
ایک عرصہ سے جسمانی اور پھر ذہنی غلامی کی زندگی کاٹنے والے غلامی کے اس قدر عادی ہو چکے ہیں کہ اپنے حقوق کی جدو جہد کرنے والوں سے حسد کرنے لگے ہیں۔حسد کی یہ آگ اس لیے بھڑکتی ہے کہ ایک آزاد انسان انہیں وہ سب کچھ یاد دلاتا ہے جو انہوں نے خود ہار چکا ہوتا ہے ۔ بقولِ شخصے جو برسوں تاریک غلامی کے گیت گا چکے، وہ آزادی کے نغمہ سراؤں کو حسد کی آگ میں جلا دیتے ہیں، کیونکہ ان کی آواز ان کی مردہ روح کو چبھتی ہے۔ لمبی غلامی اور خوف نے حاسدین اور ذہنی غلاموں کے اندر عجیب عادت پیدا کر دی ہے، جہاں انہیں زنجیریں بوجھ نہیں بلکہ مانوس سہارا لگنے لگی ہیں۔
برسوں سے ذہنی غلامی کاٹنے والے حقوق مانگنے واکوں کو ملک دشمن اور دہشت گرد سمجھنے لگے ہیں۔غلامی کے عادی یہی لوگ اپنے حقوق کی جدوجہد کرنے والوں کو دیکھ کر بے چینی محسوس کرتے ہیں، کیونکہ ان کی کوشش ان کی اپنی بزدلی کو عیاں کر تی ہے۔کسی نے کیا خوب کہا کہ’’ حقیقی آزادی اور حقوق کے طالب جب قید خانے کی دیواروں کو توڑنے کی بات کرتے ہیں تو غلامی اور خوف کے عادی لوگ چیخ اٹھتے ہیں کہ دیواروں کے بغیر ہم کیسے زندہ رہیں گے‘‘غلامی کی گہری عادتوں کے باعث ذہنی غلام اپنے نجات دہندہ کو بھی مشکوک نظروں سے دیکھ رہے ہیں اسے بے سکون کرنے والا قرار دے رہے ہیں۔
موجودہ دور کے ذہنی غلام چونکہ غلامی میں سکون پا چکے ہیں اس لئے، حقوق کے لئے اٹھنے والوں کو فسادی اور نوجوانوں کا جوش قرار دے کر خود کو تسلی دے رہے ہیں۔غلامی کا زہر نسلوں تک اتر جائے تو لوگ اپنی بیڑیوں کو گلے کا ہار سمجھنے لگتے ہیں، اور بیڑیاں توڑنے والے کو ملک دشمن قرار دیتے ہیں۔ اپنے حقوق کے لیئے گھروں سے نکلنے والے جب قفس کی سلاخیں توڑتے ہیں تو غلامی کے عادی پرندے چیخ اٹھتے ہیں، ہمیں آسمان کیوں دکھاتے ہو؟ ہم تو پنجرے میں رہنے کے عادی ہیں۔
بے روزگاری اورمہنگاءی کی چکی میں پسے ہوئے یہ ذہنی غلام وہ لوگ ہیں، جب اپنا بجلی، گیس ، پٹرول اور راشن کا بل دیکھتے ہیں تو گھروں میں بیٹھ کر حکمرانوں کو گالیاں نکالتے ہیں، کوستے ہیں لیکن جب آذاد کشمیر عوامی ایکشن کمیٹی کے ہزاروں لوگ اپنے حقوق کے لیءے احتجاج کریں تو انہیں بھارتی ایجنٹ قرار دیتے ہیں کیونکہ جب غلامی نسلوں تک چلی جائے تو ذہنی غلام اور بزدل اپنے حقوق کے مطالبے کو ایک خواب سمجھنے لگتے ہیں، اس خواب کو دیکھنے والوں کو پاگل کہتے ہیں اور غلامی کے ساءے میں زنجیروں کو اپنا زیور سمجھتے ہیں۔ بے روزگاری اور مہنگاءی میں پسے ہوئے پریشان حال یہی ذہنی غلام جو غلامی اور خوف کے سائے میں سکون کی نیند سو چکے ہیں، اپنے حقوق کے مطالبے کو خوابِ خراب سمجھتے ہیں اور نجات دہندہ بننے کی کوشش کرنے والے کو ملک دشمن اور دہشت گرد کہتے ہیں۔
خوف اور ذہنی غلامی کی عادت جب روح کا حصہ بن جاءے تو انسان، اپنے حقوق کے لیے نکلنے اور مرنے والوں کو پاگل اور بے وقوف کہہ کر اپنی بزدلی پر پردہ ڈال لیتا ہے اور خود کو محب وطن کہتا ہے۔
کئی مرتبہ سب سے بڑا دشمن باہر کا ظالم نہیں ہوتا، بلکہ وہ بزدل اور ذہنی غلام ہوتا ہے جو غلامی کو اپنا تقدیر مان چکا ہو۔
واپس کریں