دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
”نقاب کے پیچھے“
No image وینزویلا کی اپوزیشن لیڈر ماریا ماچاڈو کو حکومت کی حالیہ تبدیلی(امریکی غنڈہ گردی) سے قبل اس کی ساکھ کو بہتر بنانے کے لیے امن کا نوبل انعام دیا گیا، اسرائیل نے غزہ ہیومینٹیرین فاؤنڈیشن کا استعمال کیا، جو بظاہر امداد کی تقسیم کے لیے بنائی گئی تھی لیکن مقصد درحقیقت، غزہ میں فسلطینیوں کی نسل کشی کو تیز کرنے کے لیے قتل گاہیں قائم کرنا تھا۔ جارجیا میں غیر ملکی امداد سے چلنے والی انسانی حقوق کی این جی اوز روسی اثر و رسوخ کو کم کرنے میں سب سے آگے ہیں، جب کہ اسی طرح ایران میں این جی اوز، CIA اور موساد کے محاذ کے طور پر کام کر رہی ہیں یعنی ایران کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش میں بدامنی، تشدد اور ٹارگٹ کلنگ کو ہوا دے رہی ہیں ایران کے موجودہ حالات اس کی مثال آپ ہیں۔ ایک اور مثال کہ جیسے پاکستان میں پولیو ٹیموں نے اسامہ بن لادن کو تلاش کرنے کے لیے سی آئی اے کے جاسوس کے طور پر کام کیا۔
حقوق اور انسانی مقاصد کے لیے کام کرنے کا دعویٰ کرنے والی مغربی تنظیموں کی ظاہری شکل ہمیشہ سے ان کے حقیقی کام سے مطابقت نہیں رکھتی۔ مقصد جغرافیائی، سیاسی یا سیکیورٹی ایجنڈوں پر کام کرنا ہے یعنی ان این جی اوز کا خدمت یا انسانی فلاح سے کوئی تعلق نہیں۔ غزہ میں اسرائیل کے شرمناک اقدامات اور ان این جی اوز کی جانب سے کھلی حمایت سے جو خود کو عالمی انسانی حقوق کے محافظ کے طور پر پیش کرتے ہیں، ان کی اخلاقی اتھارٹی کا بھرم مزید ختم ہو گیا ہے۔
نعروں اور ادارہ جاتی برانڈنگ سے ہٹ کر، موجودہ دنیا عوام کو بیچے جانے والے انسانی خدمت کے نام نہاد بیانیے سے کہیں زیادہ لین دین اور بے رحم دکھائی دیتی ہے۔
جیسے جیسے دنیا بھر میں ماسک گرتے ہیں، پاکستانیوں کو بھی ظاہری شکل سے آگے دیکھنا اور سیکھنا چاہیے۔
واپس کریں