دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
گلگت بلتستان کا فیصلہ کن انتخابی معرکہ: تقریباً دس لاکھ ووٹرز، 396 امیدوار اور نئی سیاسی سمت کی تلاش
No image خصوصی رپورٹ۔ خالد خان۔ گلگت بلتستان ایک بار پھر ایک اہم اور فیصلہ کن جمہوری مرحلے میں داخل ہو چکا ہے جہاں 7 جون 2026ء کو عوام اپنے ووٹ کے ذریعے آئندہ پانچ برس کے لیے اپنی نمائندہ اسمبلی کا انتخاب کریں گے۔ 24 حلقوں پر مشتمل یہ انتخاب نہ صرف نئی حکومت کی تشکیل کا ذریعہ ہوگا بلکہ خطے کی سیاسی سمت، ترقیاتی ترجیحات اور عوامی توقعات کے مستقبل کا تعین بھی کرے گا۔ انتخابی سرگرمیاں اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی ہیں اور مختلف سیاسی جماعتیں، آزاد امیدوار اور مقامی سیاسی قوتیں اپنی حمایت کو مضبوط بنانے کے لیے بھرپور مہم چلا رہی ہیں۔ الیکشن کمیشن کے شیڈول کے مطابق انتخابی مہم 5 جون کی رات 12 بجے ختم ہو جائے گی، جس کے بعد انتخابی خاموشی کا آغاز ہوگا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گلگت بلتستان میں رجسٹرڈ ووٹرز کی مجموعی تعداد 9 لاکھ 58 ہزار 480 ہے جو 24 حلقوں میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کریں گے۔ اس وسیع انتخابی عمل کو منظم، شفاف اور مؤثر بنانے کے لیے 1389 پولنگ سٹیشن اور 2450 پولنگ بوتھ قائم کیے گئے ہیں تاکہ ووٹروں کو زیادہ سے زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔ انتخابی عمل کی نگرانی اور انتظام کے لیے مجموعی طور پر 7 ہزار 678 اہلکار تعینات کیے گئے ہیں جو پولنگ کے تمام مراحل کو منظم انداز میں مکمل کروائیں گے۔
انتخابی عمل کے پرامن انعقاد کو یقینی بنانے کے لیے سیکیورٹی کے بھی غیر معمولی انتظامات کیے گئے ہیں۔ 12 ہزار سے زائد سیکیورٹی اہلکار مختلف اضلاع، حساس حلقوں اور پولنگ سٹیشنوں پر تعینات ہوں گے جبکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے اضافی نفری کو بھی الرٹ رکھا گیا ہے۔ ان اقدامات کا مقصد ووٹرز کو ایک محفوظ، پرامن اور غیر جانبدار ماحول میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے کا موقع فراہم کرنا ہے۔
اس بار کے انتخابات میں سیاسی گہما گہمی غیر معمولی طور پر زیادہ دیکھنے میں آ رہی ہے۔ مجموعی طور پر 396 امیدوار میدان میں موجود ہیں جن میں مختلف قومی و علاقائی جماعتوں کے نمائندے اور بڑی تعداد میں آزاد امیدوار شامل ہیں۔ اگرچہ امیدواروں کی یہ بڑی تعداد پورے انتخابی منظرنامے کو وسیع کرتی ہے، تاہم سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق اصل مقابلہ ان 50 سے 60 امیدواروں کے درمیان متوقع ہے جو اپنے اپنے حلقوں میں مضبوط عوامی حمایت، تنظیمی ڈھانچے اور مقامی اثر و رسوخ رکھتے ہیں۔
گلگت بلتستان کی سیاست میں ہمیشہ سے مقامی برادریوں، علاقائی اثرات اور ترقیاتی کارکردگی کو مرکزی حیثیت حاصل رہی ہے، اور اس بار بھی یہی عوامل انتخابی نتائج پر گہرا اثر ڈال سکتے ہیں۔ مختلف حلقوں میں سیاسی وابستگیاں، شخصی اثر و رسوخ اور مقامی مسائل ووٹر کے فیصلے کو براہ راست متاثر کرتے نظر آ رہے ہیں۔
گلگت بلتستان کے انتخابات کو اس وجہ سے بھی خاص اہمیت حاصل ہے کہ یہ خطہ اپنی جغرافیائی حیثیت، سیاحتی امکانات اور سی پیک جیسے بڑے منصوبوں کے باعث قومی سیاست میں ایک سٹریٹجک مقام رکھتا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران روزگار، سڑکوں کی تعمیر، بجلی کی فراہمی، تعلیم و صحت کی سہولیات، سیاحت کے فروغ، ماحولیاتی تحفظ اور آئینی حقوق جیسے اہم مسائل نمایاں رہے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع اور ہنر مندی کے پروگرام بھی مختلف سیاسی جماعتوں کے منشور کا اہم حصہ رہے۔
اس انتخاب میں نوجوان ووٹرز اور خواتین کا کردار بھی غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے۔ بڑھتی ہوئی تعلیمی شرح، ڈیجیٹل میڈیا تک رسائی اور سیاسی شعور میں اضافہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ نئی نسل اب انتخابی عمل میں زیادہ فعال اور فیصلہ کن کردار ادا کر رہی ہے۔ سوشل میڈیا نے انتخابی مہم کے انداز کو بھی تبدیل کر دیا ہے جہاں امیدوار براہ راست عوام سے رابطہ قائم کر رہے ہیں۔
اب تمام نظریں 7 جون 2026ء پر مرکوز ہیں جب ووٹرز بیلٹ بکس کے ذریعے گلگت بلتستان کے مستقبل کا فیصلہ کریں گے۔ یہ انتخاب نہ صرف ایک نئی اسمبلی کی تشکیل کرے گا بلکہ آنے والے برسوں کے لیے خطے کی سیاسی اور ترقیاتی سمت کا تعین بھی کرے گا۔ عوامی فیصلہ ہی اس خطے کی نئی سیاسی تصویر کو واضح کرے گا اور یہ طے کرے گا کہ گلگت بلتستان کی قیادت کس کے ہاتھوں میں سونپی جاتی ہے۔
واپس کریں