ایران کا داخلی بحران اور علاقائی سلامتی: ایک پیچیدہ معاشرتی اور سیاسی مطالعہ۔مہتاب عزیز

ایران کی موجودہ صورتحال پر تجزیوں میں اکثر جذباتی اور مسلکی رنگ غالب رہتا ہے، جس کی وجہ سے اس ملک کی اصل معاشرتی روح اور سیاسی پیچیدگیوں کو سمجھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ ایران کو صرف ایک مذہبی ریاست کے طور پر دیکھنا اس کی اس گہری سماجی ساخت کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے جو دہائیوں سے ارتقا پذیر ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ ہم ایران کو مسلکی عینک اتار کر ایک ایسی قوم کے طور پر دیکھیں جو مختلف نظریاتی، سیاسی اور نسلی طبقات میں بٹی ہوئی ہے۔
ایران کی تقریباً نو کروڑ کی آبادی محض ایک رخ نہیں رکھتی۔ اس معاشرے کا سب سے بڑا حصہ ان مذہبی افراد پر مشتمل ہے جو 1979 کے اسلامی انقلاب کے ثمرات اور موجودہ نظام کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق ساٹھ فیصد ایرانی اسی طبقے سے تعلق رکھتے ہیں، لیکن یہ طبقہ بذاتِ خود یکجان نہیں ہے۔ اس میں ایک طرف وہ "قدامت پسند" ہیں جو موجودہ نظام کو حرفِ آخر سمجھتے ہیں اور رہبرِ معظم کے لامحدود اختیارات اور امریکہ مخالف خارجہ پالیسی کے پرجوش حامی ہیں۔ دوسری طرف اسی طبقے میں "اصلاح پسند" عناصر کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جو نظامِ ولایتِ فقیہ پر یقین تو رکھتی ہے مگر اسے جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنا چاہتی ہے۔ ان کا مطالبہ ہے کہ منتخب اداروں یعنی صدر اور مجلس کے اختیارات میں اضافہ کیا جائے اور عالمی برادری کے ساتھ تعلقات کو بہتر بنا کر معاشی تنہائی کا خاتمہ کیا جائے۔
اس بڑے گروہ کے علاوہ ایرانی معاشرے میں وہ مذہبی لوگ بھی موجود ہیں جو اسلامی انقلاب کے حامی تو رہے ہیں مگر سیاسی طور پر موجودہ قیادت سے اختلاف رکھتے ہیں۔ ان میں ایک نمایاں تعداد مرحوم آیت اللہ منتظری کے مقلدین کی ہے، جو نظام کے اندر رہ کر سیاسی اصلاح کے داعی ہیں۔ اسی طرح ایک چھوٹا مگر موثر مذہبی طبقہ وہ بھی ہے جو سرے سے "نظریہ ولایتِ فقیہ" کو تسلیم ہی نہیں کرتا۔ اس گروہ میں بعض قدیم مکاتبِ فکر کے علماء اور وہ لبرل یا سوشلسٹ عناصر شامل ہیں جو ذاتی زندگی میں تو مذہبی ہیں مگر سیاست میں مذہب کی مداخلت کے حق میں نہیں۔ ان تمام طبقات کے بعد وہ طبقہ آتا ہے جو مکمل طور پر غیر مذہبی، ملحد یا دین سے بیزار ہو چکا ہے، اور یہی وہ گروہ ہے جو موجودہ نظام کی مکمل تبدیلی کا خواہاں ہے۔
ایران کی داخلی سلامتی کے حوالے سے ایک انتہائی حساس پہلو غیر ملکی انٹیلیجنس ایجنسیوں کا اثر و رسوخ ہے۔ شاہ کے دور سے قائم سی آئی اے اور موساد کے نیٹ ورکس نے انقلاب کے بعد بھی اپنی جڑیں مضبوط رکھی ہیں۔ آج ایران کے اندر ہزاروں کی تعداد میں موجود "سلیپر سیلز" وہ خاموش خطرہ ہیں جو کسی بھی وقت متحرک ہو سکتے ہیں۔ تہران کے قلب میں اسماعیل ہنیہ کی شہادت یا ایٹمی سائنسدان محسن فخری زادہ کا ہائی ٹیک ٹارگٹ کلنگ جیسے واقعات اس بات کا ثبوت ہیں کہ دشمن کے سلیپر سیلز ایران کے حساس ترین اداروں تک رسائی حاصل کر چکے ہیں۔ یہ عناصر کسی بھی احتجاجی لہر کو پرتشدد رخ دینے اور اسے ریاست کے خلاف مسلح بغاوت میں بدلنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
داخلی تقسیم کا ایک اور رخ نسلی اور لسانی علیحدگی پسندی ہے۔ ایران کو اس وقت تین بڑے محاذوں پر نسلی چیلنجز کا سامنا ہے۔ سیستان و بلوچستان میں بلوچ سنی علیحدگی پسند، خوزستان کے علاقے میں عرب شیعہ علیحدگی پسند اور شمال مغربی حصوں میں کرد سنی اور کمیونسٹ عناصر متحرک ہیں۔ یہ گروہ اکثر اس وقت سر اٹھاتے ہیں جب ایران کی خارجہ پالیسی خطے کے دیگر ممالک میں اپنی "پراکسیز" کو متحرک کرتی ہے۔ جواباً دشمن طاقتیں ان علیحدگی پسند عناصر کو اسلحہ اور مالی امداد فراہم کر کے ایران کے اندرونی استحکام کو چیلنج کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب بھی تہران یا دیگر بڑے شہروں میں مہنگائی یا سماجی پابندیوں کے خلاف مظاہرے شروع ہوتے ہیں، یہ علیحدگی پسند عناصر انہیں ہائیجیک کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کا تجزیہ کیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ ان کا آغاز عموماً اصلاح پسند طبقے کی جانب سے جائز مطالبات کے ساتھ ہوتا ہے، لیکن وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مذہب بیزار عناصر اور غیر ملکی سلیپر سیلز ان میں شامل ہو کر تشدد کا عنصر بڑھا دیتے ہیں۔ اس تشدد کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ عام مذہبی ایرانی جو نظام میں اصلاح تو چاہتا ہے مگر ملک کی تباہی نہیں، وہ خوفزدہ ہو کر ان مظاہروں سے الگ ہو جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ امریکہ اور مغربی ممالک کی جتنی مداخلت بڑھتی ہے، ایران کے اندر اصلاح پسند عناصر کی عوامی پزیرائی اتنی ہی کم ہوتی جاتی ہے کیونکہ ایرانی عوام کی اکثریت کسی بھی قیمت پر غیر ملکی ایجنڈے کا حصہ بننا پسند نہیں کرتی۔ وہ نظام میں اصلاح چاہتی لیکن تباہی نہیں۔
آخر میں یہ سمجھنا ضروری ہے کہ اگر موجودہ ایرانی نظام کسی بیرونی حملے یا اندرونی خلفشار کے نتیجے میں گرتا ہے، تو اس کے نتائج صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ ایک ایسا زنجیری ردِعمل (Chain Reaction) شروع ہوگا جو پورے خطے کو اپنی لپیٹ میں لے لے گا۔ اس صورتحال میں سب سے ہولناک پہلو نسلی علیحدگی پسندی کا عروج ہوگا۔ ایرانی بلوچستان میں جاری شورش اگر بے قابو ہوتی ہے تو بھارتی اور اسرائیلی آشیرباد سے ایک ایسی ریاست کی بنیاد رکھنے کی کوشش کی جائے گی جس کا اولین ہدف پاکستانی بلوچستان کو الگ کرنا ہوگا۔ یہ "گریٹر بلوچستان" کا منصوبہ نہ صرف پاکستان کی سالمیت کے لیے خطرہ بنے گا بلکہ پورے خطے کے جغرافیائی نقشے کو لہو رنگ کر دے گا۔
اسی طرح، خوزستان کے عرب علیحدگی پسند عراقی شیعہ عربوں کے ساتھ مل کر ایک الگ "شیعہ عرب ریاست" کی کوشش کریں گے، جو مشرقِ وسطیٰ کے تیل کے ذخائر پر نئے قبضے کی جنگ چھیڑ دے گی۔ دوسری جانب کرد علیحدگی پسندی کے شعلے صرف ایران تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ یہ عراق، شام اور ترکی کے اندر بھی الگ ریاست کے قیام کی آگ کو اس طرح بھڑکائیں گے کہ پورے خطے کا امن خاکستر ہو جائے گا۔ ان علیحدگی پسند تحریکوں کو بیرونی طاقتیں اپنے مقاصد کے لیے ایندھن فراہم کریں گی، جس کے نتیجے میں ایک ایسی بدترین خانہ جنگی شروع ہوگی جو لیبیا اور سوڈان کے حالات سے بھی کہیں زیادہ خوفناک ہوگی۔
اس تمام تر صورتحال میں خطے کا کوئی بھی ملک محفوظ نہیں رہے گا اور پاکستان سمیت تمام پڑوسی ریاستیں شدید متاثر ہوں گی۔ ایران کی وحدت کا بکھرنا ایک ایسا انسانی اور سکیورٹی بحران پیدا کرے گا جس کا براہِ راست فائدہ صرف اسرائیل اور بھارت کو ہوگا۔ اسرائیل کے لیے اس کا سب سے بڑا علاقائی حریف ختم ہو جائے گا، جبکہ بھارت کو پاکستان کے خلاف ایک نیا محاذ کھولنے اور خطے میں اپنا اثر و رسوخ بڑھانے کا موقع ملے گا۔ لہٰذا، ایران کی صورتحال کا حقیقت پسندانہ مطالعہ ہمیں بتاتا ہے کہ وہاں اصلاحات کی ضرورت تو ہے، مگر کسی بھی قسم کا پرتشدد بکھراؤ پورے خطے کے لیے ایک ایسا ڈراؤنا خواب ثابت ہوگا جس سے نکلنا صدیوں تک ممکن نہیں ہوگا۔
واپس کریں