محمد محسن خان ( راجپوت )
تاریخ کے ہر موڑ پر کچھ نسلیں ایسی ہوتی ہیں جو اپنے عہد کی اقدار، تصورات اور تجربات کو حتمی سچائی سمجھ کر آگے بڑھتی ہیں، مگر وقت کا بے رحم پہیہ جب نئے زاویے اور نئے معیارات تراشتا ہے تو وہی نسل اپنے آپ کو ایک اجنبی دنیا کے درمیان کھڑا پاتی ہے۔ آج کا دور بھی کچھ ایسا ہی منظر پیش کر رہا ہے جہاں گزشتہ صدی کے سیاسی، سماجی اور فکری تصورات تیزی سے چیلنج ہو رہے ہیں اور ان کی جگہ ایسے نظریات لے رہے ہیں جن کا محور اصولوں کے بجائے نتائج، روایات کے بجائے مفادات اور اجتماعی دانش کے بجائے تکنیکی مہارت بنتی جا رہی ہے۔
ایک زمانہ تھا جب جمہوریت کو اکثریت کی حکمرانی کا نام دیا جاتا تھا۔ عوامی رائے کو فیصلہ کن قوت سمجھا جاتا تھا اور سیاسی جماعتوں کو قومی شعور کی تربیت گاہ قرار دیا جاتا تھا۔ سیاسی کارکن نظریاتی جدوجہد کی علامت ہوتے تھے اور پارلیمان کو قومی فکر کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔ سیاسی مباحث، پارلیمانی روایات اور عوامی نمائندگی کو ریاستی استحکام کی بنیاد قرار دیا جاتا تھا۔ مگر اکیسویں صدی کی تیسری دہائی میں کھڑے ہو کر دیکھا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ سیاسی عمل کی روح بتدریج بدل چکی ہے۔
اب دنیا کے بیشتر ممالک میں پالیسی سازی صرف مقامی سیاسی تقاضوں کے تابع نہیں رہی بلکہ عالمی مالیاتی ادارے، بین الاقوامی معاشی مراکز، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز اور کثیرالقومی مفادات بھی قومی فیصلوں پر گہرا اثر ڈال رہے ہیں۔ ترقی پذیر ممالک کی اقتصادی حکمتِ عملیوں میں اکثر وہ تصورات غالب دکھائی دیتے ہیں جو عالمی مالیاتی نظام کے مراکز میں تشکیل پاتے ہیں۔ قرضوں کی فراہمی، معاشی اصلاحات، مالی نظم و ضبط اور سرمایہ کاری کے ماڈلز تک بہت سی سمتیں بیرونی اداروں کی سفارشات سے متعین ہوتی نظر آتی ہیں۔
اسی طرح سیاسی جماعتوں کا داخلی ڈھانچہ بھی نمایاں تبدیلیوں سے گزر چکا ہے۔ وہ زمانہ جب کارکنان کسی جماعت کا سب سے قیمتی سرمایہ سمجھے جاتے تھے، بتدریج ماضی کا حصہ بنتا جا رہا ہے۔ جدید سیاسی نظام میں ابلاغی ذرائع، ڈیجیٹل مہمات، سوشل میڈیا حکمتِ عملیاں اور سرمایہ کاری کی قوت بعض اوقات روایتی تنظیمی ڈھانچوں پر سبقت لے جاتی دکھائی دیتی ہیں۔ عوام اور قیادت کے درمیان براہِ راست رابطے کی نئی صورتوں نے روایتی سیاسی کارکن کے کردار کو محدود کر دیا ہے، اگرچہ جمہوریت کی حقیقی روح اب بھی عوامی شمولیت ہی میں پوشیدہ ہے۔
معاشی میدان میں بھی سوچ کے پیمانے بدل چکے ہیں۔ ماضی میں صنعتی پیداوار، برآمدات میں اضافہ اور روزگار کے مواقع کو معاشی ترقی کی بنیادی علامات سمجھا جاتا تھا۔ آج بھی یہ عناصر اہم ہیں، لیکن ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت، ڈیٹا کی تجارت، مالیاتی ٹیکنالوجی اور علم پر مبنی صنعتیں عالمی معیشت کے نئے ستون بن چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ کمپنیاں جو چند دہائیاں قبل وجود ہی نہیں رکھتی تھیں، آج بعض ریاستوں سے زیادہ مالی قوت کی حامل دکھائی دیتی ہیں۔
یہ تبدیلی صرف معیشت تک محدود نہیں۔ معلومات کے حصول اور پھیلاؤ کے ذرائع بھی یکسر تبدیل ہو چکے ہیں۔ ماضی میں دانشور، فلسفی، محقق اور علمی ادارے فکری رہنمائی کے بنیادی مراکز سمجھے جاتے تھے۔ آج ایک بڑی تعداد اپنی رائے اور معلومات کے لیے ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، سرچ انجنوں اور مصنوعی ذہانت کے نظاموں سے رجوع کرتی ہے۔ اس تبدیلی نے علم کی رسائی کو آسان ضرور بنایا ہے، مگر اس کے ساتھ فکری گہرائی، تنقیدی شعور اور علمی مکالمے کے نئے سوالات بھی جنم دیے ہیں۔
اس تمام تبدیلی کے باوجود ایک بنیادی حقیقت اپنی جگہ قائم ہے کہ کوئی بھی معاشرہ صرف ٹیکنالوجی، سرمایہ یا انتظامی مہارت کے ذریعے پائیدار ترقی حاصل نہیں کر سکتا۔ ریاستوں کی اصل طاقت ان کے شہریوں کا اعتماد، مضبوط ادارے، قانون کی حکمرانی، شفاف احتساب، معیاری تعلیم اور اجتماعی شرکت ہوتی ہے۔ اگر اکثریت خود کو فیصلہ سازی سے کٹا ہوا محسوس کرے، اگر سیاسی مکالمہ کمزور پڑ جائے اور اگر قومی ادارے عوامی توقعات کا بوجھ نہ اٹھا سکیں تو ترقی کے ظاہری اشاریے بھی دیرپا استحکام فراہم نہیں کر پاتے۔
آج کا دور یقیناً مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل انقلاب اور عالمی سرمایہ کاری کا دور ہے، لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ انسانی معاشروں کی بنیاد اب بھی اعتماد، انصاف، مکالمے اور اجتماعی شعور پر قائم ہے۔ ٹیکنالوجی سمت متعین کرنے میں مدد دے سکتی ہے، مگر منزل کا تعین بہرحال انسانوں کو ہی کرنا ہوتا ہے۔ شاید اسی لیے ہر نئے عہد میں پرانی نسلوں کے سوال مکمل طور پر غیر متعلق نہیں ہوتے۔ وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ ترقی کی رفتار جتنی بھی تیز ہو جائے، معاشروں کی اصل کامیابی انسان کو مرکز میں رکھنے سے وابستہ رہتی ہے، نہ کہ محض اعداد و شمار، الگورتھمز یا مالیاتی اشاریوں سے۔
واپس کریں