دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
متبادل راستے
منظر الحق
منظر الحق
انسان کو مولا نے ناشکرا بنایا ہے،اس کی سرشت می کچھ ٹیڑھ پن رکھا ہے اور وہ اللہ کی نعمتوں کا شکرگزار نہیں ہوتا۔ہم خود اسی کیفیت سے کئ بار دوچار ہوئے،مولا کی بیش بہا نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے،وہ چاہا جو رب العزت نے اپنی حمکت کے تحت عطا نہیں فرمایا تھا اور پھر جب وہ عنقا چیز مل گئ، پھر پچھتاوے اور ندامت سے سر جھک گیا۔
زندگی کی دوڑ میں ہم سب بیشمار غلطیوں کا ارتکاب کر بیٹھتے ہیں،کچھ دانستہ طور پر اور کچھ نادانستگی میں۔جو اللہ نے آسانی سے ہماری تھالی میں رکھ دیا،اس کا شکر ادا کرنے کے بجائے،دوسروں کی نعمتوں پر للاچائ نظر ڈالی اور اس کی تمنا اور حرص ہوئ۔بسا اوقات انسان اپنی زندگی کے صفحات پر نظر دوڑاتا ہے،ان گزرے لمحات کی شیرینی و تلخی سے کبھی لطف اندوز ہوتا ہے اور کبھی دردمند ہو جاتا ہے۔کوئ نہ کوئ لمحہ فکریہ ایسا ہوتا ہے،جب ایک آسان متبادل راستہ موجود تھا ،پر جو راستہ چنا گیا،وہ پرخطر،پیچیدہ اور نقصان دہ ثابت ہوا۔
تعلیمی اداروں سے اس گھمبیر مسئلے کی ابتداء ہوتی ہے،دوستوں کا چناو دوسرا اہم پہلو ہے اور یہ دونوں باتیں زندگی کی شاہراہ پر اہم سنگ میل ثابت ہوتی ہیں۔پیدائش میں ہمارا کوئ عمل دخل نہیں ہے،والدین کا چناو مولا رب العزت کرتا ہے اور ہم کسی گھرانے کا چشم و چراغ بن جاتے ہیں۔کچھ احباب اپنے اہل خانہ سے نالاں دکھائ دیتے ہیں،ان کی عادات و اطوار سے بیزار نظر آتے ہیں اور انھیں اکثر کہتے سنا گیا ہے،اے کاش ہم کسی اور گھرانے میں پیدا ہوئے ہوتے۔بہرکیف جس گھرانے کا نمک کھایا،اس میں مین میخ نکالنا ،اپنی تھالی میں سوراخ کرنے کے مترادف ہے اور یقینا یہ احسان فراموشی کے زمرے میں آئے گا۔
تعلیمی ادارے کے چناو میں،عموما محلے کی درسگاہ کو ترجیح دی جاتی ہے اور تعلیمی معیار و اساتذہ کرام کی سند و قابلیت کو اولین درجہ نہیں دیا جاتا۔حالانکہ بچوں کی نشو و نما، ذہنی پرورش انہی اساتذہ کرام کی مرحون منت ہوتی ہے اور اخلاقیات و تعلقات عامہ کی بنیاد ابتدائ تعلیم سے منسلک ہے۔درسگاہ کے انتخاب میں بچوں کا کوئ عمل دخل نہیں ہوتا،پر ان کی زندگی پر اس فیصلے کا گہرا اثر ثبت ہوتا ہے اور بعد ازاں وہ اس چناو کے محرکات سے اختلافی ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔
بچپن کی دوستی یاری عمر بھر چلتی ہے،خاندانی بزرگ احباب پر کڑی نظر رکھتے ہیں اور ناشائستہ اور غیر مہذب ناپسندیدہ بچوں کو، دودھ سے مکھی کی طرح نکال کر ،علیحدہ کرتے جاتے ہیں۔ہر بچہ ایک دوسرے کے ذہنی خلیوں پر اپنا تاثر چھوڑتا ہے،کوئ مثبت انداز میں اور کوئ منفی انداز میں۔ کردار کی گراریاں بچپن میں ڈھالی جاتی ہیں،گھریلو بزرگ و اساتذہ کرام ان کی بناوٹ میں پیش پیش رہتے ہیں اور کچھ اثر و رسوخ دوست احباب کا بھی ہوتا ہے،جن کا سایہ پڑتا ہے۔گر یہ دوست اعلی ذوق و شوق رکھتے ہوں،نفاست و شرافت کی تصویر ہوں اور فضولیات سے اجتناب کرتے ہوں،ان کا مثبت اثر کردار سازی کا اہم حصہ بنتا ہے۔اس کے برعکس وہ دوست ہوتے ہیں ،جو شیطانیت کا کاروبار پھیلاتے ہیں اور ان کے عادات و اطوار نا مہذب اور نا شائستہ ہوں،ان کی منفی شخصیت کا سایہ،مستقبل کی زندگی کو تاریک و مشکل بنا دیتا ہے۔
درسگاہ کے آخری سالوں میں طلباء سے ،دانشمندی و ہوشمندی کا مظاہرہ متوقع ہوتا ہے ،چونکہ انھیں اپنی زندگی کی بقیہ ڈگر کا تعین کرنا ہوتا ہے۔زندگی کے اس اہم فیصلے کو،حماقتی چناو ہی کہا جا سکتا ہے،چونکہ لڑکپن سے جوانی کی حدود میں قدم رنجہ فرمانے سے، یکایک عقل و فہم کی گراریاں چلنا نہیں شروع کر دیتیں۔ اس احمقانہ طریقہ کار پر، تنقیدی کلمات نہ لکھیں تو کیا لکھیں اور پھر ساری زندگی کا دارومدار، کمسنی و کم عقلی کے اس فیصلے پر منحصر ہوتا ہے۔کوئ طب کی جانب دیکھتا ہے،کوئ مہندس بننے کی آرزو رکھتا ہے اور دوسرے بچے وکلاء، معاشی ماہرین،فوجی و دیگر افسران اور کاروباری بننے کے خواب دیکھ رہے ہوتے ہیں۔درسگاہوں کے مدرسوں کو ان راستوں پر چلنے کی آگاہی نہیں،اساتذہ کرام ان کے پیچ و خم سے نابلد اور اکثر والدین بھی ان کے زیر و بم سے ناواقف۔جس معاشرے کے بزرگ حضرات،زندگی کے نشیب و فراز سمجھنے سے قاصر ہوں،وہاں کم عمر و نا سمجھ بچے ،اپنی زندگی کی ناو منجھدار میں چلاتے نظر آتے ہیں۔
بیشتر کامیاب ہو جاتے ہیں،کچھ بھنور میں پھنس کر ،اپنا قبلہ بدل لیتے ہیں اور چند ڈوب کر کہیں اور نکلتے ہیں۔
اس کشمکش کے اثرات، عرصہ دراز تک زندگی پر سایہ فگن رہتے ہیں اور ذہنی شش و پنچ کا آغاز یہیں سے ہوتا ہے۔طب کی تعلیم کا رخ کرنے والے،اپنا قبلہ بدلنا چاہتے ہیں اور آگے سیسہ پلائ دیوار سے سر ٹکراتے نظر آتے ہیں۔مہندس کی تعلیم کا فیصلہ کرنے والے،معاشی ماہر بن کر آسودہ زندگی کا خواب دیکھتے ہیں اور اپنی منزل مقصود کے راستوں پر موجود پیچ و خم سے نبرد آزما ہوتے ہیں۔الغرض طلباء کی آزمائش جاری و ساری رہتی ہے،وہ اپنے فیصلوں کے سمندر میں غوطے کھاتے رہتے ہیں اور کوئ خوشی میں نہاتا ہے اور کوئ کف افسوس ملتا رہ جاتا ہے ۔
ماہرین کی فہرست خاصی طویل ہے،کلیہ میں داخلے کے بعد اس کے انتخاب کا وقت آتا ہے اور نہ کوئ ماہر اپنی زندگی کی عرق ریزی پیش کرتا ہے اور نہ کوئ اساتذہ کرام اپنے تجربات کا نچوڑ سامنے رکھتے ہیں۔ہر شخص اپنے آپ کو ارسطو،بقراط و افلاطون کی شکل میں پیش کرتا ہے،کوئ اپنی غلطیوں کی نہ نشاندہی کرتا ہے اور نہ ہی اعتراف کرتا ہے۔جہاں سچائ ناپید ہو،وہاں علم کی روشنی پھیکی پڑ جاتی ہے اور نئ نسل اندھیروں میں بھٹکتی رہتی ہے۔
کچھ لوگ سالہا سال بعد بھی، اپنے غلط فیصلوں پر نادم ہوتے ہیں اور ان کا ازالہ کرنے کی کوششوں میں اپنی بقیہ زندگی اجیرن کر لیتے ہیں۔زندگی کا پہیہ آگے چلتا ہے،جو اشخاص ماضی میں اٹکے رہ جاتے ہیں،وہ زندگی کے دھارے میں پیچھے رہ جاتے ہیں اور ذہنی بیماریوں و الجھنوں کا شکار ہو جاتے ہیں۔پچھلی کل گزر گئ،جسے تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور بس سبق سیکھا جا سکتا ہے۔ اگلی کل کا کسی کو علم نہیں،شاید کچھ افراد کو نصیب بھی نہ ہو،لہذا آج کی زندگی میں جئیں،اسے سنواریں ، خوبصورت بنائیں اور مزے کریں۔
تعلیم سے فراغت پا کر،اگلا مرحلہ کام کاج کی تلاش ہوتا ہے اور ہر شخص دیوانہ وار جوتیاں گھستا نظر آتا ہے۔
ہر سمت دروازوں پر دستک،ہر دیوار پر سر مارنا اور ہوا کے گھوڑے پر سوار ،گاوں گاوں اور قریہ قریہ کنوں میں بانس ڈالتا ہے۔کاروباری لوگ بیشمار جتن کرتے ہیں،اپنی والدین کی جمع پونجی داو پر لگا دیتے ہیں اور قسمت کی دیوی سے جنگ و جدل شروع ہو جاتی ہے۔بیشتر خاندانی کاروبار میں جت جاتے ہیں،بزرگوں کی
اعانت طلب کرتے ہیں اور کاروباری زندگی کے پیچ و خم سے نبرد آزما ہوتے ہیں،ان کی کامیابی کا سہرا سارے خاندان کے سر ہے۔کچھ نوجوان اپنا سکہ جمانے کے خواہش مند ہوتے ہیں،وہ نئے راستوں کے مسافر بن جاتے ہیں اور دنیا مسخر کرنے کی انفرادی کوشش کرتے ہیں۔ان میں سے اکثر و بیشتر مصائب کا شکار ہوتے ہیں، مشکل و کٹھن اور ناہموار راستوں کے مسافر بسا اوقات تھک ہار جاتے ہیں اور شکست خوردہ ہو کر،اپنا قبلہ تبدیل کر لیتے ہیں۔جو راستہ آسان لگے،اس پر چل پڑنا چاہیئے،ورنہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے اور چند منچلے اس کی پرواہ کیئے بغیر سر خرو ہوتے ہیں۔
زندگی کا آخری و اہم ترین فیصلہ،
شریک حیات کی تلاش ہے اور یہاں ہمارا معاشرہ نوجوان لڑکوں اور نوخیز دوشیزاوں کو بے یار و مدگار چھوڑ دیتا ہے۔لڑکے در بدر کی ٹھوکریں کھاتے ہیں،لڑکیاں اپنے خوابوں کو دلوں میں بسائے اور سلگتے انگارے سینوں میں مدفن رکھتی ہیں۔جذبات کا طوفان سمندروں میں اٹھتا ہے،پر ساحل تک پہنچ نہیں پاتا اور منزل کی تلاش میں بھٹک جاتا ہے۔دوست احباب ایک دوسرے سے کسی محبوب کی بابت رائے مانگتے ہیں،عاشق اپنے سچے معشوق کے گن گاتے ہیں اور نہ جانے کتنے سپنے و خواب ادھورے رہ جاتے ہیں۔
محبت و الفت کی ان گنت داستانیں ہیں،جو اپنے عروج پر پہنچیں ،پر دوام سے پہلے فنا ہو گئیں اور سلگتے انگارے راکھ بن گئے۔کسی کی بنگالی محبوبہ اشک بار رہ گئ،کوئ ایرانی دوشیزہ کا دل ٹکڑے کر آیا اور کسی نے مغربی حسینہ کی شان میں ادھورے قصیدے پڑھے۔گر یہ لیلی مجنوں کی کہانیاں اپنے منتقی انجام کو پہنچتیں، عشق و عاشقی کی نئ کویتائیں رقم کی جاتیں اور شاید زندگی کا انجام کچھ مختلف ہوتا۔ان ادھوری داستانوں میں درد و الم کے افسانے پنہاں ہیں،خاموشی سے لی گئ سسکیاں سنائ دیتی ہیں اور اشک بار غمگین آنکھیں، اپنے رنج و غم کا برملا اعلان کرتی ہیں۔
متبادل راستوں کی کہانی ان کہی ہے،دلوں میں یہ سلگتے راز مدفن ہیں اور ہر شخص ان کو اپنے سینوں سے چمٹائے ،زندگی کے سفر پر گامزن ہے۔امیدوں و آرزوں کی ان کہی کہانیاں،کسی کے اوپر بوجھ ہیں اور کوئ خندہ پیشانی سے انھیں اپنی جھولی میں ڈالے پھرتا ہے۔کبھی کسی بزرگ کو گہرے مراقبے میں دیکھیں،ایک دفعہ ضرور سوال کر بیٹھیں اور شاید وہ کسی متبادل راستے کی کہانی سنا کر اپنا دل ہلکا کر لیں۔
واپس کریں