دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
پاکستان، افغانستان سے چاہتا کیا ہے؟
محمد ریاض ایڈووکیٹ
محمد ریاض ایڈووکیٹ
جب سے پاکستان نے بھارتی پراکسی تنظیموں خصوصاً بلوچستان لبریشن آرمی اور تحریک طالبان پاکستان کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کا آغاز کیا ہے اور افغانستان کی سرزمین پر موجود ان عناصر کو نشانہ بنایا ہے، تب سے سوشل میڈیا اور سیاسی حلقوں میں متضاد اور جذباتی ردِعمل دیکھنے میں آ رہا ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ حقائق سے زیادہ جذبات اور تعصبات کو اہمیت دی جا رہی ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ایک ایسا طبقہ موجود ہے جو ہر معاملے میں ریاستی مؤقف کو شک کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔ اس میں کچھ مذہبی جماعتیں بھی شامل ہیں، کچھ سیاسی عناصر بھی، اور حیرت انگیز طور پر خود کو روشن خیال اور لبرل کہنے والے افراد بھی کسی سے پیچھے نہیں۔ جب افواجِ پاکستان دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرتی ہیں تو بعض مذہبی حلقے آیات و احادیث کے ایسے حوالہ جات پیش کرتے ہیں جن سے یہ تاثر ملتا ہے کہ گویا ریاست اپنی سرحدوں کے دفاع میں کوئی گناہ سرزد کر رہی ہو۔ حالانکہ اسلام میں فساد فی الارض کو روکنے اور مظلوم کا دفاع کرنے کی واضح تعلیمات موجود ہیں۔
آج افغانستان کی تقریباً تمام سیاسی و مذہبی قوتیں اپنی حکومت کے ساتھ کھڑی نظر آتی ہیں۔ مگر پاکستان میں صورتِ حال مختلف ہے۔ یہاں بعض مذہبی جماعتوں کے بیانات کا جائزہ لیا جائے تو محسوس ہوتا ہے کہ وہ کھل کر پاکستان کا ساتھ دینے کی بجائے ایک مبہم اور غیر واضح مؤقف اختیار کیے ہوئے ہیں۔ پاکستانی مذہبی جماعتوں کے رویو ں کو کچھ یوں بیان کیا جاسکتا ہے۔ کہ ''پاکستان بھی ٹھیک، غلط افغانستان بھی نہیں ''۔
یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ کچھ مذہبی حلقے مسلکی یا تاریخی روابط کی بنیاد پر افغان طالبان سے ہمدردی رکھتے ہوں۔ اسی طرح بعض سیاسی جماعتیں اپنی داخلی سیاسی مجبوریوں کے باعث حکومت اور عسکری قیادت پر تنقید کو ترجیح دیتی ہوں۔ مگر سوال یہ ہے کہ وہ لبرل طبقہ، جو افغانستان میں نافذ سخت گیر قوانین کو انسانی حقوق کے منافی قرار دیتا ہے، وہی طبقہ جب دہشت گردوں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے تو ریاستِ پاکستان کے خلاف کیوں برسرِ پیکار نظر آتا ہے؟ اگر افغانستان کی موجودہ حکومت پر تنقید درست ہے تو پھر اس سرزمین کو دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے سے روکنے کا مطالبہ بھی تو جائز ہونا چاہیے۔
اصل سوال یہی ہے: پاکستان, افغانستان سے چاہتا کیا ہے؟
کیا پاکستان اپنے ہمسایہ ملک پر قبضہ کرنا چاہتا ہے؟
کیا پاکستان وہاں کی حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے؟
کیا پاکستان افغانستان کے معدنی وسائل پر نظریں جمائے بیٹھا ہے؟
ان سوالات کا جواب نفی میں ہے۔ پاکستان کی پالیسی کم از کم سرکاری سطح پر واضح ہے۔ وہ افغانستان کی خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور وہاں کسی قسم کی مداخلت یا قبضے کا خواہاں نہیں۔ پاکستان صرف ایک مطالبہ دہرا رہا ہے کہ افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال نہ ہونے دیا جائے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ پاکستان نے اس مقصد کے لیے طاقت کا راستہ فوری طور پر اختیار نہیں کیا۔ سفارتی سطح پر متعدد کوششیں کی گئیں۔ وفود کے تبادلے ہوئے، علما کو بھی کردار ادا کرنے کے لیے آگے لایا گیا، اور برادر اسلامی ممالک جیسے قطر، ترکی، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ذریعے بھی بات چیت کی راہیں ہموار کی گئیں۔ مگر اگر ان تمام کوششوں کے باوجود پاکستان کے اندر خودکش حملے، سرحدی دراندازیاں اور ریاستی دفائی تنصیبات پر حملے جاری رہیں تو پھر ریاست کے پاس اپنے دفاع کے علاوہ کون سا راستہ باقی رہ جاتا ہے؟
یہاں ایک بنیادی نکتہ سمجھنے کی ضرورت ہے۔ ریاست کی اولین ذمہ داری اپنے شہریوں کا تحفظ ہے۔ اگر مساجد، بازار، اسکول، ہسپتال، پولیس چوکیوں اور فوجی چھاؤنیوں پر حملے ہوں اور حملہ آور سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں سے آ کر کارروائی کریں تو کیا ریاست خاموش تماشائی بنی رہے؟ کیا بین الاقوامی قانون بھی کسی ریاست کو یہ اجازت نہیں دیتا کہ وہ اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرے؟
مذہبی حلقوں سے گزارش ہے کہ وہ مسئلے کو صرف جذباتی یا مسلکی زاویے سے نہ دیکھیں بلکہ قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بھی غور کریں کہ فساد برپا کرنے والوں کے بارے میں کیا احکامات ہیں۔ جو عناصر ریاستِ پاکستان کو مرتد قرار دے کر اس کے شہریوں کے قتل کو جائز سمجھتے ہوں، ان کے خلاف کارروائی کو کس تناظر میں دیکھا جانا چاہیے؟
مختصراً، پاکستان افغانستان سے صرف اتنا چاہتا ہے کہ اس کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہو۔ نہ قبضے کی خواہش، نہ وسائل پر نظر، نہ حکومت کی تبدیلی کا ایجنڈا۔ بلکہ صرف اپنی سرحدوں اور شہریوں کا تحفظ۔ اگر اس بنیادی مطالبے کو بھی شک کی نگاہ سے دیکھا جائے تو پھر مسئلہ خارجہ پالیسی کا نہیں، قومی یکجہتی کا ہے۔
وقت کا تقاضا ہے کہ ہم اختلافِ رائے ضرور رکھیں، مگر قومی سلامتی کے بنیادی اصولوں پر کم از کم یکسوئی کا مظاہرہ کریں۔ کیونکہ جب ریاست کمزور ہوتی ہے تو اس کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ باد
واپس کریں