دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ایران پر امریکی و صہیونی دہشت گردی جاری، امریکہ سمیت دنیا بھر میں مظاہرے
No image ایران میں امریکی و صہیونی دہشت گردی کے نتیجے میں ہونے والی شہادتوں کی تعداد، تازہ اطلاعات کے مطابق، ساڑھے پانچ سو سے تجاوز کر گئی ہے جن میں تقریباً ڈیڑھ سو کے لگ بھگ وہ بچیاں بھی شامل ہیں جن کو ایران کے جنوب مشرقی صوبے ہرمزگان میں واقع سکول میں ناجائز صہیونی ریاست نے نشانہ بنایا تھا۔ ان حملوں میں ایران میں جن اہم شخصیات کو شہید کیا گیا ان میں سابق صدر محمود احمدی نژاد بھی شامل ہیں۔ ہلالِ احمر کے اعداد و شمار سے پتا چلا ہے کہ امریکی و صہیونی دہشت گردی کے دوران ایران کے 130 شہروں کو نشانہ بنایا گیا۔ اس سلسلے میں ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ رہبرِ اعلیٰ سید علی خامنہ ای اور دیگر اعلیٰ ایرانی عہدیداروں کی شہادت کا بدلہ لینا ایران کا فرض اور جائز حق ہے؛ خامنہ ای کی شہادت مسلمانوں کے خلاف اعلان جنگ ہے۔ اپنے تعزیتی بیان میں مسعود پزشکیان نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس تاریخی جرم کے ذمہ داروں اور اس کا حکم دینے والوں سے انصاف اور انتقام لینے کو اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔
ادھر، ایرانی فوج نے بھی رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ملک کی قیادت پر حملہ ایک سنگین اقدام ہے اور اس کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دیا جائے گا، جارح کو ہر صورت سزا دی جائے گی۔ ملک کی خودمختاری اور سلامتی کے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے اور دشمن کو اس اقدام کی قیمت چکانا پڑے گی۔ اس حوالے سے پاسدارانِ انقلاب نے بھی واضح کیا کہ رہبرِ اعلیٰ کے قاتلوں کو سخت، فیصلہ کن اور افسوس ناک سزا دینے کا موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیں گے۔ پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ وہ اسرائیلی اور امریکی بیسز پر شدید آپریشن شروع کرنے والے ہیں۔ ایرانی حکومت نے رہبرِ اعلیٰ کی شہادت پر 40روز کے سوگ کا اعلان کیا ہے۔ ایران میں تمام سرکاری ونیم سرکاری ادارے 7روز بند رہیں گے۔
پاسدارانِ انقلاب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ مشرق وسطی میں 27 امریکی تنصیات پر حملے کیے گئے ہیں۔ اسرائیلی شہر تل ابیب میں تل نوف ایئربیس پر بھی حملے کیے گئے اور اسرائیلی فوج کے کمانڈ ہیڈکوارٹر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ علاوہ ازیں، دفاعی انڈسٹریل کمپلیکس پر بھی حملے ہوئے۔ تل ابیب میں اسرائیلی وزارت دفاع کی عمارت پر ایران نے میزائل حملہ کیا جس کے نتیجے میں 40 عمارتوں کو نقصان پہنچا۔ ایران نے اسرائیل کے زیر قبضہ علاقے بیت شمیش پر میزائل حملہ کیا جس میں آٹھ اسرائیلی ہلاک اور 27 زخمی ہو گئے۔ ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی بحری بیڑے ابراہم لنکن پر بھی چار بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا گیا۔
اسی طرح، مشرقِ وسطیٰ کے مختلف ملکوں میں واقع امریکی اڈوں پر بھی ایران کے میزائل حملے جاری ہیں۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے قطری ٹی وی کو انٹرویو میں اس حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں معلوم ہے کچھ عرب ملک ناراض ہیں، کچھ عرب ملک صورتحال سمجھنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عربوں کو ایران سے نہیں، امریکا اور اسرائیل سے ناراض ہونا چاہیے۔ عرب ملکوں کو سمجھنا ہو گا کہ جنگ ہم نے شروع نہیں کی۔ جنگ بندی کے لیے ایران پر نہیں، امریکا پر دباؤ ڈالیں۔ اس سلسلے میں ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سربراہ علی لاریجانی نے عرب ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے عربی زبان میں اپنے پیغام میں کہا ہے کہ ہم نے آپ پر حملہ نہیں کیا۔ آپ کی سرزمین پر اڈے ہمارے خلاف استعمال ہوں گے تو جواب ملے گا۔ امریکی اڈے ’عرب سرزمین ‘ نہیں ہیں۔
سید علی خامنہ ای کی شہادت پر دنیا بھر میں مظاہرے جاری ہیں۔ امریکا میں بھی اس واقعے کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔ نیویارک شہر کے ٹائمز سکوائر میں شہریوں کی بڑی تعداد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ مقبوضہ کشمیر میں بھی سری نگر میں لال چوک پر ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی شہادت کے خلاف احتجاجی مظاہرہ کیا گیا۔ اسی طرح، لبنانی دارالحکومت بیروت میں امریکی سفارت خانے کے اطراف غیر معمولی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ادھر، عراق کے دارالحکومت بغداد میں بھی امریکی سفارت خانے کے باہر مظاہرے شروع ہوگئے۔ پاکستان میں بھی مختلف شہروں میں اس واقعے کے خلاف شدید احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن میں کچھ مظاہرین جاں بحق بھی ہوئے۔
ایران میں پیدا ہونے والی صورتحال اور افغانستان کے ساتھ جاری کشیدگی کے سلسلے میں وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرِ صدارت علاقائی اور پاکستان کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس منعقد ہوا جس میں علاقائی صورتحال کا تفصیلی جائزہ لیا گیا اور پاکستان کے خطے میں امن کے قیام کے لیے کردار اور مختلف اقدامات زیر غور آئے۔ اجلاس میں افغانستان کی صورتحال کا بھی بغور جائزہ لیا گیا اور ملک کی داخلی صورتحال اور سکیورٹی انتظامات پر بریفنگ بھی دی گئی۔ علاوہ ازیں، وزیراعظم نے کہا ہے کہ پاکستان کی حکومت اور عوام غم اور دکھ کی اس گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور ایران کے رہبرِ اعلیٰ کی شہادت پر دلی تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہیں۔ وزیراعظم نے سماجی رابطے کے ذریعے ’ایکس‘ پر لکھا کہ پاکستان بین الاقوامی قانون کے اصولوں کی خلاف ورزی پر بھی گہری تشویش کا اظہار کرتا ہے۔
دوسری جانب، روس نے امریکا اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کو جارحیت قرار دیا ہے۔ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کو نسل کے ہنگامی اجلاس کے دوران روسی مندوب نے کہا کہ جارحیت کرکے ایران کی کمر میں چھرا گھونپا گیا۔ ایران کے خلاف امریکی الزامات بے بنیاد ہیں۔ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) نے کبھی یہ نہیں کہا کہ ایران ایٹمی ہتھیار بنا رہا ہے۔ عراق جنگ کے لیے بھی بے بنیاد دعویٰ کیا گیا تھا۔ اس حوالے سے چین نے کہا ہے کہ ایران کے رہبرِ اعلیٰ پر حملہ ایران کی خودمختاری اور سلامتی کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ یہ اقدام اقوامِ متحدہ کے منشور کے اصولوں اور عالمی تعلقات کے بنیادی ضوابط کی خلاف ورزی ہے۔ چین کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں ایران پر حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی خودمختاری، سلامتی اور علاقائی سالمیت کا احترام کیا جانا چاہیے۔
یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ برطانیہ اور آسٹریلیا ایران پر ہونے والی امریکی و صہیونی دہشت گردی کی حمایت کرتے ہوئے اس سلسلے میں ان کے ساتھ شریک ہو گئے ہیں جس سے واضح طور پر یہ پتا چلتا ہے کہ یہ جنگ کسی ایک ملک کی طرف سے نہیں چھیڑی گئی بلکہ تخریب کاروں کا ایک گروہ ہے جو یہ کارروائی کر رہا ہے۔ ایسا پہلی بار نہیں ہو رہا کہ کسی مسلم ملک پر جھوٹے الزامات لگا کر اسے نشانہ بنایا جا رہا ہو، عراق، افغانستان، شام، لیبیا اور یمن کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ یہ سب کچھ نا جائز صہیونی ریاست کے ایما پر ہو رہا ہے اور گزرتے وقت کے ساتھ یہ واضح ہوتا جا رہا ہے کہ امریکا اسرائیل کے کہنے پر پوری دنیا کو جنگ کی آگ میں جھونکنا چاہتا ہے۔
اس صورتحال میں مسلم ممالک کو یہ فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ ایک ایک کر کے امریکی و صہیونی دہشت گردی کا شکار ہونا چاہتے ہیں یا اکٹھے ہو کر اس عفریت کو قابو کرنا چاہتے ہیں۔ نا جائز صہیونی ریاست کے سابق وزیراعظم نفتالی بینیٹ کی ایک تازہ تقریر سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ صہیونیوں کے ناپاک عزائم کیا ہیں اور یہ بات طے ہے کہ یہ سب کچھ امریکا کی رضامندی سے ہو رہا ہے۔ پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب جیسے ممالک کو چاہیے کہ وہ اکٹھے ہو کر اور آگے بڑھ کر مسلم ممالک کی رہنمائی کا فریضہ انجام دیں اور حق و باطل کے اس معرکے میں غاصب صہیونیوں اور ان کے پشت پناہ امریکا کو پوری طاقت سے جواب دیں۔ اگر یہ کام آج نہ کیا گیا تو کل سب مسلم ملک پچھتائیں گے۔
واپس کریں