محمد ریاض ایڈووکیٹ
وفاقی آئینی عدالت نے جسٹس عامر فاروق کا تحریر کردہ تاریخ ساز تفصیلی فیصلہ جاری کر دیا ہے جس کے مطابق بار ایسوسی ایشنز اور بار کونسلز کی جانب سے دی جانے والی ہڑتال کی کالوں کو غیر قانونی قرار دے دیا گیا ہے۔ فیصلے میں کہا گیا ہے کہ یہ ہڑتالیں سائلین کے انصاف تک رسائی کے آئینی حق کی خلاف ورزی ہیں۔ سائلین کو اپنے مقدمات کے فیصلوں کے لیے برسوں انتظار کرنا پڑتا ہے۔ چاہے وکلاء کی ہڑتال کا مقصد کتنا ہی نیک کیوں نہ ہو، یہ مسئلے کا حل نہیں۔ انصاف تک رسائی سے کسی بھی شکل میں محروم کرنا آئین کی خلاف ورزی ہے۔
یاد رہے خیبر پختونخوا وکلاء تنظیموں نے ایک وکیل کے قتل کے مقدمے میں نامزد ملزم ایس ایچ او کی قانونی نمائندگی سے وکلاء کو روکا اور ملزم کی نمائندگی کرنے پر ایک وکیل کا لائسنس معطل کر دیا۔ متاثرہ وکیل نے لائسنس کی معطلی کے خلاف پشاور ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔ پشاور ہائی کورٹ نے درخواست منظور کرتے ہوئے لائسنس کی بحالی کا فیصلہ دیا، جسے آئینی عدالت نے بھی برقرار رکھا۔ وفاقی آئینی عدالت نے اپنے فیصلے کے آغاز میں دو انتہائی اہم سوالات کا تذکرہ کیا، جو آج ہر پاکستانی شہری کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں۔ پہلا سوال یہ تھا کہ کیا 1973ء کے آئین کے آرٹیکل 199(1)(c) کے تحت ہائی کورٹ کا دائرہ اختیار بار کونسلز جیسے ریگولیٹری اداروں سمیت ”کسی بھی شخص“ کے خلاف رِٹ جاری کرنے تک پھیلا ہوا ہے؟ دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا دو وکلاء کے لائسنس کی معطلی، ایک کی کسی موکل کی نمائندگی کرنے پر اور دوسرے کی ہڑتال کے دوران عدالت میں پیش ہونے پر، آئین کے آرٹیکل 18 کے تحت حاصل پیشہ ورانہ آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے؟ عدالت نے ان سوالات کے جواب میں قرار دیا کہ ایسا ہی ہے اور ایسی پابندیاں آئینی حقوق سے متصادم ہیں۔
یاد رہے کہ ہمارے ہاں یہ ایک رواج بنتا جا رہا ہے کہ وکلاء کے خلاف مقدمات یا کسی وکیل کے ذاتی مقدمے میں دوسری پارٹی کی جانب سے وکیل مقرر کرنے، یا مقرر شدہ وکیل کو عدالت میں پیش نہ ہونے کے لیے دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ اسی طرح بعض مخصوص مذہبی نوعیت کے مقدمات میں ملزمان کی جانب سے وکالت قبول کرنے کے لیے کوئی وکیل آسانی سے آمادہ نہیں ہوتا، اور اگر کوئی وکیل وکالت نامہ جمع کرا بھی دے تو مذہبی اور وکلاء تنظیموں کی جانب سے اس پر شدید دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ نتیجتاً متعلقہ وکیل کو سوشل میڈیا یا پریس کانفرنس کے ذریعے سب سے پہلے کلمہ طیبہ، درود شریف پڑھ کر، حج، عمرہ کے دوران یا دینی محافل میں کھینچی گئی اپنی تصاویر دیکھا کر خود کو ایک پکا سچا مسلمان ثابت کرنا پڑتا ہے اور پھر اپنے وکالت نامے سے دستبردار ہونے کا اعلان کرنا پڑتا ہے۔
یہ حقیقت اپنی جگہ مسلم ہے کہ پاکستان میں زیرِ التواء مقدمات کی تعداد بائیس لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔ ایسے میں اگر کسی بھی دن وکلاء تنظیموں کی جانب سے ہڑتال کی کال آ جائے تو یہ پورے دن کی عدالتی کارروائی کو معطل کر دیتی ہے۔ نتیجتاً وہ سائل، جو پہلے ہی کئی برس انتظار کر چکا ہوتا ہے، ایک بار پھر غیر معینہ تاخیر کا شکار ہو جاتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا انصاف کے نظام کو کسی تنظیمی احتجاج کے ذریعے یوں یرغمال بنایا جا سکتا ہے؟ اس فیصلے کی بدولت یہ واضح ہو گیا ہے کہ بار کونسلز یا بار ایسوسی ایشنز بھی آئینی دائرہ اختیار سے بالاتر نہیں ہیں۔ جب کوئی تنظیم اپنے فیصلوں کے ذریعے کسی شہری کے آئین میں درج بنیادی حقوق کو متاثر کرے تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔
ایک اور اہم پہلو، جس کی طرف فیصلے میں توجہ دلائی گئی ہے، وکلاء کی پیشہ ورانہ آزادی اور حقِ روزگار سے متعلق ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ کسی وکیل کا لائسنس صرف اس وجہ سے معطل کرنا کہ اس نے کسی ملزم کی وکالت کی یا ہڑتال کے دوران عدالت میں پیش ہوا، نہ صرف غیر آئینی ہے بلکہ یہ آرٹیکل 18 کے تحت دیے گئے پیشہ ورانہ آزادی کے حق کی بھی خلاف ورزی ہے۔ یہاں ایک بنیادی اصول سامنے آتا ہے کہ ہر ملزم کو اپنے پسند کے وکیل کے ذریعے دفاع کا حق حاصل ہے۔ اگر کسی وکیل کو محض اس بنیاد پر نمائندگی سے روکا جائے کہ وہ کسی ”ناپسندیدہ“ فریق کی وکالت کر رہا ہے تو یہ نہ صرف انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے بلکہ آئین کے بنیادی ڈھانچے سے بھی متصادم ہے۔ یہ سوال بھی اہم ہے کہ کیا واقعی کسی وکیل کو کسی ملزم کی نمائندگی سے روکنے کا اختیار کسی بار ایسوسی ایشن یا تنظیم کے پاس موجود ہے؟ آئینی اور قانونی اصولوں کے مطابق اس کا جواب نفی میں ہے۔ وکالت ایک آزاد پیشہ ہے، جس کا بنیادی اصول یہی ہے کہ ہر شخص کو قانونی نمائندگی تک رسائی حاصل ہو۔ اگر کسی بھی وجہ سے یہ رسائی محدود کی جائے تو پورا نظام غیر متوازن ہو جاتا ہے۔ اگر واقعی ہم ایک منصفانہ، مؤثر اور قابلِ اعتماد عدالتی نظام چاہتے ہیں تو ہمیں ہڑتالوں کے کلچر، غیر رسمی پابندیوں اور تنظیمی سختیوں پر نظرِ ثانی کرنا ہوگی۔ بصورتِ دیگر انصاف صرف کتابوں اور آئینی دفعات تک محدود رہ جائے گا اور عام شہری کے لیے اس تک رسائی ایک خواب بن کر رہ جائے گی۔
واپس کریں