دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مشرقِ وسطیٰ کا بحران
No image مشرقِ وسطیٰ کا شدت اختیار کرتا بحران توانائی کے عالمی بحران کا پیش خیمہ بنتا دکھائی دیتا ہے۔ ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملے کے بعد توانائی کی قیمتوں میں اضافہ یقینی تھا مگر گزشتہ روز کے کچھ واقعات سے ان خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ گزشتہ روز سعودی عرب کی سب سے بڑی آئل ریفائنری اور قطر کی ایل این جی تنصیبات پر ایران کے حملوں کے بعد تیل اور گیس کی پیداوار میں نمایاں کمی کی خبریں ہیں‘ جس کے اثرات یورپی مارکیٹ میں قدرتی گیس کی قیمتوں میں 50فیصد اضافے کی صورت میں سامنے آئے۔ ایران پر حملے کے بعد تیل کی قیمتیں پہلے ہی ایک ماہ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔ برینٹ کروڈ آٹھ فیصد بڑھ کر تقریباً 80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ چکا ہے اور خدشہ یہ ہے کہ یہ 100 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتا ہے۔ خلیجی ممالک سے توانائی کے وسائل کی اہم گزر گاہ آبنائے ہرمز کی بندش بھی توانائی کی قیمتوں پر منفی اثرات مرتب کر رہی ہے۔
اس راستے سے دنیا کی تقریباً 20 فیصد انرجی سپلائی ہوتی ہے۔ اس گزرگاہ کی بندش سے توانائی کی عالمی سپلائی پر بڑا اثر پڑے گا‘ جس کے اثرات قیمتوں پر بھی ہوں گے۔ عالمی معیشت کے لیے اس صورتحال کے شدید مضمرات ہو سکتے ہیں۔ توانائی کی مہنگائی عمومی مہنگائی کا سبب بنتی ہے‘ صنعتوں اور گھروں کے بجٹ متاثر ہونے لگتے ہیں۔ دوسری جانب اس تنازعے کو سمیٹنے کے بجائے اسے پھیلانے کی ہر ممکن کوشش جاری ہے۔ امریکی صدر اور اسرائیلی وزیراعظم کے جارحانہ عزائم واضح طور پر سامنے آ چکے ہیں اور گزشتہ روز کی پریس بریفنگ میں امریکی وزیر دفاع اور چیئرمین جوائنٹ چیفس نے بھی جنگ کو طول دینے کا عندیہ دیا۔ اس صورتحال میں خطے کے ممالک کی سلامتی کے لیے کئی طرح کے خطرات ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے اس حملے نے صرف ایران کو نشانہ نہیں بنایا‘ بالواسطہ طور پر خلیجی ممالک میں دشمنی کے ایک لمبے سلسلے کی بنیاد ڈال دی گئی ہے۔
امریکی اور اسرائیلی حملوں کے ردِعمل میں ایران کی جانب سے اپنے قرب وجوار کے ممالک میں امریکی اڈوں پر میزائل اور ڈرون حملے کیے گئے مگر گزشتہ روز سعودی عرب اور قطر کی تیل اور گیس کی تنصیبات اور دبئی ایئر پورٹ پر حملے کے بعد اس اندیشے کو تقویت ملتی ہے کہ امریکہ اور اسرائیل کی بھڑکائی ہوئی یہ آگ مسلم دنیا کے اس اہم ترین خطے میں پھیل سکتی ہے اور اس کے اثرات جہاں ہر ملک کو انفرادی طور پر ہوں گے وہیں خطے کی سطح پر بھی بے چینی‘ بے اعتمادی اور دشمنی کے احساسات پیدا ہوں گے۔ مسلم دنیا کے اس اہم ترین خطے کے ممالک میں یہ تنازع عالم اسلام کی مجموعی حیثیت کے لیے بھی نقصان دہ ہے اور اُس خطے کے ممالک کیلئے بھی جہاں ابھی زیادہ دن نہیں ہوئے کہ امریکی سفیر اسرائیل کی توسیع کا جواز پیش کر چکا ہے۔ اس قسم کی باتیں بے وجہ نہیں ہوتیں اور نہ ہی روا روی میں منہ سے نکلتی ہیں۔
مشرقِ وسطیٰ میں اسرائیل حقیقی معنوں میں تیزی سے پھیلتا ہوا خطرہ ہے جس کا مقابلہ کرنے کے لیے علاقے کی مسلم ریاستوں میں کسی نہ کسی حد تک یکجہتی کا احساس موجودہ ہونا چاہیے۔ ایک دوسرے کی اہم تنصیبات پر حملے کر کے‘ جہاز گرا کر اور حملوں میں سہولت کاری کر کے یکجہتی کی اس ناگزیر ضرورت کو یقینی بنانا ممکن نہیں۔ ان حالات میں تحمل کا مظاہرہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ یہ چاہیے کہ مسلم دنیا ہی سے کچھ ریاستیں قدم بڑھائیں اور خلیج کے ممالک میں بھڑکتی ہوئی آگ کو ٹھنڈا کرنے کی کوشش کی جائے۔ خطے کے ممالک میں باہمی جھڑپوں کا سلسلہ فوری اور مؤثر طور پر بند ہونا چاہیے۔ خلیج تعاون کونسل کی بااثر ریاستیں اس صورتحال میں خطے میں پھیلتی ہوئی امریکی اور اسرائیلی جارحیت کا سلسلہ بند کرانے میں اپنا مؤثر کردار ادا کریں۔
واپس کریں