولنے اور احتجاج کی اجازت نہیں اور وہ خدا کے سوا کسی کو جوابدہ نہیں، آج کے بعد ہمارے والے اپنے احکامات میں کسی کو جوابدہ نہ ہوں۔
یہ جمہوریت، بنیادی حقوق، آزادی اظہار رائے، جلسے جلوس وغیرہ کی اگر ان کے آئیڈیل ممالک میں اجازت نہیں تو یہاں بھی ان چونچلوں کی کوئی گنجائش نہیں۔
پاکستان میں رہنے والا کوئی شخص اگر پاکستان کی بجائے ایران یا افغانستان سے زیادہ وفاداری رکھتا ہے اور پاکستان توڑنے کی بات کرتا ہے تو اس کے ساتھ وہی سلوک کیا جائے جو وہاں اس جیسوں کے ساتھ کیا جاتا ہے۔
اینج نہ سہی تو پھر اینج سہی ۔
واپس کریں