
جالب نے مدتوں پہلے خوب کہا تھا ڈرتے ہیں بندوق والے نہتی لڑکی سے وہ لڑکی اس وقت کے فوجی آمر جنرل ضیاء سے ٹکر لینے والی محترمہ بے نظیر بھٹو تھیں آج انہی بندوق والوں کی تقلید کرتے عالمی ضیائی فورسز نے ایران میں ایک گرلز اسکول میں حملہ کر کے چالیس طالبات کو شہادت کے منصب پر فائز کر دیا آج پھر دنیا بھر کے روزے دار رنگے برنگے پکوانوں سے افطار کریں گے مگر تہران آج سرخ ہے مجھے ان معصوم بچیوں کی شہادت پر رشک آتا ہے جو تہران میں کربلا برپا کر گئیں جو امت مسلمہ ہونے کے دنیا بھر کے دعوے داروں کو ننگا ہی نہیں برہنہ کر چلیں یہ جنگ بڑھی تو کہاں تک پہنچے گی مجھے تہران ہی نہیں اس جنگ میں مقبول بٹ کا کشمیر بھی لہو لہان ہوتے نظر آرہا ہے آج رونا یہ ہے کہ قطر یو اے ای شام اور سعودی عرب جیسے کلمہ گو بھی اس لڑائی میں اسرائیل اور امریکہ کے سہولت کار بن چکے ہیں میں سوچ رہا ہوں کہ رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے مقدس ہے مگر دوسری الہامی کتابوں کو ماننے والوں کے لیے بھی ان کے مزاہب نے معتبر قرار دے رکھا ہے مگر نہ جانے کیوں 28 فروری کو رمضان المبارک کے روز دو سامراجی طاقتوں نے آخر کار ایران پر حملہ کر دیا اسرائیل اور امریکہ جیسے دو ناسور اپنی اصلیت اور اوقات بھی دنیا پر ظاہر کر گئے ایران میں ایک سکول پر حملہ کر کے چالیس روزہ دار طالبات کو شہادت کے منصب پر فائز کر دیا پاکستان کی قیادت کی آئے روز تعریف کرتے ٹرمپ اپنے منافقانہ طرز عمل سے آگے بڑھ رہا ہے وہ معاشی مفادات تو انڈیا کے پورے کر رہا ہے مگر تباہی صرف امت مسلمہ کی کر رہا ہے اس جنگ کے نتیجہ میں وہ صرف اور صرف ایران کو قیادت سے محروم کرنا چاہتا ہے وہ اس دوڑ میں ہے کہ اسرائیل کو محفوظ بنائے اور اس کی واحد صورت یہ ہے کہ خامنائی کو راہ سے ہٹائے مگر ٹرمپ کو غلط فہمی ہے کہ خامنائی کو ہٹا کر سارے ایران کو وہ امریکہ نواز بنا دے گا ایران میں نیشنل ازم اس حد تک سرائیت کر چکا ہے کہ ہر فرد وہاں امریکہ دشمن اور اسرائیل مخالف ہے یہ بھی ضروری نہیں کہ چین اور روس سامنے آکر ایران کا ساتھ دیں مگر یہ سچ ہر ایک کو مان لینا چاہیے کہ ایران کی استقامت ہی اس کی سب سے بڑی جیت ہے وقت ثابت کرے گا کہ جس طرح افغانستان سوویت یونین کی تقسیم کا باعث بنا ایران اسی طرح امریکہ کی تقسیم اور اسرائیل کے وجود کے خاتمے کا باعث بنے گی اہل کشمیر جو جموں سے گلگت اور پونچھ سے لداخ تک تقسیم ہیں ان کا اپنا وجود منقسم ہے مگر مقبول بٹ کی قربانی نے انہیں کشمیر یت کی سوچ دے کر ایک رشتے میں جوڑ رکھا ہے کشمیر سے فلسطین اور دنیا بھر میں ہر حریت پسند ایران کے ساتھ چٹان بن کر کھڑا ہے اور سارے انقلاب پسند تہران کی چالیس شہداء بہنوں کے خون کو اپنے اوپر قرض قرار دیتے ایران کے ہاتھوں امریکہ اور اسرائیل کو شکست فاش دے کر دم لیں گے رمضان المبارک میں بدر کی جنگ ہوئی اس جنگ کو جنگ بدر بنا کر خدا واحد کی پرستش کا نعرہ ہمیشہ کے لیے امر کیا جائے گا۔
واپس کریں