منظر الحق
ہماری سفری کہانیاں شہروں، ان کے آس پاس مضافات میں خوبصورت عمارتوں ،پھولدار باغیچوں، اونچے پہاڑوں ،عمیق وادیوں اور گھنے جنگلات کے تذکروں سے عموما لدی پھندی ہوتی ہیں۔آج کی سفری داستان ذرا مختلف نوعیت کی ہے،جاپان کو سورج نکلنے والی سرزمین کہا جاتا ہے اور یہاں کی تاریخ اور تہذیب و تمدن صدیوں سال پرانی ہے۔یہ دنیا کا واحد
ملک ہے،جس کی تباہی و بربادی کے ذمہ داروں نے،یہاں دو ایٹمی بم گرائے اور لاکھوں افراد لقمہ اجل بن گئے۔ان مظالم کے باوجود نہ انکی کمر ٹوٹی، نہ انہوں نے اپنی تہذیب و تمدن کو خیرباد کہا اور نہ ہی بمباری کرنے والوں کے خلاف نفرت و حقارت سے پیش آئے۔
ہماری اس کہانی کا پہلا سبق ہوائی اڈے پر ملا، جہاز کی سیڑھیوں سے اترتے ہی،ہماری بھوک چمک اٹھی تھی،سامنے ایک ڈھابے پر ایک نوجوان لڑکی کھانے پینے کی اشیاء فروخت کر رہی تھی،ہم اس کے روبرو کھڑے ہو گئے اور ڈبل روٹی لگے پنیر کے ٹکڑے اور گوشت کے پارچے طلب کیئے۔گوشت میں خاصی گلابی رنگت تھی،
ہمیں شبہ ہوا کہ یہ کہیں خنزیر نہ ہو اور استفسار کرنے پر اس نے اثبات میں سر ہلایا،ہم نے اسے فورا منع کردیا۔دوسری جانب ٹیونا مچھلی ڈبل روٹی میں نظر آئی، ہم نے اس کی طرف انگلی اٹھائ،بھئی ہمیں یہ پکڑا دو،اس نے اوپر لگی پرت پر اشارہ کیا اور اس میں بھی گوشت کے پارچے تھے،جو استفسار کرنے پر سور کے گوشت کی آمیزش نکلی۔
اب ہم اچھنبے میں پڑ گئے ، مچھلی کے ساتھ خنزیر کہاں سے آ گیا، اس نے مسکراتے ہوئے جواب دیا، جاپان میں جہاں بھی آپ گوشت مانگیں گے،اس میں خنزیر کی ملاوٹ ہوگی۔ یہ سن کے ہمارے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے، اب ایک ہفتہ یہاں زندگی کیسے گزاریں گے اور کیا طعام کھائیں گے،لہذا یہ طے پایا، گھاس پھونس پر اکتفا کی جائے۔ہم نے اگلے ایک ہفتے تک، اس لڑکی کی بات ذہن نشین کر لی، گائے بکری کی طرح سبزی و گھاس پھونس پر گزارا کیا اور شاید اسی وجہ سے ہمارا کچھ موٹاپا بھی کم ہوگیا۔
سرائے خانے تک پہنچنا کوئ مشکل کام نہیں ہونا چاہیئے تھا،پر برقی آلات سے گفت و شنید اور افہام و تفہیم کرنی ضروری تھی اور ہماری جستجو و باربار کی غلطیوں کو دیکھ کر،چلتے پھرتے مسافروں نے امداد فراہم کر دی۔چھک چھک کے بیشمار اڈے تھے،اس قدر چہل پہل کے باوجود افراتفری نہیں دکھائی دی، برقی کتبے پر اوساکا شہر جانے والی چھک چھک گاڑی ڈھونڈی اور اپنی بلٹی پر درج اندراجات کے مطابق ڈبہ تلاش کیا اور رخت سفر ایک کونے میں ڈال کر،اپنی مطلوبہ کرسی پر براجمان ہو گئے۔ڈبہ میں اجنبی غیر مقامی مسافروں کی بھانت بھانت کی بولیاں سنائ دے رہیں تھیں،پر مقامی جاپانی سرگوشیوں میں گفتگو فرما رہے تھے اور کسی نے بھی مڑ کر دوسروں کی جانب نہ دیکھا اور نہ برہمی کا اظہار کیا۔وہ سب صبر و تحمل سے بیٹھے تھے،اپنی اپنی دنیا و مافیہا میں مگن اور دوسروں کے آرام کو مدنظر رکھتے ہوئے،برقی موسیقی کے آلات بھی کان میں اڑسے ہوئے تھے۔
سبک رفتار چھک چھک اڑی چلی جا رہی تھی،گھنٹے بھر کا سفر پتہ ہی نہ چلا اور نہ کوئ گڈاگڈ کی آواز آئ اور نہ ہی پہیوں کی چیخم دھاڑ سنائ دی۔ہر اڈے پر پہلے مسافر اترتے،پھر دوسرے مسافر سوار ہوتے،اس دوران بھی ڈبہ میں سکوت قائم رہتا،نہ شور نہ ہنگامہ اور نہ اڈے پر احباب و رشتہ داروں کا ہجوم اور بھیڑ۔
آخرکار ہم چھک چھک اڈے سے باہر نمودار ہوئے،سامنے ایک لمبی قطار لگی ہوئ تھی اور ہم بھی اس سانپ کی دم کا حصہ بن گئے۔دس بیس لمحوں بعد، ہم کرائے کی گاڑی میں بیٹھ گئے اور گاڑی بان کو سرائے خانہ کا پتہ،اپنے برقی باتونی آلے (فون) میں دکھا دیا۔گاڑی بان نے اپنے برقی آلے میں پتہ ڈالا،گاڑی نے فورا اشارہ سمجھ لیا اور ہم منزل مقصود کی جانب رواں دواں ہو گئے۔ہر گاڑی اپنی اپنی متعین سمت پر گامزن، ناک کی سیدھ میں چلی جا رہی تھی، مجال ہی کوئ اشارے کے بغیر یکایک راستہ بدلے اور شاید بھونپو بجانے کو اس دیس میں، ناشائستہ و نازیبا حرکت قرار دیا جا چکا ہے۔
اب ہماری گاڑی سرائے خانے کی حدود میں داخل ہو رہی تھی،گاڑی بان نے ہمارا نہایت مہذبانہ و مودبانہ طریقے سے سر جھکا کر شکریہ ادا کیا اور سامان سفر گاڑی کی کمر کھول کر نکالا اور سرائے خانے کے منتظمین کے حوالے کر دیا۔کرائے کے پیسے برقی جن نے پہلے ہی ادا کر دیئے تھے،ہم لندن کے باسی ہیں ،یہ کرایہ نہایت مناسب لگا اور نہ کوئ حیل و حجت اور نہ اضافی پیسوں کا تقاضہ!
سرائے خانے کے منتظمین نے خاطر خواہ آو بھگت کی،سامان اٹھائے اندر داخل ہوئے اور ٹھنڈے مشروب سے ہماری تواضع کی گئ،ساتھ ہی ہمیں ایک چھوٹا ٹھنڈا یخ تولیہ پکڑا دیا،جس نے ہاتھ اور منہ کی صفائ و تازگی کا کارنامہ سر انجام دیا۔ان چیزوں سے فراغت پا کر،منتطمین کو کاغذات تھمائے،ان کی جانچ پڑتال و نوک پلک دیکھنے کے بعد، وہ واپس کر دیئے گئے۔ہمیں برقی چابی تھماتے ہوئے،منتظم لڑکی نے سرائے خانے کے اصول و ضوابط سے آگاہ کیا اور چلتے چلتے نہایت دھمے لہجے میں التماس کی،آپ اپنے جوتے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے اتار دیں۔ہماری جاپانی تہذیب سے کچھ شناسائ و آگاہی پہلے سے تھی،یہ لوگ اپنے گھروں میں جوتے لے کر داخل نہیں ہوتے اور انھیں باہر اتار دیتے ہیں،تاکہ گندگی و غلاظت گھر میں نہ آئے۔ہمیں حیرانگی سرائے خانہ کی منتظمہ کی درخواست پر ہوئ،جہاں بیشمار مہمان روزانہ گزرتے ہوں اور وہاں ایک میلہ لگا ہوتا ہے،اسکے باوجود صفائ ستھرائ کا خیال اور غیر مقامی سیاحوں سے التماس!
ہم شام کو نہا دھو کر،نئے کپڑے زیب تن کر کے باہر نکلے اور کرائے کی گاڑی منگوا کر شہر کا رخ کیا۔سائے لمبے ہو چکے تھے، سورج غروب ہونے کو تیار کھڑا تھا ،شاید سارے دن کی محنت و مشقت سے تھک چکا تھا اور سمندر کی آغوش میں سکون و اطمینان تلاش کرنے کا مصمم ارادہ تھا۔سڑکوں پر روشنیاں جھلملا رہی تھیں،دکانوں کے رنگ برنگے برقی اشتہار جل بجھ رہے تھے،کچھ ناچ بھی رہے تھے اور شام کا عجب طلسماتی سماں تھا۔ہم نے ایک ڈھابے پر خاتون کو بھٹہ بھونتے دیکھا،فورا اس کی طرف لپکے اور ایک پاونڈ قیمت ادا کر کے،نمک مسالحے چھڑکے اور گرما گرم بھٹہ منہ کی زینت بن گیا۔وہ ابھی دھکتی آگ سے نکالا گیا تھا،ہونٹوں پر وہ چپک سا گیا اور جلن کا شدت سے احساس ہوا،جلدی سے ٹھنڈا پانی ہونٹوں پر لگایا اور پھر کچھ چین آیا۔اب عقل کا استعمال کرتے ہوئے،چند لمحات توقف کے لیئے وقف کیئے اور بھانپ کے نکلنے کا انتظار کیا،پھر دوبارہ اسے منہ سے لگایا اور چند لمحوں میں وہ چٹنی ہو گیا۔اب اس کا گٹھل پھینکنے کے لیئے کوڑے دان کی تلاش شروع ہوئ اور لگ بھگ آدھ گھنٹے کی کاوش و جستجو کے بعد،لوگوں سے پوچھ گچھ کے بعد، ایک کونے کھدرے میں کچرے کا ڈبہ رکھا ہوا پایا،اس میں کوڑا کرکٹ ڈال کر،ذرا اطمینان و چین کا سانس لیا اور آئندہ ایک تھیلی اپنے ساتھ رکھنے کا تہیہ کر لیا۔اب ہم نے دانستہ طور پر ادھر ادھر نظریں دوڑائیں، دور دور تک کسی کوڑے دان کی شکل نہ دکھائ دی اور لوگوں نے بتایا،اپنا کوڑا اپنے ساتھ گھر لے جائیں،چونکہ یہ حکومت کی ذمہ داری نہیں ۔ مقامی لوگ اس قدر صفائ ستھرائ کے پابند ہیں،کہیں نہ کوئ تھیلی اڑتی دکھائ دی اور نہ ہی کہیں کچرے کا ڈھیر نظر آیا،ساری قوم اپنا کوڑا کرکٹ تھیلیوں میں جمع کر کے،اپنے گھر لے جا کر پھینکتی ہے۔
ہم سڑک پر چلتے ہوئے کھا رہے تھے،پر یہ احساس ہوا، آس پاس کوئ بھی بندہ جگالی نہیں کر رہا تھا اور سب لوگ تمیز سے بیٹھ کر کھانا کھاتے ہیں۔بمشکل کوئ نوجوان چبڑ چبڑ کھاتا نظر آئے گا،بزرگوں سے اس قسم کی توقع کرنا بالکل فضول امر ہے،چونکہ وہ اپنی تہذیبی روایات کا بہت احترام، لحاظ اور پاس کرتے ہیں۔ اگلے دن سے ہم بھی چوکنا ہو گئے،سڑک پر کھانے پینے کا ارادہ ترک کر دیا اور کرسی میز کے بناء ،کھانا پینا حرام کر لیا گیا ۔
ہم روزانہ سیر و تفریح کے لیئے نکل جاتے،کبھی کبھار راستہ بھول جاتے اور پھر مقامی لوگوں سے راستہ دریافت کرتے ۔ان میں سے بیشتر افراد
ہمیں منزل تک پہنچا دیتے اور ہم ان کے نہایت مشکور ہوتے،
اور وہ بھی کئی دفعہ جھک جھک کر ہمیں آداب و سلام کرتے ۔یہ حادثہ محض ایک دفعہ نہیں ہوا ،بلکہ یہ سلسلہ کئی دفعہ دہرایا گیا ،ہم مخمصے کا شکار ہو گئے تھے، یہ کس قماش کی قوم ہے،جو اپنا کام کاج و کاروبار سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر، ایک اجنبی مسافر کو منزل مقصود تک پہنچا دیتے ہیں،اسی بناء ہم شرمندہ و شرمسار ہو جاتے۔
بازار کھچا کھچ بھرے ہوتے ہیں،اس بھیڑ میں گر کسی راہ چلتے جاپانی کی آپ سے ٹکر ہو جائے اور پھر وہ فورا سے پیشتر تین دفعہ سر جھکا کر معافی مانگے گا۔ جاپان کا دستور ہے کہ وہ عزت دینے کے لئے دوسرے شخص کو سان کہتے ہیں ،ٹکرانے کی صورت میں، وہ تین دفعہ سان سان اور سان کہ کر مخاطب کرے گا اور آپ سے جھک کر معذرت کرے گا،پھر دونوں اپنی اپنی راہ لیں گے، نہ کوئی تو تو میں میں، نہ کوئی بد تمیزی اور تلخ کلامی۔
جاپانی دو مزاہب کے پیروکار ہیں،شنتو اور بدھ مت اور ان دونوں کے بیشمار مندر اور عبادت گاہیں سارے ملک میں پھیلی ہوئ ہیں۔بڑے بڑے شاندار محلوں جیسے مندر،جن کے چاروں اطراف میں پھولوں سے لدے پھندے باغیچے و سبزہ زار ہوتے ہیں اور پانی کی نہریں یا جھیل ہو گی،یہ دونوں آنکھوں کی تراوٹ کا سبب بنتے ہیں ۔
ہم اپنی سیاحت کے دوران کئ مندروں و عبادت گاہوں میں گئے،بدھ مت کے مندروں میں مورتیوں کی پوجا پاٹ رائج ہوتی ہے اور لوگ بدھا کے سامنے سجدہ ریز ہوتے ہیں۔اس کے برعکس شنتو عبادت گاہ میں داخلے کی شرطیں ہیں،پہلے کنوئیں کے پانی سے دائیں اور بائیں ہاتھ کو دھوئیں،جیسے وضو کر رہے ہوں۔اسی کٹورے کے پانی سے منہ پر ہاتھ پھیریں اور پھر لبوں کو گیلا کر کے،کٹورا الٹا کر کے واپس رکھ دیں۔اب پگوڈا میں بنی عبادت گاہ کا رخ کریں،جہاں لوگ خاموشی سے مناجات پڑھ رہے ہوتے ہیں اور آوازیں صرف بہتے پانی کے جھرنے اور چڑیوں کے چہچہانے کی سنائ دیں گی۔عبادت ک طریقہ کچھ یوں ہے،کھڑے ہو کر دو دفعہ ہلکے سے تالی بجائیں،تاکہ مقدس ہستی متوجہ ہو جائے اور چند سکے پھینک کر اپنی دعا مانگیں۔ان شنتو عبادت گاہوں میں ہمیں وہی سکون ملا ،جس کا احساس اپنے مقدس مقامات پر ہوا اور شاید اس کی وجہ شنتو دین کا فطرت سے لگاو اور اس کی پرستش ہو گی۔
ان کے معاشرے میں،انسانیت کی معراج نظر آئ اور گر وہ کلمہ گو ہو جائیں،یقینا ان سے بہتر مسلمان اس ارض مقدس پر نہ ملے۔گو یہ بات ہمارے بڑے بھائ نے ستر کی دھائ میں،جاپانی سرزمین سے واپسی پر بتائ تھی اور اس وقت ہم سب ان کی اس گلفشانی پر ہکا بکا رہ گئے تھے،پر اب اس کی تصدیق بھی ہو گئ اور مہر بھی ثبت ہو گئ۔
واپس کریں