محمد محسن خان ( راجپوت )
پاکستان ایک بار پھر ایسے مرحلے میں داخل ہوتا دکھائی دے رہا ہے جہاں داخلی سلامتی کے حوالے سے حاصل ہونے والی جزوی کامیابیاں نئے خطرات کے بادلوں میں گھرتی محسوس ہو رہی ہیں۔ پاکستان انسٹیٹیوٹ فار کنفلیکٹ اینڈ سکیورٹی اسٹڈیز (پی آئی سی ایس ایس) کی تازہ ماہانہ رپورٹ نے اس خدشے کو اعداد و شمار کی زبان میں واضح کر دیا ہے کہ ملک میں دہشت گردی کی سرگرمیوں نے دوبارہ شدت اختیار کرنا شروع کر دی ہے۔ دو ماہ تک نسبتاً بہتر رہنے والی صورتحال کے بعد مئی 2026ء کے دوران دہشت گرد حملوں میں نمایاں اضافہ نہ صرف ریاستی اداروں بلکہ پورے معاشرے کے لیے باعثِ تشویش ہے۔
رپورٹ کے مطابق مئی کے مہینے میں ملک بھر میں 128 دہشت گرد حملے ریکارڈ کیے گئے، جبکہ اپریل میں یہ تعداد 101 تھی۔ یوں ایک ہی ماہ میں حملوں میں ستائیس فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا۔ اعداد و شمار کا یہ فرق محض ایک عددی تبدیلی نہیں بلکہ اس امر کا مظہر ہے کہ شدت پسند عناصر نے اپنی تنظیمی صلاحیت، نقل و حرکت اور کارروائیوں کی استعداد کو دوبارہ متحرک کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس صورتحال نے نہ صرف امن و امان کے ڈھانچے کو چیلنج کیا بلکہ انسانی جانوں کے ضیاع میں بھی تشویشناک اضافہ کیا۔
مئی کے دوران 71 شہریوں، 68 سکیورٹی اہلکاروں اور امن کمیٹیوں کے 6 ارکان کی شہادت اس حقیقت کو نمایاں کرتی ہے کہ دہشت گردی کا نشانہ صرف ریاستی ادارے نہیں بلکہ پورا معاشرہ بن رہا ہے۔ شہری آبادیوں، عوامی مقامات اور مقامی سطح پر امن کے لیے سرگرم افراد پر حملے اس حکمت عملی کا حصہ دکھائی دیتے ہیں جس کے ذریعے خوف، عدم استحکام اور بے یقینی کی فضا پیدا کی جاتی ہے۔ دہشت گرد گروہوں کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ عوام اور ریاست کے درمیان اعتماد کو کمزور کریں اور یہ تاثر قائم کریں کہ ریاست اپنے شہریوں کو مکمل تحفظ فراہم کرنے میں دشواری کا سامنا کر رہی ہے۔
اس رپورٹ کا سب سے زیادہ تشویشناک پہلو خودکش حملوں میں اچانک اضافہ ہے۔ مئی کے دوران چھ خودکش حملوں کا ریکارڈ ہونا اس رجحان کی نشاندہی کرتا ہے کہ بعض شدت پسند تنظیمیں ایک بار پھر ایسے ہتھکنڈوں کی طرف رجوع کر رہی ہیں جو ماضی میں پاکستان کے لیے انتہائی تباہ کن ثابت ہوئے تھے۔ خودکش حملے صرف جانی نقصان کا سبب نہیں بنتے بلکہ ان کے نفسیاتی اثرات بھی گہرے ہوتے ہیں۔ یہ حملے عوامی اعتماد، کاروباری سرگرمیوں، سرمایہ کاری کے ماحول اور سماجی استحکام پر منفی اثرات مرتب کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر میں سلامتی کے ماہرین خودکش دہشت گردی کو عسکری سے زیادہ نفسیاتی جنگ کا ہتھیار قرار دیتے ہیں۔
پاکستان گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دہشت گردی کے خلاف ایک طویل اور کٹھن جنگ لڑ چکا ہے۔ فوجی آپریشنز، انٹیلی جنس بیسڈ کارروائیوں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی قربانیوں کے نتیجے میں دہشت گردی کے بڑے نیٹ ورکس کو شدید نقصان پہنچایا گیا۔ تاہم بدلتے ہوئے علاقائی حالات، سرحدی چیلنجز، جدید مواصلاتی ذرائع کے استعمال اور شدت پسند بیانیوں کی نئی صورتوں نے خطرات کی نوعیت کو بھی تبدیل کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ محض عسکری اقدامات اب کافی نہیں سمجھے جاتے بلکہ ایک جامع قومی حکمت عملی کی ضرورت پہلے سے زیادہ محسوس کی جا رہی ہے۔
دہشت گردی کے مسئلے کا ایک اہم پہلو اس کے سماجی اور فکری محرکات بھی ہیں۔ جب تک انتہاپسندانہ نظریات، نفرت انگیز بیانیوں اور نوجوانوں کی ذہنی استحصال پر مبنی سرگرمیوں کا مؤثر تدارک نہیں کیا جاتا، صرف سکیورٹی اقدامات دیرپا نتائج نہیں دے سکتے۔ قومی سطح پر تعلیم، سماجی شعور، معاشی مواقع اور نوجوانوں کی مثبت سمت میں رہنمائی کو بھی انسدادِ دہشت گردی پالیسی کا بنیادی جزو بنانا ہوگا۔ دنیا کے مختلف ممالک کے تجربات یہی بتاتے ہیں کہ بندوق سے دہشت گرد کو شکست دی جا سکتی ہے، مگر دہشت گردی کے نظریے کو شکست دینے کے لیے فکری اور سماجی محاذ پر بھی مسلسل جدوجہد ناگزیر ہوتی ہے۔
موجودہ صورتحال اس امر کی متقاضی ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں، سکیورٹی ادارے، انٹیلی جنس نیٹ ورک، مقامی انتظامیہ اور عوام باہمی تعاون کے ایک مضبوط فریم ورک کے تحت کام کریں۔ جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل نگرانی، سرحدی انتظام، مالیاتی نگرانی اور معلومات کے تبادلے کے نظام کو مزید مؤثر بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ساتھ ہی دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں میں ترقیاتی منصوبوں، روزگار کے مواقع اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر بھی خصوصی توجہ دینا ہوگی تاکہ شدت پسند عناصر کو مقامی سطح پر حمایت یا ہمدردی حاصل نہ ہو سکے۔
پاکستان نے ماضی میں دہشت گردی کے اندھیروں سے نکل کر امن کی جانب سفر کیا ہے اور یہ صلاحیت آج بھی موجود ہے۔ تاہم حالیہ اعداد و شمار ایک واضح تنبیہ ہیں کہ قومی سلامتی کے محاذ پر غفلت کی کوئی گنجائش نہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ محض سکیورٹی اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ پوری قوم کا مشترکہ فریضہ ہے۔ اگر ریاستی عزم، عوامی یکجہتی اور جامع حکمت عملی کا تسلسل برقرار رکھا جائے تو یہ نئی لہر بھی ماضی کی طرح شکست سے دوچار ہو سکتی ہے اور پاکستان امن، استحکام اور ترقی کی منزل کی جانب اپنا سفر اعتماد کے ساتھ جاری رکھ سکتا ہے۔
واپس کریں