دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
بجٹ سے پہلے پی ٹی آئی حکومت کے اندر بغاوت؟
No image (پشاور۔ خصوصی رپورٹ) خالد خان: پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے اندر جاری بے چینی اب محض سیاسی افواہ یا راہداریوں کی سرگوشی نہیں رہی بلکہ ایسے واقعات کی صورت میں سامنے آ رہی ہے جنہوں نے صوبائی سیاست میں کئی نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ سب سے نمایاں سوال پارلیمانی پارٹی کے ان اجلاسوں سے متعلق ہے جو مسلسل دوسری مرتبہ آخری لمحات میں ملتوی کیے گئے۔ پہلے یکم جون کو ہونے والا اجلاس 31 مئی کی رات اچانک ملتوی کرکے 8 جون تک بڑھا دیا گیا، جبکہ 8 جون کا اجلاس بھی 7 جون کی رات مزید ایک ہفتے کے لیے 15 جون تک مؤخر کر دیا گیا۔ ذرائع کے مطابق ان مسلسل التواء کے پیچھے حکمران جماعت کے ناراض ارکان کی بڑھتی ہوئی سرگرمیاں اور ممکنہ سیاسی لائحہ عمل بنیادی وجہ بن رہے ہیں۔
بظاہر حکومت مضبوط نظر آتی ہے، مگر اندرونی کمروں میں ہونے والی ملاقاتیں، بار بار ملتوی ہونے والے پارلیمانی پارٹی اجلاس، مصالحتی کمیٹیوں کی تشکیل اور ناراض ارکان سے جاری رابطے ایک مختلف کہانی سنا رہے ہیں۔
اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے اندر تقریباً 36 ارکان پر مشتمل ایک ناراض گروپ وجود میں آ چکا ہے جو صوبائی حکومت کے طرزِ حکمرانی اور وزارتوں کی تقسیم پر شدید تحفظات رکھتا ہے۔ ان ارکان کا مؤقف بتایا جاتا ہے کہ حکومت بننے کے بعد اختیارات اور سیاسی فوائد چند مخصوص شخصیات تک محدود کر دیے گئے جبکہ پارٹی کے ایک بڑے حصے کو نظر انداز کیا گیا۔ ناراض ارکان خود کو اقتدار کا برابر کا حصہ دار سمجھتے ہیں اور ان کا مطالبہ ہے کہ حکومت کے ڈھانچے میں انہیں بھی مناسب نمائندگی دی جائے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی مسلسل اس تاثر کو مسترد کر رہے ہیں کہ پارٹی کے اندر کوئی فارورڈ بلاک یا منظم ناراض گروپ موجود ہے۔ لیکن دوسری طرف ایسے اقدامات سامنے آ رہے ہیں جو خود اس مؤقف کو کمزور کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ناراض ارکان کو منانے کے لیے متعدد جرگے اور رابطے کیے جا چکے ہیں جبکہ سپیکر صوبائی اسمبلی کی سربراہی میں چھ رکنی مصالحتی کمیٹی بھی قائم کی گئی ہے جس کا بنیادی مقصد ناراض ارکان کے تحفظات دور کرنا اور ممکنہ سیاسی بحران کو ٹالنا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق اگر صورتحال معمول کے مطابق ہے تو پھر مصالحتی کمیٹی کی ضرورت کیوں پیش آئی؟ اگر فارورڈ بلاک کا وجود نہیں تو پھر مسلسل رابطوں اور مفاہمتی کوششوں کی وجہ کیا ہے؟ یہی وہ سوالات ہیں جو اس وقت پشاور کے سیاسی حلقوں میں زیر بحث ہیں۔
صورتحال اس وقت مزید سنجیدہ ہو گئی جب ناراض گروپ میں ایسے نام بھی سامنے آنے لگے جنہیں وزیر اعلیٰ کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں شمار کیا جاتا تھا۔ رکن صوبائی اسمبلی عبدالغنی آفریدی کا نام انہی شخصیات میں لیا جا رہا ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ تاثر پایا جاتا ہے کہ عبدالغنی آفریدی صرف ایک رکن اسمبلی نہیں بلکہ وزیر اعلیٰ کے قریبی اعتماد یافتہ ساتھیوں میں شمار ہوتے رہے ہیں۔ اگر ایسے لوگ بھی ناراض صفوں میں کھڑے نظر آ رہے ہیں تو یہ اختلاف محض وزارتوں کے حصول کی جنگ نہیں بلکہ اعتماد کے بحران کی علامت سمجھا جا رہا ہے۔ ذرائع کا دعویٰ ہے کہ انہیں منانے کی متعدد کوششیں بھی مطلوبہ نتائج نہ دے سکیں۔
ادھر ایک اور مسئلہ بھی حکومت کے تعاقب میں ہے۔ صوبائی حکومت اور وزیر اعلیٰ کے خلاف کرپشن اور مالی بے ضابطگیوں سے متعلق الزامات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ پہلے یہ اعتراضات سیاسی مخالفین تک محدود تھے لیکن اب تحریک انصاف کے اندر سے بھی سوالات اٹھنے لگے ہیں۔ سوشل میڈیا، سیاسی نشستوں اور صحافتی حلقوں میں وہ موضوعات زیر بحث ہیں جن پر ماضی میں کھل کر گفتگو نہیں کی جاتی تھی۔
زیادہ تشویش کی بات شاید یہ ہے کہ اب تنقیدی آوازیں صرف مخالف سیاسی جماعتوں سے نہیں آ رہیں بلکہ تحریک انصاف سے ہمدردی رکھنے والے بعض صحافی اور مبصرین بھی حکومتی کارکردگی اور فیصلوں پر سوالات اٹھا رہے ہیں۔ جب تنقید مخالف کی بجائے اپنے حلقوں سے آنے لگے تو سیاسی دباؤ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔
اس تمام صورتحال کے دوران پارلیمانی پارٹی کے اجلاسوں کا بار بار ملتوی ہونا بھی سیاسی قیاس آرائیوں کو ہوا دے رہا ہے۔ پہلے اجلاس مؤخر ہوا، پھر دوسرا بھی آگے بڑھا دیا گیا۔ بجٹ قریب آ رہا ہے اور حکومت کو اتحاد کا مظاہرہ کرنا چاہیے، مگر حالات اس کے برعکس دکھائی دے رہے ہیں۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال شدت اختیار کرتا جا رہا ہے کہ کیا حکومت اختلافات پر قابو پانے کے لیے وقت خرید رہی ہے یا واقعی اندرونی بحران اس حد تک پہنچ چکا ہے جہاں کھلی صف بندی کا خطرہ محسوس کیا جا رہا ہے؟
فی الحال ایک طرف حکومت اتحاد اور استحکام کا دعویٰ کر رہی ہے، دوسری طرف ناراض ارکان اپنی سیاسی طاقت منوانے پر بضد دکھائی دیتے ہیں۔ آنے والے دنوں میں یہ واضح ہو جائے گا کہ یہ اختلافات محض دباؤ بڑھانے کی حکمت عملی ہیں یا پھر خیبر پختونخوا کی حکمران جماعت ایک ایسے اندرونی امتحان کے دہانے پر کھڑی ہے جو اپوزیشن کے کسی بھی حملے سے زیادہ خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔
واپس کریں