دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
مردہ باد امریکہ مردہ باد اسرائیل ۔ آصف اشرف
No image جالب نے مدتوں پہلے خوب کہا تھا ڈرتے ہیں بندوق والے نہتی لڑکی سے وہ لڑکی اس وقت کے فوجی آمر جنرل ضیاء سے ٹکر لینے والی محترمہ بے نظیر بھٹو تھیں آج انہی بندوق والوں کی تقلید کرتے عالمی ضیائی فورسز نے ایران میں ایک گرلز اسکول میں حملہ کر کے چالیس طالبات کو شہادت کے منصب پر فائز کر دیا آج پھر دنیا بھر کے روزے دار رنگے برنگے پکوانوں سے افطار کریں گے مگر تہران آج سرخ ہے مجھے ان معصوم بچیوں کی شہادت پر رشک آتا ہے جو تہران میں کربلا برپا کر گئیں جو امت مسلمہ ہونے کے دنیا بھر کے دعوے داروں کو ننگا ہی نہیں برہنہ کر چلیں یہ جنگ بڑھی تو کہاں تک پہنچے گی مجھے تہران ہی نہیں اس جنگ میں مقبول بٹ کا کشمیر بھی لہو لہان ہوتے نظر آرہا ہے آج رونا یہ ہے کہ قطر یو اے ای شام اور سعودی عرب جیسے کلمہ گو بھی اس لڑائی میں اسرائیل اور امریکہ کے سہولت کار بن چکے ہیں میں سوچ رہا ہوں کہ رمضان المبارک مسلمانوں کے لیے مقدس ہے مگر دوسری الہامی کتابوں کو ماننے والوں کے لیے بھی ان کے مزاہب نے معتبر قرار دے رکھا ہے مگر نہ جانے کیوں 28 فروری کو رمضان المبارک کے روز دو سامراجی طاقتوں نے آخر کار ایران پر حملہ کر دیا اسرائیل اور امریکہ جیسے دو ناسور اپنی اصلیت اور اوقات بھی دنیا پر ظاہر کر گئے ایران میں ایک سکول پر حملہ کر کے چالیس روزہ دار طالبات کو شہادت کے منصب پر فائز کر دیا پاکستان کی قیادت کی آئے روز تعریف کرتے ٹرمپ اپنے منافقانہ طرز عمل سے آگے بڑھ رہا ہے وہ معاشی مفادات تو انڈیا کے پورے کر رہا ہے مگر تباہی صرف امت مسلمہ کی کر رہا ہے اس جنگ کے نتیجہ میں وہ صرف اور صرف ایران کو قیادت سے محروم کرنا چاہتا ہے وہ اس دوڑ میں ہے کہ اسرائیل کو محفوظ بنائے اور اس کی واحد صورت یہ ہے کہ خامنائی کو راہ سے ہٹائے مگر ٹرمپ کو غلط فہمی ہے کہ خامنائی کو ہٹا کر سارے ایران کو وہ امریکہ نواز بنا دے گا ایران میں نیشنل ازم اس حد تک سرائیت کر چکا ہے کہ ہر فرد وہاں امریکہ دشمن اور اسرائیل مخالف ہے یہ بھی ضروری نہیں کہ چین اور روس سامنے آکر ایران کا ساتھ دیں مگر یہ سچ ہر ایک کو مان لینا چاہیے کہ ایران کی استقامت ہی اس کی سب سے بڑی جیت ہے وقت ثابت کرے گا کہ جس طرح افغانستان سوویت یونین کی تقسیم کا باعث بنا ایران اسی طرح امریکہ کی تقسیم اور اسرائیل کے وجود کے خاتمے کا باعث بنے گی اہل کشمیر جو جموں سے گلگت اور پونچھ سے لداخ تک تقسیم ہیں ان کا اپنا وجود منقسم ہے مگر مقبول بٹ کی قربانی نے انہیں کشمیر یت کی سوچ دے کر ایک رشتے میں جوڑ رکھا ہے کشمیر سے فلسطین اور دنیا بھر میں ہر حریت پسند ایران کے ساتھ چٹان بن کر کھڑا ہے اور سارے انقلاب پسند تہران کی چالیس شہداء بہنوں کے خون کو اپنے اوپر قرض قرار دیتے ایران کے ہاتھوں امریکہ اور اسرائیل کو شکست فاش دے کر دم لیں گے رمضان المبارک میں بدر کی جنگ ہوئی اس جنگ کو جنگ بدر بنا کر خدا واحد کی پرستش کا نعرہ ہمیشہ کے لیے امر کیا جائے گا۔
واپس کریں