دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
کیا عوامی نیشنل پارٹی سیاسی مکافاتِ عمل کے دور سے گزر رہی ہے؟
No image پشاور۔ خالد خان۔ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں جہاں سیاسی جماعتیں، نظریات اور تاریخی بیانیے وقت کے ساتھ اپنی اصل شکل میں برقرار رہنا مشکل محسوس کرتے ہیں۔ سیاسی تحریکیں صرف نعروں یا ماضی کے کارناموں سے نہیں بلکہ اپنے تنظیمی ڈھانچے، نظریاتی تسلسل اور داخلی نظم و ضبط سے زندہ رہتی ہیں۔
تاریخی طور پر یہ بات تسلیم کی جاتی ہے کہ خان عبدالغفار خان المعروف باچا خان اور ان کی تحریک انجمن اصلاح افاغنہ،بعدازاں خدائی خدمتگار، اور نیشنل عوامی پارٹی نے برصغیر کی سیاست میں ایک منفرد مقام حاصل کیا۔ اس تحریک کا بنیادی حوالہ عدم تشدد، سماجی اصلاح، مذہبی رواداری اور عوامی خدمت رہا۔ برطانوی دور میں اس تحریک کے خلاف مختلف نوعیت کی سیاسی اور مذہبی مخالفت بھی سامنے آئی، جس میں مذہبی کارڈ کا استعمال بھی شامل تھا۔ تاہم اس تحریک کی اصل قوت اس کا منظم ڈھانچہ، فکری وابستگی اور کارکنوں کی نظریاتی تربیت تھی۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس دور کی سیاسی قیادت اور کارکنان میں سادگی، قربانی اور تنظیمی نظم ایک واضح شناخت رکھتے تھے۔ فیصلہ سازی نسبتاً اجتماعی تھی اور جماعتی نظم میں ایک واضح تسلسل موجود تھا۔ وقت کے ساتھ جب یہ سیاسی سلسلہ عوامی نیشنل پارٹی کی صورت میں سامنے آیا تو سیاسی ماحول، ریاستی ڈھانچے اور معاشرتی حالات مکمل طور پر تبدیل ہو چکے تھے۔ افغان جنگ، علاقائی سیاست، قبائلی سماج میں تبدیلیاں اور قومی سیاست کی نئی جہتوں نے ہر سیاسی جماعت کی ساخت کو متاثر کیا۔ اے این پی بھی اس تبدیلی سے مکمل طور پر محفوظ نہ رہ سکی۔ اصل سوال یہ ہے کہ کیا آج کا بحران صرف کسی ایک واقعے کا نتیجہ ہے یا یہ ایک طویل تنظیمی اور فکری تسلسل کی کمزوریوں کا اظہار ہے۔اگر کسی جماعت میں نظریاتی تربیت کمزور ہو تنظیمی ڈھانچہ اجتماعی کے بجائے شخصی اثر میں چلا جائے داخلی احتساب کا نظام کمزور پڑ جائے اور فیصلے ردعمل کی بنیاد پر ہونے لگیں تو پھر معمولی نوعیت کے واقعات بھی غیر معمولی سیاسی اور عوامی ردعمل پیدا کرنے لگتے ہیں۔ اسی تناظر میں حالیہ تنازع کو صرف ایک “الزام” یا “سازش” کے طور پر دیکھنے کے بجائے اسے ایک بڑے تنظیمی سوال کے طور پر بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا جماعت کے اندر وہ ادارہ جاتی قوت موجود ہے جو ایسے معاملات کو داخلی سطح پر سنبھال سکے، یا پھر ہر واقعہ فوری طور پر سیاسی بحران میں تبدیل ہو جاتا ہے۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ آج کی سیاست پہلے سے کہیں زیادہ تیز، میڈیا زدہ اور ردعمل پر مبنی ہو چکی ہے۔ ایسے ماحول میں وہی جماعتیں زیادہ دباؤ برداشت کر سکتی ہیں جن کے اندر فیصلہ سازی کا نظام واضح، مضبوط اور منظم ہو۔ اس لیے اس بحث کو کسی ایک شخصیت یا ایک واقعے تک محدود کرنے کے بجائے ایک وسیع تر تنظیمی اور فکری سوال کے طور پر دیکھنا زیادہ مناسب ہوگا کہ آیا سیاسی جماعتیں وقت کے ساتھ اپنی ابتدائی تنظیمی روح برقرار رکھ پاتی ہیں یا نہیں۔ یہی وہ بنیادی سوال ہے جس کے تناظر میں کسی بھی سیاسی جماعت کے حال اور مستقبل کو سمجھا جا سکتا ہے۔
واپس کریں