دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پس پردہ پلان اور۹جون۔احتشام الحق شامی
No image پاکستان میں مقیم کشمیری مہاجرین کی بارہ اسمبلی نشستوں کے حوالے سے جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کا اہم مطالبہ کہ ان نشستوں کو ختم کیا جائے،اس پر دو واضع موقف ہیں،ظاہر ہے ایک حق میں اور دوسرا مخالفت میں ہے اور دونوں جانب سے دلائل اور تاویلیں پیش کی جا رہی ہیں، جو سب جانتے ہیں، اس لیئے اس بارے میں اس وقت مذید بحث لاحاصل اور وقت کا ضیاع ہو گی۔
ناچیز مختصر عرض کرتا ہے کہ اگر کشمیر ایکشن کمیٹی کہتی ہے کہ ان بارہ اسمبلی نشستوں کو اشٹبلشمنٹ، مقتدہ یا حکومتی جماعت سیاسی انجینئرنگ کے لیئے استعمال کرتی ہے تو زیادہ دور جانے کی ضرورت نہیں ابھی چند ہی ماہ قبل جب پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدار راجہ فیصل ممتاز راٹھور آذاد کشمیر کے وزیراعظم بنے تو انہیں منتخب کرنے میں ان کی مخالف سیاسی جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے ممبران اسمبلی(مقیم آذاد کشمیر) نے بھی اپنے ووٹ دیئے تھے، اور سب جانتے ہیں کہ ووٹ کس کی فون کال پر دیئے گئے تھے، گویا سیاسی انجینئرنگ تو پھر بھی ہوئی تھی۔اس لیئے ثابت ہوا کہ ضروری نہیں سیاسی انجینئرنگ کے لیئے مہاجرین کی بارہ سیٹیں ہی استعمال ہوں۔
اب اگر دوسرے موقف پر بات کی جائے یعنی کہ مذکورہ سیٹوں کا خاتمہ کشمیر ایشو کا خاتمہ تصور ہو گا اور یہ کہ اس سے کشمیریوں میں تقسیم پیدا ہو گی وغیرہ وغیرہ تو عرض ہے، مسئلہ ان نشستوں کے خاتمے کا نہیں، مسئلہ چند ہزار ووٹ لے کر بھاری سرکاری مراعات اور کروڑوں روپے کے فنڈز ہڑپ کرنے کا ہے،کیونکہ جہاں جہاں سے یہ بارہ ارکان اسمبلی منتخب ہوتے یا منتخب کروائے جاتے ہیں ہیں وہاں وہاں آذاد کشمیر کے سرکاری فنڈز سے ترقیاتی کاموں کا کوئی تصور ہی نہیں،ایسے تمام حلقوں میں پہلے سے ہی صوبوں کے ترقیاتی فنڈز موجود ہوتے ہیں۔
پس پردہ کیا پلان ہے؟ اسے جاننے کے لیئے کسی راکٹ سائنس کی ضرورت نہیں،سامنے دکھائی دے رہا ہے کہ 9 جون کے بعد حالات اس قدر خراب کر دیئے جائیں گے یا ہو جائیں گے کہ آذاد کشمیر میں ایمرجنسی لگانی پڑے گی اور پھر سیاسی جماعتوں کے”پر زور مطالبے“ پر قومی حکومت بنا کر تمام سیاسی جماعتوں بشمول جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی، نئے الیکشن شیڈول کا اعلان کر دیا جائے گا اورعین ممکن ہے کہ اسی قومی حکومت کے زریعے ہی وہ اہم لیکن متنازع فیصلے بھی کروا دیئے جائیں جو پہلے سے ہی لکھے جا چکے ہیں،جن پر عملدرآمد کرنا باقی ہے اور اس موقع پر کسی عوامی لیڈر نے چوں بھی نہیں کرنی کیونکہ جس ڈنڈے کے زور پر مسلم لیگ ن نے اپنی مخالف سیاسی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے امیدوار فیصل ممتاز راٹھور صاحب کو وزارت عظمی کے لیئے ووٹ دیئے تھے، عین اسی طرح ڈنڈے کے زور پر پہلے سے طے شدہ اور لکھے گئے فیصلوں پر”ملکی مفاد“ کے نام پر مہر بھی لگوائی جائے گی۔ ہو سکتا ہے ایسا نہ بھی ہو لیکن الحمد اللہ ”فائلیں“ سب لیڈران کی بنی پڑی ہیں۔
واپس کریں