طاہر سواتی
ایران نے آذربائیجان کے نخچیوان میں واقع ایئر پورٹ کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا۔حکام کے مطابق، ایک ایرانی ڈرون نے ہوائی اڈے کی ٹرمینل عمارت کو نشانہ بنایا، جبکہ دوسرا شورآباد گاؤں کے ایک سکول کے قریب گرا۔ اطلاع ہے کہ چھ افراد زخمی ہوئے ہیں۔
الجزیرہ کے مطابق ایران نے اس حملے سے لاتعلقی کا اظہار کیا ہے لیکن آذربائجانی حکام کے مطابق یہ حملہ شاہد ڈرون سے نہیں بلکہ طویل فاصلے تک مار کرنے والے آرش-2 ڈرون سے کیا گیا۔
اس وقت لاریجانی نے پاسدان انقلاب اور پراکسی روزانہُ کوُ ایسے حملوں جبکہ سیاسی حکومت کوُ اس کے تردید پر لگایا ہوا ہے ۔
آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اس نے نخچیوان کے ہوائی اڈے پر ایرانی ڈرون حملے کے بعد ایران کے سفیر کو طلب کر لیا ہے۔
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب چند روز قبل صدر الہام علییف نے آیت اللہ علی خامنہ ای کی وفات پر ایران سے تعزیت کا اظہار کیا تھا۔
آذربائیجان کے صدر علییف نے آج ایران کے ڈرون حملے کے بعد کہا:
“ یہ پہلا موقع نہیں جب ایرانی ریاست نے آذربائیجان اور آذریوں کے خلاف دہشت گردانہ کارروائیاں کی ہیں۔جارحیت کی یہ کارروائی سنگین کشیدگی اور علاقائی استحکام کے لیے براہ راست خطرہ ہے۔
آج صبح مجھے اطلاع ملی کہ ایران کے نائب وزیر خارجہ نے باکو کو فون کرکے آذربائیجان سے لبنان میں موجود ایرانی سفارتخانے کے ان ملازمین کو نکالنے میں مدد کی درخواست کی جو وہاں رہ گئے ہیں، کیونکہ ان کے پاس یہ صلاحیت نہیں ہے۔ انہوں نے یہاں تک کہا کہ وہ اس کی ادائیگی کے لیے تیار ہیں، لیکن میں نے کہا کہ اس کی ضرورت نہیں ہے۔ اگر ہم مشکل وقت میں مدد فراہم نہیں کریں گے تو پھر کب مدد کریں گے؟
میں نے فوری طور پر مدد فراہم کرنے اور طیارہ بھیجنے کی ہدایت دے دی۔اس سب کے باوجود، نخچیوان پر اس قدر گندے، بزدلانہ اور نامردانہ طریقے سے حملہ کرنا—یہ داغ ان کے گندے اور بدصورت چہرے سے کبھی نہیں دھلے گا”
ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ
“ امریکہ نے ’بغیر کسی وارننگ‘ کے ’انڈین بحریہ کے مہمان‘ ایرانی جہاز کو تباہ کیا”
ویسے یہ حملہُ اگر کسی مسلمان ملک کی مہمانداری میں ہوتا تو ایران نے فوری طور پر اس کے خلاف اعلان جنگ کرنا تھا ۔
اسُوقت ایران ہر اس اسلامی ملک کے خلاف میدان جنگ برپا کرنا چاہتا ہے جس کے امریکہ کے ساتھ تعلقات ہیں ، دلیل یہ دی جارہی ہے کہ یہ یہودی و نصاریٰ کے گود میں بیٹھے ہوئے ہیں ۔
انقلاب سے پہلے ایران کس کی گود میں تھا؟ اسکے سب سے بہترین دوست امریکہ اور اسرائیل تھے،
اور صدر ٹرمپ نے کہا کہ مجھے خامنہ ای کا بیٹا قبول نہیں،ایران کے نئے رہنما کے انتخاب میں میری شمولیت ضروری ہے،
مطلب چاچا ٹرمپ یہ بتانا چاہتے ہیں کہ باباجی کی وراثت کا آصل حقدار میں ہی ہوں ۔ باباجی ایران کے تباہی کے جس سفر پر گزشتہ چار دھائیوں پر دھیرے دھیرے خراماں تھے میں نے وہ سفر پلک جھپکتے میں طے کردیا ہے ۔
واپس کریں