دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
اگر مہاجرین نشستیں ختم ہوتی ہیں تو حکومت میں استحکام آئے گا۔ سابق چیف جسٹس منظور گیلانی
No image پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سابق چیف جسٹس منظور گیلانی نےکہا ہے کہ ’مہاجر نشستوں کے خاتمے کا مطالبہ سو فیصد آئینی، قانونی اور اخلاقی ہے، یہ ریاستی گورننس کا معاملہ ہے اور یہاں کے لوگوں کے لیے ہے۔‘سابق چیف جسٹس کا کہنا کہ ’مہاجرین اس وقت پاکستان کے شہری ہیں۔ ان کی نسبت کشمیر سے ہے جس وجہ سے ان کے نمائندے اور ووٹر سب کشمیری کہلاتے ہیں۔‘ انھوں نے الزام عائد کیا کہ ’پاکستان بلاواسطہ طور پر اپنے لوگ یہاں مسلط کر رہا ہے۔‘ ان کا کہنا ہے کہ ’دوسری جانب کشمیر کی انتظامی اختیارات صرف اس کی حدود کے اندر ہیں۔ ان لوگوں پر تو ریاستی حکومت کی رٹ بھی لاگو نہیں ہوتی۔
منظور گیلانی نے وضاحت کی کہ ’یہ مطالبہ نیا نہیں۔ تاہم اب الیکشن کے قریب اسے دوبارہ سامنے لانے سے صورتحال تبدیل ہوئی۔ اس کے لیے آئینی ترمیم کرنی ہے جو بالکل مشکل نہیں۔ ایک اجلاس بلا کر یہ کیا جا سکتا ہے۔
سابق چیف جسٹس منظور گیلانی نے کہا ’یہاں کی حکومت کا کشمیر کاز یا تحریکِ آزادیِ کشمیر سے کوئی تعلق نہیں بلکہ یہ ذمہ داری تو پاکستان کی ہے۔ کراچی ایگریمنٹ کے مطابق یہ ذمہ داری اور اقوامِ متحدہ میں یہ مسئلہ زندہ رکھنا پاکستان کا کام ہے۔
وہ اس دعوے سے اتفاق کرتے ہیں کہ ماضی میں ان نشستوں کی وجہ سے کشمیر میں حکومتوں کو نقصان پہنچا۔
’میرے خیال میں اگر یہ نشستیں ختم ہوتی ہیں تو یہاں کی حکومت میں استحکام آئے گا۔ ان نشستوں کے خاتمے سے ریاست کشمیر کو کوئی خطرہ نہیں۔ اگر وہ (مہاجرین مقیم پاکستان) چاہیں تو کشمیر کی ریاست میں آ کر آباد ہوں۔ ان مہاجرین نے ریاست کے اندر زمینیں تک الاٹ کروا رکھیں ہیں۔ تو یہاں آ کر رہیں۔
منظور گیلانی کہتے ہیں کہ وہ خود بھی 1976 میں آئے ہوئے ایک مہاجر ہیں تاہم وہ نہ صرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں بخوشی آباد ہوئے بلکہ انھیں کسی تعصب کا سامنا بھی نہیں کرنا پڑا۔ اس کے بعد وہ یہاں کے چیف جسٹس تک بنے۔
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر ہو یا انڈیا کا زیر انتظام اگر دونوں حصے کشمیر ہیں تو 1947 سے 1980 تک یہاں آنے کے بعد ہزاروں افراد ریاستِ کشمیر میں رہتے ہوئے بھی مہاجر کیوں ہیں؟
اس سوال کے جواب میں سابق چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ ’ایک قانون ہے جو کسی بد امنی کی وجہ سے علاقہ چھوڑ کر یہاں آباد ہوا وہ مہاجر ہے۔ جیسے میرے والد مہاجر تھے لیکن ان کی تو نسل در نسل اب تک مہاجر ہیں۔
انھوں نے تجویز کیا کہ ’ایک قانونی ترمیم سے یہ کیا جا سکتا ہے کہ نقل مکانی کرنے والوں کی صرف پہلی نسل کو مہاجر کہا جائے۔ ان کے بعد آنے والی نسلیں مہاجر نہیں بلکہ ریاست کی شہری ہوں۔
مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کے مطالبے اور اس پر ڈیڈ لاک کے بعد بار بار کشیدگی کی فضا پیدا ہونے کے بارے میں سابق چیف جسٹس منظور گیلانی کا کہنا تھا کہ ’یہ ایک قانونی مسئلہ تھا جسے اخلاقی اور جذباتی مسئلہ بنا دیا گیا۔
’یہ آئینی اور قانونی مسئلہ ہے، یہ پاکستان میں بھی ووٹ ڈالتے ہیں، یہاں ملازمتوں کا 19 فیصد کوٹہ ان کے لیے مختص ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ اوپن میرٹ میں بھی ان کے لوگ آگے ہوتے ہیں کیونکہ انھیں بہتر تعلیمی سہولیات ملتی ہیں۔
بشکریہ بی بی سی
واپس کریں