طاہر سواتی
اسرائیل نے ایران کے باسِیج فورس کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل غلام رضا سلیمانی، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی، ان کے بیٹے مرتضیٰ لاریجانی، کونسل کے ڈپٹی سکیورٹی آفیسر علی رضا بیات اور ان کے محافظوں کے پورے گروپ کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے۔ سارے دن کی خاموشی کے بعد آخرکار ایران نے اس کی تصدیق کردی۔
اگر آپ گزشتہ تین سالہ ریکارڈ چیک کرلیں تو اسرائیل نے جب بھی کسی بڑے ہدف کو مارنے کا دعویٰ کیا ہے، حماس، حزب اللہ اور ایران نے وقتی تردید کے بعد اسے تسلیم کرلیا ہے۔ لیکن ایران کا کوئی بھی دعویٰ ابھی تک ثابت نہیں ہوسکا، اس کی تازہ مثال ایرانی سرکاری میڈیا میں نتنیاہو کی موت کی خبر تھی جسے ہمارے سوشل میڈیا کے دانشوروں نے خوب اچھالا لیکن آخر میں جھوٹ نکلا۔
علی لاریجانی کی موت اس جنگ میں سپریم لیڈر کے بعد ایران کا سب سے بڑا نقصان ہے۔ علی لاریجانی اس وقت سب سے سینئر اور بااثر شخصیت تھے اور پاسدارانِ انقلاب کو عملی طور پر وہی کنٹرول کررہے تھے، جبکہ باسِیج فورس پاسدارانِ انقلاب کے بعد چار لاکھ نفوس پر مشتمل سب سے بڑی نظریاتی فورس تھی، جس کا مظاہروں کو دبانے اور مظاہرین کو نشانِ عبرت بنانے میں سب سے بڑا کردار رہا ہے۔
کل صدر ٹرمپ سے سوال ہوا کہ ایرانی عوام رجیم چینج کے لیے سڑکوں پر کیوں نہیں نکلتی ، تو اس کا جواب تھا کہ وہ نہتے ہیں، جب وہ مظاہرہ کرتے ہیں تو عمارتوں میں چھپے سنائپر انہیں نشانہ بناتے ہیں۔ ان سنائپرز کا تعلق باسِیج فورس سے ہے۔
صدر ٹرمپ نے آبنائے ہرمز کو اکیلے کھولنے کا اعلان کردیا ہے۔ اگر وہ اس میں کامیاب ہوجاتے ہیں تو پھر ممکن ہے وہ ان تمام ممالک کے جہازوں سے محصول چونگی وصول کریں جو ان کا مذاق اڑایا کرتے تھے۔
اب سوال یہ ہے کہ اس جنگ کا مستقبل اور انجام کیا ہے؟
امریکہ یہاں نہ جمہوریت قائم کرنے آیاہے اور نہ ہی ایران میں رجیم چینج یا مکمل قبضے میں اسے کوئی زیادہ دلچسپی ہے۔ افغانستان میں یہ تجربہ وہ کرچکے ہیں۔
اس جنگ کے تین واضح مقاصد ہیں جو جنگ سے قبل مذاکرات کی میز پر بھی رکھے گئے تھے۔
پہلا، ایران کے ایٹمی پروگرام کا خاتمہ جس کے تحت اب تک معلوم تمام ایٹمی ری ایکٹرزاور لیبارٹریاں تباہ کی جاچکی ہیں، بلکہ ایرانی صدر کے مطابق ۴۵۰ کلوگرام افزودہ یورینیم بھی ان زیرِ زمین تنصیبات میں پڑی ہے جنہیں فی الحال نکالا نہیں جاسکتا۔ لیکن امریکہ اور اسرائیل کسی محفوظ مقام میں ذخیرہ شدہ یورینیم کی تلاش میں ہیں، جس دن تصدیق ہوگی اسی روز وہاں محدود زمینی آپریشن کرکے لے جائیں گے۔
جنگ کا دوسرا مقصد ایران کے میزائل پروگرام کا خاتمہ تھا۔ میزائل کی فیکٹریاں کافی حد تک تباہ ہوچکی ہیں، لیکن مختلف مقامات پر میزائل کے ذخیرے موجود ہیں جنہیں وقت کے ساتھ بمباری کرکے تباہ کردیا جائے گا یا ایران انہیں استعمال کرکے ختم کردے گا۔
تیسرا مقصد ایران کے پراکسیز کا خاتمہ تھا۔ حماس کا انجام سب کے سامنے ہے، حوثی فی الحال خاموش ہیں۔ حزب اللہ کی اعلیٰ قیادت ماری جاچکی ہے اور اس وقت ایران حزب اللہ کو کوئی مدد پہنچانے کی پوزیشن میں نہیں۔ اسرائیل نے اپنے چار لاکھ ریزرو فوجیوں کو بلانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ لبنان پر زمینی حملہ کیا جائے۔ اگلے ہفتے اسرائیل اور لبنانی حکومت کے درمیان فرانس میں مذاکرات ہورہے ہیں۔ اگر زمینی حملے میں حزب اللہ کو شکست ہوجاتی ہے تو یہ اسرائیل کے لیے صدی کی سب سے بڑی جنگی کامیابی ہوگی۔ اسرائیلی کابینہ نے اگلے تین ہفتوں کے لیے جنگ کے بجٹ کی منظوری دے دی ہے۔
دردِ سر:
اس جنگ میں امریکہ کا سب سے بڑا دردِ سر شاہد ڈرون رہے ہیں۔ ان سستے ڈرونز کی مثال چار آنے کی ماچس کی سی ہے جو کروڑوں کے گودام کو جلانے کے لیے کافی ہوتی ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ دس ہزار ڈالر کے ایک ڈرون کو تباہ کرنے کے لیے لاکھوں کا میزائل ضائع کرنا پڑتا ہے، یعنی شہباز کو مملولے کے پیچھے چھوڑنے والی بات ہے۔
ایران نے یوکرین کے خلاف یہ شاہد ڈرون روس کو دیے تھے، یوکرینیوں کو اس سے نمٹنے میں کافی مہارت حاصل ہوچکی ہے۔ یوکرین نے پہلے امریکہ کو مدد کی پیشکش کی جسے ٹرمپ نے یہ کہہ کر رد کردیا کہ ہم ڈرون ٹیکنالوجی کے موجد ہیں، ہمیں کسی کی ضرورت نہیں۔
کل برطانوی پارلیمنٹ سے اپنے خطاب میں یوکرینی صدر زیلنسکی نے کہا کہ
“ متحدہ عرب امارات، قطر، سعودی عرب اور کویت میں ڈھائی سو کے قریب یوکرینی ماہرین پہنچ گئے ہیں۔ یہ وہی فوجی ماہرین ہیں جو "شاہد" ڈرونز کے خلاف مدد اور دفاع کرنے کا طریقہ جانتے ہیں۔
ہماری ایرانی شاہد ڈرونز کو انٹرسیپٹ کرنے والے ڈرونز کی پیداواری صلاحیت دو ہزار یومیہ ہے۔ اگر مزید سرمایہ کاری کی جائے تو یہ پیداواری صلاحیت مزید بڑھ سکتی ہے۔"
اس کا مطلب ہے کہ یوکرین خلیج کے تمام متاثرہ ممالک کو ہفتے کے اندر دو ہزار تک ڈرون مہیا کرسکتا ہے۔ یاد رہے ان ڈرونز کی قیمت شاہد ڈرون سے تین گنا کم ہے۔
ایران نے یوکرین کے خلاف بھی اعلان جنگ کردیا ہے اور اس کے حامیوں کے نزدیک یہ بالکل درست اقدام ہے ، جبکہُ یوکرین کا موقف یہ ہے کہ ہم اس جنگ کا حصہ نہیں ہیںُ، ہمارے ڈرونز ایران کے خلاف جارحیت کی بجائے ان ممالک کی دفاع کے لئے استعمال ہوں گے ۔
کیا ایرانی ڈرونز کا گزشتہ پانچ سالوں سے یوکرین کے خلاف استعمال جائز تھا؟
دوسری جانب امریکہ نے مشرقِ وسطیٰ میں جدید E-2D Hawkeye ریڈار طیارے تعینات کرنا شروع کردیے ہیں۔ اب ڈرونز کا ان طیاروں میں نصب ریڈار سے بچنا مشکل ہوگا۔ اگلے دو ہفتوں تک ایرانی ڈرونز کی فضا میں حکمرانی ختم ہوجائے گی۔
اب جہاں روس جیسا طاقتور ملک ایک چھوٹے سے یوکرین کو گزشتہ پانچ برسوں میں فتح نہ کرسکا، وہاں امریکہ نے ہزاروں کلومیٹر دوری سے چند ہفتوں میں ایران جیسے طاقتور ملک کو اتنا بڑا نقصان پہنچا دیا جو یوکرین سے تین اور اسرائیل سے ۸۰ گنا بڑا ہے۔
اب ہمیں اچھا لگے یا برا، حقیقت یہ ہے کہ امریکہ تاحال اس جنگ کے مقاصد کے حصول میں کافی حد تک کامیاب رہا ہے۔
واپس کریں