
فرانسیسی انقلاب(1789) آنے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی تھی کہ وہاں نمک پر بھی ظالمانہ ٹیکسGabelle لگا دیا گیا تھا، لوگوں کے گھروں میں گھس کر باقاعدہ یہ ٹیکس وصول کیا جاتا تھا اور پھریہی ٹیکس فرانس کے عوام کے لیے جبر اور ناانصافی کی علامت بنا۔بادشاہت نے نمک کی خرید و فروخت پر مکمل اجارہ داری (monopoly) قائم کر رکھی تھی۔ نمک سرکاری گوداموں سے ہی خریدا جا سکتا تھا۔
ہر شخص 8 سال سے اوپر کو سالانہ ایک مخصوص مقدار تقریباً 7 پونڈ فی شخص نمک خریدنا لازمی تھا، چاہے وہ استعمال کرے یا نہ کرے۔ یہ کوٹہ پورا نہ کرنے پر سزا ہوتی تھی۔
ٹیکس جمع کرنے والے اہلکار gabelous لوگوں کے گھروں میں گھس کر چیک کرتے تھے کہ کہیں زیادہ نمک تو نہیں رکھا جو اسمگل شدہ ہو سکتا تھا۔ یہ سرکاری دخل اندازی عوام کے لیے انتہائی توہین آمیز تھی۔
علاقوں کے درمیان نمک کی اسمگلنگ عام تھی کیونکہ قیمتوں میں بہت فرق تھا۔ پکڑے جانے پر جرمانے، جیل، غلامی اور بعض صورتوں میں موت کی سزا بھی ہوتی تھی، ہزاروں لوگ اس جرم میں پھنسے۔
اشرافیہ، مذہبی پیشوا اور سرکاری افسران اس ٹیکس سے مستثنیٰ تھے، جبکہ غریب عوام خاص طور پر کسان اور شہری نچلے طبقات اس کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھاتے تھے۔ یہ ٹیکس سسٹم کی ناانصافی کی مثال تھا۔
انقلاب شروع ہونے کے بعد قومی اسمبلی نے مارچ 1790 میں اسے ختم کر دیا، جو عوام کے لیے بڑی فتح تھی۔
بعد میں نپولین نے 1806 میں اسے دوبارہ نافذ کیا، لیکن مختلف شکل میں، اور یہ 1945-46 تک فرانس میں رہا۔وسیع تر تناظرGabelle اکیلے انقلاب کا سبب نہیں بنا بلکہ یہ اقتصادی بحران، غربت، خوراک کی قلت، امیرغریب کی خلیج اور روشن خیالی کے خیالات کے ساتھ ملا کر عوامی غم و غصے کو بھڑکا رہا۔ نمک بنیادی ضرورت تھی، اس لیے اس پر ٹیکس سب سے زیادہ تکلیف دہ تھا۔
مذکورہ بالا مثال ہمیں اچھی طرح سمجھاتی ہے کہ غیر منصفانہ اور جابرانہ ٹیکس کس طرح عوامی بغاوت کو جنم دے سکتے ہیں۔
واپس کریں