دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
افغانستان کی 45 سالہ مہم جوئی کا اخلاقی سبق
طاہر سواتی
طاہر سواتی
کل شام افطاری کے وقت افغانستان کی طالبان دہشت گرد حکومت نے پاکستان کے خلاف اعلانیہ جنگ کا آغاز کردیا، جس میں ٹی ٹی پی اور بی ایل اے کے دہشت گرد بھی شامل ہیں۔
اس جارحیت کے جواب میں پاکستان نے باقاعدہ آپریشن "غضب للحق" کا اعلان کردیا۔ رات دو بجے تک 72 کارندے ہلاک کردیے گئے جبکہ 120 سے زائد زخمی تھے۔
16 پوسٹیں مکمل تباہ، جبکہ 7 پوسٹوں پر قبضہ کرلیا گیا۔ ننگرہار میں ایک ایمونیشن ڈپو، بٹالین ہیڈکوارٹر، سیکٹر ہیڈکوارٹر اور 36 سے زائد ٹینک، آرٹلری گنیز اور اے پی سیز تباہ کردی گئیں۔
اس شافی علاج کے بعد طالبان نے خود یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان کردیا۔
جبکہ پاکستان نے جنگ بندی قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے جنگ جاری رکھنے کا اعلان کیا ۔
سحری کے بعد کابل میں وزارت داخلہ کے عمارت کو نشانہ بنایا ۔ قندھار اور کابل میں ان کے ہیڈ کوارٹرز کو بھی نقصان پہنچا ہے ۔
افغانستان کے کئی علاقوں پر پاکستانی مسلح افواج قبضہ کرچکی ہیں ۔
طالبان آفیشل فضل ہادی مسلم یار نے اقوم متحدہ کے سیکیورٹی کونسل سے اپیل کی ہے کہ پاکستان پر جنگ بندی کے لئے دباؤ ڈالے ۔ یہ بھارت والی صورت حال بن رہی ہے ۔
اب وقت ہے کہ کھل کر بات کی جائے۔
طالبان نے یہ حملہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب مودی اسرائیل کے خصوصی دورے پر تھے۔ طالبان کی اس جارحیت کے پیچھے بھارتی اور دو قریبی برادر اسلامی ممالک کی شہ شامل تھی۔ لیکن انشاءاللہ اس بار بھی ان سب کو منہ کی کھانی پڑے گی اور طالبان کا انجام بھارت سے بھی برا ہوگا۔
مودی نے اسرائیلی پارلیمان سے جو خطاب کیا، اس میں ہمارے لیے بہت بڑا سبق ہے۔ اس نے حماس کو دہشت گرد اور اکتوبر کے حملوں کو بہت بڑا سانحہ قرار دیا اور ہر سطح پر اسرائیل کی حمایت کا اعلان کردیا۔ اب حماس مکمل طور پر ایران کی پراکسی ہے۔ کیا مودی کے اس بیان پر آپ نے ایران یا پاکستان میں ایرانی ہمدردوں کا کوئی ردعمل دیکھا؟ بھارت اور اسرائیل افغان طالبان کی مکمل حمایت کررہے ہیں۔ کل طالبان کے حملے پر بھارت اور اسرائیلی میڈیا نے کھل کر کابل کا ساتھ دیا اور ان کے جھوٹے پروپیگنڈے کو خوب نشر کیا۔
جماعت اسلامی ہو یا جمعیت علمائے اسلام یا کوئی شیعہ تنظیم جو آئے روز القدس کے نام پر اس ملک میں دنگے فساد کرتی رہتی ہے، کیا انہوں نے اس گٹھ جوڑ کے خلاف کوئی احتجاج کیا؟
کسی نے طالبان کو یہودیوں کا آلہ کار قرار دیا؟
بلکہ الٹا دیوبندی مولوی یا تو مکمل طور پر طالبان کی طرف داری کرتے ہیں یا منافقت اپناتے ہوئے صلح اور مذاکرات کا بھاشن شروع کردیتے ہیں۔ بلکہ فضل الرحمان اور سراج الحق تو اس ساری صورت حال کی ساری ذمہ داری پاکستان پر ڈال رہے ہیں۔
حقیقی صورت حال یہ ہے کہ اب روس جیسا ملک بھی طالبان کو دہشت گردی کا مورد الزام ٹھہرا رہا ہے۔ حالانکہ روس دنیا کا پہلا ملک ہے جس نے طالبان حکومت کو تسلیم کیا تھا۔
دو روز قبل روسی وزیر خارجہ نے ایک پریس کانفرنس میں برملا کہا کہ
"طالبان علاقائی ہمسایہ ممالک کو دھمکیاں دے رہے ہیں اور افغانستان کی سرزمین سے جہادیوں کو کارروائیاں کرنے کی اجازت دے رہے ہیں۔ جب تک افغانستان کے اندر موجود خطرات اور محفوظ پناہ گاہوں کا خاتمہ نہیں کیا جاتا، کابل کے ساتھ تعلقات مزید قریب نہیں ہوں گے۔"
فتنہ نیازی یعنی پی ٹی آئی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کھلم کھلا طالبان کی حمایت کرتے نظر آئے۔
جبکہ دوسری جانب لبرلز اور سیکولر افغانی جو امریکہ، یورپ اور کینیڈا میں سیٹل ہیں، وہ کل رات سے کھل کر طالبان کی حمایت کررہے ہیں۔ اسکائی نیوز میں کام کرنے والے یلدا حکیم نامی افغانی بیشرم عورت نے تو طالبان کی جانب سے فضائی حملے کا بھی اعلان کردیا۔ اسکائی نیوز نے پہلے اس خبر کو نشر کیا اور پھر اسے ڈیلیٹ کردیا جب ہوش آیا کہ طالبان کے پاس تو فضائیہ ہی نہیں۔ ‏جب پاک فضائیہ کے طیارے کابل میں افغان طالبان کی ملٹری تنصیبات کو نشانہ بنارہے تھے،تب افغان طالبان فائرنگ کے ذریعے طیاروں کو گرانے کی ناکام کوشش کررہے تھے۔جن کے پاس ائیرڈیفنس سسٹم موجود نہیں ہے انہیں سکائی نیوز اور یلدا حکیم نے ائیرفورس دیدی تھی۔
دنیا بھر میں پھیلے ہوئے سیکولر افغانی صرف ڈر کی وجہ سے طالبان کی حمایت پر مجبور ہیں کہ افغانستان میں ان کے رشتہ داروں کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ جبکہ جس پاکستان میں ہائبرڈ نظام یا مارشل لاء کا شور ہے، وہاں جس کا جو جی میں آئے ریاست کے خلاف زیر اگلتا رہتا ہے کیونکہ کوئی خوف ڈر نہیں ۔
اس نازک وقت میں بھی آپ کو پشاور، اسلام آباد، لاہور اور کراچی جیسے بڑے شہروں میں آپ کوٗ افغانستان کی وکالت کرنے والے زیادہ ملیں گے۔ اس وقت ملک کو بیرونی جارحیت سے زیادہ اس اندرونی خلفشار سے خطرہ ہے۔
اب ذرا سوچیں!
آپ نے کشمیریوں کے لیے کیا کچھ نہیں کیا، اور ان کا رویہ بھی دیکھ لیا۔
افغانیوں کے لیے پہلے روس اور پھر امریکہ سے ٹکر لی، آج وہی آپ پر حملہ آور ہیں۔ اور دس افغانوں کی خباثت سے ایک فلسطینی جنم لیتا ہے، انشاءاللہ بہت جلد آپ اس کا بھی مزہ چکھ لیں گے۔ اور جن کو ایران کا خمار چڑھا ہوا ہے، وہ ذرا ایران امریکہ معاہدہ ہونے دیں، ایرانی مولوی ساری غلط فہمیاں دور کردیں گے۔
افغانستان کی 45 سالہ مہم جوئی کا اخلاقی سبق یہ ہے کہ امت مسلمہ کا کیڑا نکال کر صرف اپنے ملک اور عوام کی فکر کرنی چاہیے۔ لیکن مولویوں اور مدارس کو ریاستی کنٹرول میں لائے بغیر یہ خواب کبھی بھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔
واپس کریں