دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
غزہ جنگ بندی ناکام اسرائیلی دہشت گردی جاری
No image امریکا دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے کہیں مشرقِ وسطیٰ میں امن قائم کرانے کے لیے مذاکرات کی بات کرتا ہے تو کہیں ابراہیمی معاہدوں کے ذریعے اقتصادی خوشحالی اور استحکام کے نعرے لگاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ صہیونی دہشت گردوں کی سرشت میں جو شر پسندی پنہاں ہے وہ مذاکرات اور معاہدوں سے قابو میں نہیں لائی جا سکتی۔ اب یہی دیکھ لیجیے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا امن بورڈ اور ان کی اعلان کردہ غزہ جنگ بندی ناکام ہو گئی اور نا جائز صہیونی ریاست نے غزہ میں مزید 9 فلسطینی شہید کر دیے۔ غاصب صہیونیوں نے غزہ پر حملے کیے جس کے بعد متاثرہ علاقوں میں آگ بھڑک اٹھی، بچوں، خواتین اور بزرگوں سمیت متعدد افراد جلتی ہوئی عمارتوں میں پھنس گئے۔ ریسکیو اہلکاروں کو متاثرین تک پہنچنے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، 9 افراد شہید اور متعدد زخمی ہو گئے۔ غزہ حکام کا کہنا ہے کہ 11 اکتوبر کی جنگ بندی کے بعد سے اب تک 950 سے زائد فلسطینی شہید اور 2903 زخمی ہوچکے ہیں۔ غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے سے اب تک 781 لاشیں نکالی جا چکی ہیں، جبکہ امدادی کارروائیاں مختلف علاقوں میں جاری ہیں۔ ادھر، ناجائز صہیونی ریاست نے لبنان جنگ بندی معاہدے کے بعد ایک بار پھر جنوبی لبنان پر ڈرون حملہ کر دیا جس میں متعدد افراد زخمی ہو گئے۔ لبنان کی قومی خبر رساں ایجنسی کے مطابق جنوبی لبنان میں زیفتا کفروہ سڑک پر ایک گاڑی کو نشانہ بنانے والے اسرائیلی ڈرون حملے میں کئی افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا جب اسرائیل اور لبنان کی حکومتوں نے واشنگٹن میں امریکی حکام کی ثالثی میں ہونے والے متعدد مذاکرات کے بعد جنگ بندی پر اتفاق کیا تھا۔ اس صورتحال سے یہ واضح ہوتا ہے کہ نا جائز صہیونی ریاست کی دہشت گردی امریکا کے ایما اور اس کی پشت پناہی میں ہو رہی ہے ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ ایک طرف امریکا کی ثالثی میں مذاکرات ہو رہے ہوں اور دوسری جانب ایک فریق دوسرے پر حملہ کر دے۔ یہ ایک نا قابلِ تردید حقیقت ہے کہ امریکی اور یورپی امداد و اعانت کے بغیر غاصب صہیونی مشرقِ وسطیٰ کے کسی ایک علاقے میں بھی کوئی کارروائی نہیں کر سکتے۔ افسوس ناک اور قابلِ مذمت بات یہ ہے کہ مسلم ممالک کے حکمران یہ سب دیکھ کر بس بیانات جاری کرنے پر اکتفا کر رہے ہیں۔ گزشتہ پون صدی سے زائد عرصے سے جاری صہیونی دہشت گردی اس بات کو پوری طرح واضح کرتی ہے کہ اس مسئلے کا حل مذاکرات وغیرہ سے نہیں نکل سکتا بلکہ مسلم ممالک کو متحد ہو کر اسرائیل اور اس کے پشت پناہوں یعنی امریکا اور یورپ کے خلاف میدان میں اترنا ہوگا۔ یہ آج ہو یا کل، بالآخر ہونا یہی ہے اور اس کے بغیر صہیونی دہشت گردی کو روکنا ممکن نہیں ہے۔ پاکستان، ترکیہ، سعودی عرب اور ایران جیسے ممالک کو چاہیے کہ وہ عملی اقدامات کے لیے لائحۂ عمل طے کرنے پر سنجیدگی سے غور کریں اور پھر کسی قابلِ عمل منصوبے پر اتفاق کر کے میدان میں اتریں تاکہ اس مسئلے کا مستقل اور پائیدار حل نکالا جا سکے۔
بشکریہ نوائے وقت
واپس کریں