دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
امریکی چودھراہٹ دنیا کے امن کے لیے خطرہ ہے یا ایران کا نیوکلیئر پروگرام؟احسان ابڑو
No image ایران اور امریکہ کے درمیان جاری بحران نے عالمی امن کو ایک بار پھر خطرے میں ڈال دیا ہے۔ آج جب کہ جنیوا میں دونوں ملکوں کے درمیان نیوکلیئر پروگرام پر بات چیت جاری ہے، امریکہ نے مشرق وسطیٰ میں اپنی فوجی موجودگی کو بڑھا دیا ہے، جو 2003 کی عراق جنگ کے بعد کی سب سے بڑی تعیناتی ہے۔
یہ بحران 2025 کی اسرائیل ایران جنگ سے جڑا ہے، جہاں امریکہ اور اسرائیل نے ایران کی نیوکلیئر سائٹس پر حملے کیے تھے، جنہیں امریکہ نے ”مکمل طور پر تباہ“ قرار دیا تھا۔ تاہم، اب دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ایران اپنے پروگرام کو دوبارہ بحال کر رہا ہے۔
ایران اور امریکہ کے تعلقات 1979 کے ایرانی انقلاب سے کشیدہ ہوئے، جب امریکہ کی حمایت یافتہ شاہ حکومت کا تختہ الٹا گیا۔ اس کے بعد ، امریکہ نے ایران پر متعدد پابندیاں عائد کیں اور اسے ”دہشت گردی کا سرپرست“ قرار دیا۔
2025 میں امریکہ نے ( جے سی پی او اے ) جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن کے ذریعے ایران کو اپنا نیوکلیئر پروگرام محدود کرنے پہ مجبور کیا اور جس کے بدلے پابندیوں میں بھی نرمی کی گئی۔ تاہم، 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے دستبرداری اختیار کی، جس سے ایران نے بھی اپنے وعدوں سے انحراف شروع کر دیا۔
امریکی چودھراہٹ، یعنی عالمی سطح پر غلبہ، کو کئی تجزیہ کار دنیا کے امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دیتے ہیں۔ تاریخی طور پر، امریکہ نے متعدد ملکوں میں مداخلت کی ہے، جیسے ویت نام، عراق، افغانستان اور اب ایران میں ممکنہ حملے۔ 2025 کے اواخر کی جنگ میں امریکہ نے ایران کی نیوکلیئر سائٹس پر حملے کیے، جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی کے زمرے میں آتے ہیں۔
امریکی پالیسی کو ”نیو امپیریلزم“ کہا جاتا ہے، جہاں امریکہ اپنے مفادات کے لیے فوجی طاقت استعمال کرتا ہے۔ مثال کے طور پر، ایران کے خلاف حالیہ فوجی تعیناتی (دو کیریئر سٹرائیک گروپس اور سینکڑوں طیارے ) کو دیکھیں، جو مذاکرات کے دوران دباؤ کی حکمت عملی ہے۔ عرب ممالک بھی اس سے خوفزدہ ہیں، کیونکہ یہ علاقائی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
مزید برآں، امریکہ اپنی ڈالر بالادستی کو برقرار رکھنے کے لیے ایران اور وینزویلا جیسے ممالک پر دنیا کے دیگر ممالک کو تیل بیچنے پہ پابندیاں عائد کرتا ہے، جو عالمی تجارت کو متاثر کرتی ہیں۔ امریکہ کو یہ حق ہرگز حاصل نہیں ہے کہ کسی ملک کو اس کی پیداوار چاہے وہ تیل ہو یا کوئی اور چیز اسے دوسروں کو بیچنے سے روکے یا باہمی کاروبار سے روکے مگر یہاں امریکی چودھراہٹ کھل کر سامنے آ جاتی ہے۔
عالمی سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ پالیسیاں ملٹی پولر دنیا (چین، روس) کو روکنے کی کوشش ہیں، جو عالمی امن کو خطرے میں ڈالتی ہیں۔ ایران کے خلاف ممکنہ حملہ امریکہ کی ”پیس تھرو سٹرینتھ“ یعنی طاقت کے زور پہ امن قائم کرنے کی پالیسی کا حصہ ہے، جو علاقائی ممالک کو جنگ میں گھسیٹ سکتا ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کا دعویٰ ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام اسرائیل اور علاقائی امن کے لیے خطرہ ہے، جو علاقائی ہتھیاروں کی دوڑ کا باعث بن سکتا ہے (جیسے سعودی عرب کا ممکنہ پروگرام) ۔ امریکی اور اسرائیلی رپورٹس میں ایران پر عدم تعاون کا الزام ہے، خاص طور پر حملوں کے بعد معائنہ نہ کرنے دینے کا۔ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی خطرہ قرار دیا جاتا ہے، جو یورپ اور امریکہ تک پہنچ سکتے ہیں۔ تاہم، ایران کا موقف ہے کہ یہ پروگرام دفاعی ہے، امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے خلاف ہے۔ ایران نے کبھی کسی ملک پر حملہ نہیں کیا، جبکہ امریکہ نے متعدد جنگیں لڑیں۔ 2026 میں ایران نے افزودگی روکنے کی پیشکش کی ہے، لیکن امریکہ کی شرائط کو نامناسب قرار دیا۔
امریکہ کی مداخلتوں نے علاقائی عدم استحکام پیدا کیا، جیسے عراق میں داعش کا ابھرنا۔ ایران کے خلاف حالیہ دھمکیاں عالمی امن کو خطرے میں ڈال سکتی ہیں، خاص طور پر اگر ایران جوابی کارروائی کرے (جیسے ہرمز آبنائے بند کرنا) ۔ یہ دنیا کی طرف تیل منتقلی کو روکنے کی کوشش ہے، جو چین اور روس کو تقویت فراہم کرتی ہے۔
اگر ایران نیوکلیئر ہتھیار حاصل کر لے، تو یہ اسرائیل اور امریکہ سمیت عرب ممالک کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے، اور علاقائی ہتھیاروں کی دوڑ شروع ہو سکتی ہے۔ تاہم، ایران کا پروگرام ابھی تک پرامن ہے اور حملوں کے بعد یہ کمزور ہو چکا ہے۔
حقائق سے واضح ہے کہ امریکی فوجی دباؤ بحران کو بڑھا رہا ہے، جبکہ ایران کا پروگرام جواباً دفاعی ہے۔ عالمی امن کے لیے دونوں طرف سے لچک کی ضرورت ہے۔ یہ بحران دکھاتا ہے کہ امریکی چودھراہٹ اور ایران کا نیوکلیئر پروگرام دونوں عالمی امن کے لیے چیلنج ہیں، لیکن امریکی مداخلت کا تاریخی ریکارڈ زیادہ جارحانہ ہے۔
جنیوا مذاکرات اگر کامیابی سے ہم کنار ہو گئے تو دنیا پہ منڈلاتے جنگ کے بادل چھٹ سکتے ہیں لیکن اگر خدانخواستہ یہ مذاکرات ناکامی پہ منتج ہوئے تو دنیا کو ایک ہولناک ایٹمی عالمی جنگ کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ لہٰذا فریقین کو دانشمندی اور برداشت سے کام لیتے ہوئے عالمی امن کو موقع دینا پڑے گا، مگر قرائن بتاتے ہیں کہ امریکہ اپنی چودھراہٹ سے کسی صورت دستبردار ہوتا نظر نہیں آتا لیکن اس کے برعکس ایران کا رویہ مثبت اور مصالحانہ ہے، اب دیکھتے ہیں کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔ امن کی طرف یا بھیانک تباہی کی طرف۔
واپس کریں