دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے، یورپ کہاں کھڑا ہے؟
No image امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ہفتے کو ایران پر حملوں اور تہران کی جانب سے خطے میں امریکی اڈوں کو نشانہ بنا کر جوابی کارروائی کے بعد متعدد یورپی ممالک نے مشرق وسطیٰ میں وسیع جنگ بھڑکنے کے خدشات کا اظہار کیا ہے۔ اسی دوران متعدد یورپی رہنماؤں نے اپنے ممالک میں ہنگامی سکیورٹی اجلاس بھی منعقد کیے اور مشرق وسطیٰ میں موجود اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری اقدامات شروع کر دیے۔
یورپی یونین نے خطے کی صورت حال کو ”انتہائی خطرناک‘‘ قرار دیتے ہوئے فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے کا مطالبہ کیا، جبکہ یورپی کمیشن کی سربراہ اورزولا فان ڈیئر لائن نے اس بات پر زور دیا کہ جوہری تنصیبات کے حوالے سے سلامتی کو یقینی بنانا ”انتہائی اہم‘‘ ہے، خاص طور پر اس اشارے کے بعد کہ امریکا نے ایران کی جوہری تنصیبات کو نشانے پر رکھا ہے۔
ناروے کے وزیر خارجہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ایران پر اسرائیلی حملے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی ہیں اور کہا، ”پیشگی حملے کے لیے کسی فوری اور یقینی خطرے کا موجود ہونا ضروری ہوتا ہے۔‘‘
برطانیہ کی حکومت نے خبردار کیا کہ صورت حال ”وسیع علاقائی تنازعے‘‘ میں تبدیل ہو سکتی ہے اور بحرین، کویت، قطر اور متحدہ عرب امارات میں موجود اپنے شہریوں کو محفوظ پناہ گاہوں میں منتقل ہونے کی ہدایت کی ہے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے خبردار کیا کہ یہ تنازعہ ”بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لیے سنگین نتائج کا حامل ہو سکتا ہے‘‘ اور ”خطرناک‘‘ کشیدگی کو فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے اس معاملے پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی اپیل بھی کی۔
جرمن حکومت کا کہنا ہے کہ ایران پر اسرائیلی فوجی حملوں سے متعلق برلن کو آج صبح پیشگی اطلاع دے دی گئی تھی۔ حکومتی ترجمان کے مطابق جرمنی اپنے یورپی شراکت داروں کے ساتھ قریبی مشاورت میں ہے اور ایران کی صورت حال پر غور کے لیے حکومتی کرائسز مینجمنٹ ٹیم کا اجلاس منعقد کیا جائے گا۔
برلن حکومت نے ایران، اسرائیل اور خطے کے دیگر ممالک میں مقیم جرمن شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ بیرون ممالک شہریوں کے لیے قائم سرکاری رجسٹریشن نظام میں اپنا اندراج کرائیں اور اپنی حفاظت کے لیے مقامی حکام کی ہدایات پر عمل کریں۔
ہسپانوی وزیر اعظم پیڈرو سانچیز نے ہفتے کے روز امریکا اور اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی ”یکطرفہ فوجی کارروائی‘‘ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اقدام کشیدگی میں اضافے کا باعث بنا اور عالمی نظام کو مزید غیر یقینی اور مخاصمانہ بنا رہا ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری کردہ ایک بیان میں سانچیز نے ایرانی حکومت اور پاسداران انقلاب کی کارروائیوں کو بھی مسترد کیا۔ انہوں نے کہا، ”ہم کشیدگی میں فوری کمی کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘
یوکرین نے مؤقف اپنایا کہ ایرانی حکومت کی ”اپنے عوام اور دیگر ممالک کے خلاف پرتشدد کارروائیوں‘‘ نے امریکا اور اسرائیل کو تہران پر حملوں پر اکسایا۔
دوسری جانب روس نے ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات خطے کو ”انسانی، معاشی اور ایک ممکنہ جوہری تباہی کے دہانے پر لے جا رہے ہیں۔‘‘
واپس کریں