دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
”ابراہیمی معاہدہ“ کے ثمرات و مضمرات؟
افضال ریحان
افضال ریحان
جب دنیا بھر کے مسلمان”سنت ابراہیمی “ کی پیروی میں حج اور قربانی کی تیاری میں مشغول تھے امریکی پریزیڈنٹ ڈونلڈ ٹرمپ نے آٹھ اہم عرب و اسلامی ممالک کی قیادتوں سے ڈیجیٹل کانفرنس میں”ابراہام اکارڈ“ یا ”ابراہیمی معاہدہ “میں شمولیت کا مطالبہ کر ڈالا- ٹرمپ نے تہران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ ڈیل کو”معاہدہ ابراہیمی“سے جوڑتے ہوئے بشمول سعودی عرب، قطر اور پاکستان دیگر عرب خلیجی ممالک سے یہ مطالبہ کیا کہ وہ اجتماعی طور پر ”معاہدہ ابراہیمی“میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول پر لائیں۔ ممکن ہے دو ایک ممالک کے پاس اس حوالے سے کوئی جواز ہو جسے قبول کیا جا سکتا ہے لیکن دیگر تمام ممالک اسے قبول کریں! اس سےخطے میں نہ صرف جنگوں کا خاتمہ ہو جائے گا بلکہ دیرپا امن قائم ہوگا۔ ٹرمپ اس سلسلے میں اس حد تک چلے گئے کہ ایران کے ساتھ مستقل جنگ بندی کے بعد وہ یہ چاہیں گے کہ ایران بھی اس ابراہیمی معاہدہ میں شمولیت اختیار کر لے۔ ٹرمپ کے اس اچانک مطالبے کے بعد اس ڈیجیٹل کانفرنس میں غیر معمولی خاموشی چھا گئی، یہ خاموشی اس قدر نمایاں تھی کہ ٹرمپ کو یہ پوچھنا پڑا، آپ لوگ لائن پر ہیں بھی یا نہیں؟ اس پر بھی آگے سے کوئی جواب نہ آیا۔اس کانفرنس کا مقصد تو ایران کے ساتھ کسی مجوزہ امریکی معاہدے پر ان اتحادی ممالک کی قیادتوں کو اعتماد میں لینا تھا لیکن اپنی سیماب طبیعت کی مطابقت میں ٹرمپ نے اپنے اتحادی عرب مسلم ممالک کو ایک نوع کے مخمصے میں ڈال دیا، بعدازاں بھی ماسوائے سعودی عرب اور پاکستان کے دیگر عرب ممالک نے اپنی خاموشی کو نہیں توڑا۔ سعودی عرب کی طرف سے کہا گیا کہ اسرائیل کے ساتھ کسی بھی قسم کے سفارتی تعلقات یا ابراہیمی معاہدہ کا حصہ بننا مسئلہ فلسطین کے مستقل، جامع اور منصفانہ حل کے ساتھ مشروط ہے جبکہ پاکستانی فارن منسٹر نے واشنگٹن میں بیٹھ کر واضح کر دیا کہ فلسطینی ریاست قائم کیے بغیر اسرائیل کو تسلیم کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔باوثوق ذرائع کے مطابق ٹرمپ کا بیان جنگ بندی کی سفارتکاری کو معاہدہ ابراہیمی کے وسیع تر دائرے کیلئے استعمال کرنے کی کوشش ہے، ابراہیمی معاہدہ اور ایران سے ڈیل دو الگ الگ معاملات ہیں۔پاکستانی دفترِ خارجہ کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ ہم کسی ایسے معاہدے کا حصہ بننے کی خواہش کو مسترد کرتے ہیں اور بانیء پاکستان جناح صاحب نے جو کچھ کہا تھا اس پر کار بند ہیں۔آگے بڑھنے سے قبل بہتر ہوگا کہ یہاں ”معاہدہ ابراہیمی“ پر ایک طائرانہ نظر ڈال لی جائے۔ سیدنا ابراہیمؑ ایسی بڑی شخصیت ہیں جنکی عظمت کا تقدس تینوں آسمانی مذاہب یہودیت، مسیحیت اور اسلام میں موجود ہے بلکہ ان تینوں آسمانی مذاہب کو"ابراہیمی مذاہب"بولا جاتا ہے کیونکہ سیدنا ابراہیمؑ تینوں مذاہب کے جد امجد ہیں۔جس طرح یہود سیدنا ابراہیمؑ کے فرزند سیدنا اسحاق ؑ کی اولاد ہیں، اسی طرح ہمارے آقاﷺ سیدنا ابراہیمؑ کے دوسرے فرزند سیدنا اسماعیلؑ کی اولاد میں سے ہیں جبکہ سیدنا عیسیٰ ؑ کی والدہ ماجدہ سیدہ مریم سلام اللہ بنی اسرائیل کے صاحب کتاب پیغمبر سیدنا داؤدؑ کی اولاد سے تھیں جو کہ آل ابراہیمؑ ہی تھے پندرہ ستمبر دو ہزار بیس کو واشنگٹن میں ابراہام اکارڈ کے ریفرنس سے پہلی باضابطہ تقریب منعقد ہوئی جس میں ٹرمپ کے داماد جیراڈ کشنر پیش پیش تھے انھوں نے ہی یہ مسودہ تیار کیا تھا، اس فنکشن میں نہ صرف ابراہام اکارڈ کے نمایاں پہلو واضح کیے گئے بلکہ کچھ عرب ممالک نے ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کا اعلان بھی کر دیا ابتداً متحدہ عرب امارات اور بحرین اس معاہدے کا حصہ بنے بعد ازاں مراکش، سوڈان اور قازقستان نے بھی اس معاہدے میں شامل ہوتے ہوئے اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کر لیے، ابراہیمی معاہدے میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات محض سفارت تک محدود نہیں ہونگے بلکہ اقتصادی، سیاحتی، سماجی، سائنسی اور تہذیبی طور پر بھی مراسم بڑھائے جائیں گے تاکہ مسلم اور یہود ہر دو اقوام کی دوریاں قربتوں میں بدل سکیں، اسرائیل ان ممالک کی کیا معاونت کر سکتا ہے اور یہ ممالک اسرائیل کے ساتھ اپنے تجارتی و کاروباری روابط کس طرح بڑھا سکتے ہیں؟ واضح رہے کہ مصر نے 1979 میں اوراُردن نے 1994 میں اسرائیل کو تسلیم کرتے ہوئے اپنے سفارتی و معاشی روابط بڑھا لیے تھے جبکہ ترکیہ وہ ملک ہے جس نے 1948 میں اسرائیلی ریاست قائم ہونے کے بعد اگلے ہی برس 1949 میں اسے تسلیم کر لیا تھا، امریکی پریذیڈنٹ ٹرمپ نے جس طرح کے ماحول میں ابراہیمی معاہدے میں شمولیت کی فرمائش کی ہے یہ قطعی نامناسب ہے اسے احمقانہ نہ بھی کہا جائے تو غیر دانشمندانہ ضرور ہے کیونکہ سات اکتوبر کے ردعمل میں جو کچھ ہوا اس کے بعد اس طرح کی فرمائش کرنا قطعی درست نہیں، کوئی بھی بڑا قدم اٹھانے سے پہلے ایک نوع کا ماحول بنایا جاتا ہے۔ کوئی معاملہ جتنا بھی درست ہو لیکن نتائج کے حوالےسے جب تک ماحول نہ بنے، نتیجہ بڑی خرابی کی صورت نکلنے کا اندیشہ رہتا ہے۔ البتہ امریکی قیادت کے سامنے یہ ایشو ضرور اٹھایا جانا چاہیے کہ آپ لوگوں نے اپنے ان دوست یا اتحادی ممالک میں اس حوالے سے زمین تیار کرنے کیلئے کیا کاوشیں کی ہیں؟؟ عامتہ المسلمین کے اذہان میں صدیوںہے اسے منطقی انداز میں دھو ڈالنے کیلئے آپ کی اتحادی حکومتیں کیا اہتمام کر پائیں ؟ عرب امارات نے اسرائیل کو تسلیم کر رکھاہے ان کیلئے آپ نے کیا کیا؟ انہیں سکیورٹی فراہم کی ؟۔ اس سے بھی پہلے آپ لوگ چند ملینز فلسطینیوں کی دلجوئی یا متبادل بندوبست کیلئے کیا پیکیج لائے ؟ محض اوچھے اسلوب میں مطالبہ ہانک دینا، بجائے فائدے کے ایران پر حملے کی طرح، الٹا نقصان دہ ثابت ہوگا۔
بشکریہ جنگ
واپس کریں