دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
‘میں کاکروچ ہوں’ جنریشن زی کی احتجاجی تحریک بھارتی سیاست میں کیا معنی رکھتی ہے؟ احمد مغل
No image بھارت کی جن زی کاکروچ تحریک نے دارالحکومت میں اپنا پہلا احتجاج کیا ہے، جس میں وزیر تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
نئی دہلی، بھارت – 17 سالہ سوراؤکشواہا نے صرف کپڑوں کا ایک جوڑا پیک کیا اور وسطی بھارت کے مدھیہ پردیش کے اپنے گاؤں سے ہفتہ کی صبح سویرے نئی دہلی پہنچنے کے لیے اپنے بڑے بھائی کے ساتھ رات کی ٹرین لی۔
بھائیوں نے ابھیجیت دیپکے کے امریکہ سے آنے کا انتظار کرتے ہوئے فٹ پاتھ پر آرام کیا۔
بھارتی نوجوانوں میں غصہ – جہاں ملک کی 1.4 بلین آبادی کا نصف 25 سال سے کم عمر ہے – کافی عرصے سے ابال پر ہے، جو پیپر لیکس اور ملک کے سب سے بڑے اسکول بورڈز میں بے ضابطگیوں کی وجہ سے بڑھ گیا ہے۔
اور اس غصے نے ایک غیر متوقع راستہ اختیار کیا ہے جو ایک طنزیہ سیاسی جماعت، نام نہاد کاکروچ جنتا پارٹی (کاکروچ پیپلز پارٹی، یا سی جے پی) کی شکل میں سامنے آیا ہے، ایک ایسی جماعت جوجو طعنوں اور مذاق سے پیدا ہوئی ہے۔
گزشتہ ماہ بھارتی چیف جسٹس کے نوجوانوں کو کاکروچ سے تشبیہ دینے والے تبصروں نے وسیع پیمانے پر ناراضی کو جنم دیا۔ بدلے میں، بوسٹن یونیورسٹی کے حالیہ گریجویٹ دیپکے نے اس وقت ایکس پر سوچ کا اظہار یو ں کیا: "کیا ہوگا اگر تمام کاکروچ اکٹھے ہو جائیں؟”
یہ بھارتی انٹرنیٹ پر ایک سنسنی بن گیا، جس نے سی جے پی(کاکروش جنتا پارٹی) کے آغاز کی راہ ہموار کی، جو وزیر اعظم نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کےساتھ ایک کھلواڑ ہے۔ دیپکے کے معمولی مذاق نے انسٹاگرام پر 22 ملین سے زیادہ فالوورز کو متوجہ کیا، جو مودی کی پارٹی سے دوگنا ہے، جو 2014 سے اقتدار میں ہے۔
لیکن دیپکے اور سینکڑوں دیگر جو ہفتہ کو نئی دہلی میں جمع ہوئے، مودی کے وزیر تعلیم سے استعفیٰ کا مطالبہ کر رہے تھے، اب مذاق نہیں کر رہے۔
دیپکے نے بڑھتے ہوئے ہجوم سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "مودی حکومت کے لیےایک سادہ وارننگ ہے: وزیر تعلیم سے استعفیٰ دلواؤ۔” "ورنہ ہم یہاں سے نہیں جائیں گے۔
‘تمام کاکروچ، جمع ہو جاؤ!’
اس تحریک کا حصہ کشواہا ہیں، جو مدھیہ پردیش کے ایک طالب علم ہیں، جنہوں نے حال ہی میں بھارت کے سینٹرل بورڈ آف سیکنڈری ایجوکیشن سے 12ویں جماعت کے اسکول چھوڑنے کے امتحانات پاس کیے ہیں۔ امتحانات کا یہ عمل کئی بے ضابطگیوں، بشمول جوابی شیٹ پر ڈیجیٹل مارکنگ کے بارے میں تنازعہ پر مبنی تھا۔
وہ اس بات کے بارے میں پریقین نہیں کہ وہ اعلیٰ تعلیم کا متحمل ہو سکتا ہے، لیکن کشواہا اس حکومت سے زیادہ ناراض ہے”جو ان لوگوں کے تئیں لاتعلق رہی ہے جنہوں نے انہیں اقتدار میں آنے کے لیے ووٹ دیا”۔
اسکول بورڈ کا یہ ہنگامہ ٹاپ میڈیکل امتحان کے منسوخ ہونے کے ایک ہفتہ بعد ہوا جب پیپر لیک ہو گیاتھا۔ ایسے واقعات، پریشان طلباء کہتے ہیں، سالانہ ہوتے ہیں، جن میں کوئی سیاسی جوابدہی نہیں ہوتی۔
آن لائن ٹریکشن حاصل کرنے کے بعد، دیپکے کی سی جے پی نے تحریک کے لیے حمایت کو متحرک کرنے کے لیے سب سے پہلے نوجوانوں کے غصے کو استعمال کیا۔
پارٹی نے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کا مطالبہ کرنے کے لیے نئی دہلی ، دارالحکومت میں ایک مخصوص احتجاجی مقام پر "تمام کاکروچوں کو جمع ہونے” کی اپیل کی تھی۔
کشواہا نے ہجوم میں کہا، "میں نے انہیں محض تفریح کے لیے انسٹاگرام پر فالو کیا۔” "لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ ہم واقعی وزیر سے استعفیٰ دلوا سکتے ہیں۔”
اگر اور جب یہ ہوتا ہے تو یہ مودی کے 12 سالہ اقتدار میں پہلی بار ہوگا۔
بھارت کی جن زی آبادی – دنیا کا سب سے بڑا ایسا گروپ ہےجس نےاپنی بلوغت میں صرف مودی کی ہندو قوم پرست بی جے پی کی حکمرانی دیکھی ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ حکومت نے اختلاف رائے کو مجرمانہ قرار دیا ہے، اور مودی کے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے بھارت کئی جمہوری معاملات میں پیچھے رہ گیا ہے
ایک موسم جوپیچھے رہ گیا
امریکہ میں جس سردی کو وہ پیچھے چھوڑ آیا تھا، اس کی مناسبت سے پہناہوا لباس اس نے ابھی تک پہنا ہواتھا، دیپکے نے ایک سیاہ زپ
اپ ہڈی میں، چہرے پر کیپ نیچے کھینچی ہوئی،اور اسی طرح اس نے نئی دہلی کی دم گھٹنے والی اور، دباؤ والی گرمی میں قدم رکھا۔
اس کی جھلک پانے کے لیے کیمروں کے ہجوم سے گزرتے ہوئے، دیپکے مائیک تک پہنچا اور ہجوم کو نعرے لگانے کا اشارہ کیا۔ پسینے میں شرابور، اس نے ہڈ والی جیکٹ اتاردی۔
اپنے ابتدائی الفاظ میں، دیپکے نے پریشان کن رات کی پرواز کو یاد کیا، یہ کہتے ہوئے کہ ان کے خاندان کو ڈر تھا کہ انہیں نئی دہلی میں اترنے کے بعد گرفتار کر لیا جائے گا۔
"لیکن یہ صرف میری ماں کا خوف نہیں ہے،” انہوں نے کہا، اس کے جواب میں ہجوم نے ‘شیم ،شیم ‘ کے نعرے لگائے۔
انہوں نے مزید کہا، "اس ملک کی ہر ماں کو ڈر ہے کہ اگر کوئی سیاست کے بارے میں بات کرتا ہے، اس حکومت کے خلاف بولتا ہے، تو اسے گرفتار کر لیا جائے گا۔”
مودی حکومت نے گزشتہ چند سالوں میں کئی انسانی حقوق اور طلباء کے کارکنوں کو جیل میں ڈالا ہے، جسے اپوزیشن اور حکومت کے ناقدین آمرانہ حکمرانی کی طرف گراوٹ قرار دیتے ہیں۔ بی جے پی اور مودی حکومت ان الزامات کو مسترد کرتی ہے، اور اصرار کرتی ہے کہ انہوں نے ملک کے قانون اور آئین کی پیروی کی ہے۔
30 سالہ دیپکے کے لیے، جو پبلک ریلیشنز میں اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے دو سال قبل امریکہ گئے تھے، یہ واقعات کا ایک تیز موڑ ہے کیونکہ وہ خود کو اچانک ایک سیاسی تحریک کی قیادت کرتے ہوئے پاتے ہیں۔ الجزیرہ کو گزشتہ ماہ دیے گئے اپنے انٹرویو میں، دیپکے نے کہا کہ انہیں اپنے اقدام کے زبردست ردعمل کے لیے ذمہ داری محسوس ہوتی ہے۔
گرمی سے تھکے ہوئے کھڑے، دیپکے نے مائیک حوالے کیا اور پانی پینے کے لیے دیوار کے سہارے بیٹھ گئے، اپنی باقی بوتل ہجوم کی طرف پھینک دی۔ ایک نوجوان مظاہرین نے چیخ کر کہا، "میں تم سے پیار کرتا ہوں، ابھیجیت۔” کئی مظاہرین، جنہوں نے کاکروچ کا ماسک پہنا ہوا تھا، اپنے ہاتھوں میں گلاب یا گلدستے لیے اور کتابیں اٹھائے ہوئے آئے، جیسا کہ دیپکے کی پارٹی نے انہیں سوشل میڈیا پر کہا تھا۔
دیپکے نے بعد میں، اب بھارتی کرکٹ ٹیم کی نیلی جرسی پہنے ہوئے کہا، "ان سب کے لیے جو یقین رکھتے ہیں کہ بھارتی نوجوان صرف سوشل میڈیا پر پوسٹ کرتے ہیں، یہاں آؤ اور یہ دیکھو۔” "اور ان لوگوں کے لیے جو سوچتے ہیں کہ ہم نعرے لگا کر چلے جائیں گے، میں کہنا چاہتا ہوں: ہم کاکروچ ہیں اور ہم تب تک رہیں گے جب تک وزیر استعفیٰ نہیں دے دیتا۔”
‘سڑکوں پر آؤ‘
محمد آفتاب، دہلی کے ایک سیٹلائٹ ٹاؤن شپ سے تعلق رکھنے والا 28 سالہ گیگ ورکر، دیپکے کی ایک واضح جھلک حاصل کرنے کے لیے ایک درخت پر چڑھ گیا۔
انہوں نے کہا کہ وہ اقتصادی مشکلات کی وجہ سے ہائی اسکول مکمل نہیں کر سکے، اور اس کے بجائے روزی روٹی کے لیے بغیر کسی سماجی تحفظ کے، اشیائے صرف فروخت کرتاہے۔
ایک دن کا کام چھوڑنے کا مطلب رات کے کھانے سے محرومی ہوسکتی ہے، آفتاب نے کاکروچ کا ماسک پہنے ہوئے کہا۔ "لیکن پھر بھی، میں یہاں آنا چاہتا تھا،” انہوں نے الجزیرہ کو بتایا۔
انہوں نے کہا، "میں اسکول نہیں جا سکا، لیکن لاکھوں طلباء ہیں جنہوں نے اپنے امتحانات کے لیے، اپنی زندگی بنانے کے لیے راتیں جاگ کر گزاریں۔” "یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان کے ساتھ کھڑے ہوں اور مطالبہ کریں کہ مجرم وزیر استعفیٰ دے۔”
حکومت نے ابھی تک احتجاج پر کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔
ہجوم سے دور کھڑی،مظاہرے کو دیکھتے ہوئے شیوانی، ایک پولیس افسر، جس نے حکومتی کاروائی کے خوف سے صرف اپنے پہلے نام سے شناخت کروانے کی درخواست کی۔ اس کی بڑی بیٹی مظاہرین میں شامل ہے – اور اس نے کہا کہ اسے کوئی اعتراض نہیں ہے۔ "یہ بچے اپنے مستقبل کے لیے فکر مند ہیں، اور ایک والدین کے طور پر، میں بھی ہوں،” انہوں نے کہا۔ "ایک وقت آتا ہے جب کسی کو سڑکوں پر آنے کی ضرورت ہوتی ہے، ہے نا؟
واپس کریں