دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
”الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے“
No image وفاقی اور آذاد کشمیر حکومت کی جانب سے گزشتہ اکتوبر میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات کو3 ماہ کے اندر منظور کرنے کا تحریری معاہدہ ہوا تھا، جس پر احتجاج ختم کر دیا گیا تھا جبکہ بعد میں صرف3 مطالبات پورے کیئے گئے۔یہ سب ریکارڈ پر ہے اور پیڈ میڈیا آپ کو نہیں بتائے گا۔
اس ضمن میں جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے9 جون کی احتجاجی کال راتوں رات نہیں بلکہ تین ماہ قبل دی تھی لیکن4 جون سے ہی کریک ڈاون کر کے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے75 راہنماوں کو گرفتار کر لیا گیا جبکہ ایک کارکن نامعلوم گولی سے شہید ہو گیا۔
4 جون کو ہی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے سربراہ شوکت میر نے حکومت اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر پر واضع کیا کہ ان کی عوامی تحریک غیر مسلح اور پر امن ہو گی۔
حکومت کے اشتہاروں پر چلنے والا میڈیا مسلسل جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے لیڈران کو بغیر ثبوت بھارتی ایجنٹ قرار دے رہا ہے۔یہی نہیں بلکہ اس جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو ہی کا لعدم قرار دے دیا گیا ہے جس کے ساتھ وفاق اور آذاد کشمیر حکومت کی جانب سے ایک تحریری معاہدہ کیا گیا تھا۔
امر واقع یہ ہے کہ اصل میں بھارتی ایجنٹوں کا کردار انہوں نے ادا کیا ہے جنہوں نے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے 38 مطالبات کو3 ماہ کے اندر منظور کرنے کے تحریری معاہدے کی خلاف ورزی کی اور بھارت کو پراپوگنڈے کا بھر پور موقع فراہم کیا۔
اپنی نالائقیوں کے باعث بغیر ثبوت کے بھارتی ایجنٹی کا لیبل آسانی سے لگایا جا سکتا ہے لیکن زمینی حقائق کو چھپایا نہیں جا سکتا۔
آج اگر پاکستانی شہ رگ آذاد کشمیر میں عوام اور قانون نافذ کرنے والے ادارے بشمول فوج آمنے سامنے ہے تو اس کے ذمہ دار وہی لوگ ہیں جنہوں نے مذکورہ معاہدے کی خلاف ورزی کی اور ریاست میں عدم استحکام پیدا کیا۔کاروائی تو اصل میں ان لوگوں کے خلاف ہونی چاہیئے،لیکن ادھر تو الٹا چور کوتوال کو ڈانٹ رہا ہے۔
واپس کریں