دل بعض و حسد سے رنجور نہ کر یہ نور خدا ہے اس سے بے نور نہ کر
ڈگریاں بڑھ رہی ہیں، روزگار کیوں نہیں؟
خالد خان۔ کالم نگار
خالد خان۔ کالم نگار
پاکستان کا نوجوان بے روزگاری، مہنگائی اور محدود معاشی مواقع کے ایسے بحران سے دوچار ہے جسے محض چند سرکاری آسامیوں یا قرضوں کی سکیموں سے حل نہیں کیا جا سکتا۔ یہ مسئلہ صرف روزگار کی کمی نہیں، بلکہ معیشت کی ساخت، تعلیم کے معیار، ہنر کی نوعیت، سرمایہ کاری، صنعتی ترقی اور حکومتی ترجیحات سے جڑا ہوا ہے۔ نوجوان برسوں تعلیم حاصل کرنے کے بعد جب اپنے علم کے مطابق روزگار حاصل نہیں کر پاتا تو اس کی ذاتی مایوسی ایک وسیع سماجی اور معاشی مسئلے میں تبدیل ہو جاتی ہے۔
پاکستان اکنامک سروے 2025–26 کے مطابق ملک کی آبادی 2025 میں تقریباً 25 کروڑ 20 لاکھ تھی، جبکہ 15 سے 29 سال کی عمر کے نوجوان تقریباً 6 کروڑ 70 لاکھ، یعنی آبادی کا 26.56 فیصد تھے۔ اس بڑی نوجوان آبادی کو معیاری تعلیم، ہنر اور پیداواری روزگار فراہم کرنا پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج بھی ہے اور معاشی ترقی کا غیر معمولی موقع بھی۔
سرکاری لیبر فورس سروے 2024–25 کے مطابق بے روزگاری کی مجموعی شرح بڑھ کر تقریباً 7.1 فیصد ہو گئی، جبکہ بے روزگار افراد کی تعداد تقریباً 59 لاکھ تک پہنچ گئی۔ دوسری جانب گیلپ پاکستان نے اسی سروے کے تجزیے میں 15 سے 24 سال کے نوجوانوں میں بے روزگاری کی شرح 12.5 فیصد بتائی ہے۔ یہ فرق واضح کرتا ہے کہ نوجوانوں کو عمومی آبادی کے مقابلے میں روزگار کے حصول میں زیادہ مشکلات کا سامنا ہے۔
ڈگری یافتہ نوجوانوں کے بارے میں صورت حال مزید توجہ طلب ہے۔ پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس کی تحقیق نے لیبر فورس سروے کے اعدادوشمار کا تجزیہ کرتے ہوئے بتایا ہے کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کی نئی نسل کو بے روزگاری کا نسبتاً زیادہ خطرہ درپیش ہے۔ اعلیٰ تعلیم کے مواقع میں اضافے کے باوجود معیشت اور لیبر مارکیٹ اتنی تیزی سے ترقی نہیں کر سکیں کہ تمام نئے گریجویٹس کو ان کی قابلیت کے مطابق روزگار فراہم کیا جا سکے۔
دستیاب تحقیق اس بنیادی حقیقت کی تائید کرتی ہے کہ نوجوان گریجویٹس اور خصوصاً خواتین کے لیے روزگار کے مواقع ایک سنگین پالیسی مسئلہ ہیں۔
اس بحران کی پہلی بڑی وجہ تعلیم اور معیشت کے درمیان بڑھتا ہوا فاصلہ ہے۔ پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں اور ڈگری یافتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوا، مگر صنعت، تحقیق، جدید ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ خدمات میں روزگار کے مواقع اسی تناسب سے پیدا نہیں ہوئے۔ بہت سے تعلیمی ادارے ایسے مضامین میں ڈگریاں فراہم کر رہے ہیں جن کے فارغ التحصیل افراد کے لیے دستیاب ملازمتیں محدود ہیں۔ دوسری طرف کاروبار اور صنعت کو ایسے نوجوان درکار ہوتے ہیں جو عملی کام، مسئلے حل کرنے، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور جدید پیشہ ورانہ تقاضوں سے واقف ہوں۔ نتیجتاً ایک طرف ڈگری یافتہ نوجوان روزگار تلاش کرتے ہیں اور دوسری طرف اداروں کو مطلوبہ مہارت رکھنے والے افراد کی تلاش رہتی ہے۔
دوسری بنیادی وجہ معاشی ترقی اور سرمایہ کاری کی کمزوری ہے۔ جب نئی صنعتیں قائم نہیں ہوتیں، موجودہ کاروبار توسیع نہیں کرتے، توانائی اور پیداواری لاگت کاروبار کو مہنگا بناتی ہے اور پالیسیوں میں تسلسل نہیں رہتا تو روزگار کے نئے مواقع محدود ہو جاتے ہیں۔ سرکاری ملازمتیں کسی بھی معیشت میں اہم ہیں، لیکن وہ ہر سال لاکھوں نئے امیدواروں کو جذب نہیں کر سکتیں۔ پائیدار روزگار کے لیے نجی شعبے، چھوٹی اور درمیانی صنعتوں، زراعت، تعمیرات، برآمدات اور جدید خدمات کی ترقی ضروری ہے۔
تیسری وجہ روزگار کی تلاش اور بھرتیوں میں میرٹ، شفافیت اور یکساں مواقع کی کمی ہے۔ جہاں سفارش، اقرباپروری یا غیر شفاف طریقۂ انتخاب کا تاثر مضبوط ہو، وہاں اہل نوجوانوں کا اداروں پر اعتماد کم ہوتا ہے۔ اس کے ساتھ غیر رسمی معیشت، کم اجرت، غیر محفوظ ملازمتیں اور ترقی کے محدود امکانات بھی مسئلے کو بڑھاتے ہیں۔ ہر وہ نوجوان جو کسی نہ کسی کام میں مصروف ہے لازماً باعزت اور مناسب آمدن والا روزگار حاصل نہیں کر چکا ہوتا۔ چنانچہ پالیسی بناتے وقت ملازمتوں کی تعداد کے ساتھ ان کے معیار، اجرت اور تحفظ کو بھی اہمیت دینا ہوگی۔
خواتین کے لیے صورت حال کے اضافی پہلو ہیں۔ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود بہت سی خواتین کو محفوظ سفری سہولت، کام کی مناسب جگہ، بچوں کی دیکھ بھال، خاندان اور ملازمت میں توازن اور بعض سماجی پابندیوں جیسے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خواتین کی لیبر فورس میں شرکت بھی مردوں کے مقابلے میں کم ہے۔ محدود تربیتی مواقع، روایتی پیشوں تک محدود رہنے اور ہنر کی طلب و رسد کے درمیان عدم مطابقت کے باعث بہت سی تعلیم یافتہ خواتین اپنی صلاحیتیں استعمال نہیں کر پاتیں۔
مسئلے کا حل محض ڈگریوں کی تعداد بڑھانے یا نوجوانوں کو بیرون ملک جانے کا مشورہ دینے میں نہیں، بلکہ ایسی معیشت تشکیل دینے میں ہے جو تعلیم یافتہ افراد کی صلاحیت سے فائدہ اٹھا سکے۔ سب سے پہلے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو صنعت، تجارت، زراعت، ٹیکنالوجی اور خدمات کے شعبوں کی آئندہ افرادی ضرورت کا باقاعدہ جائزہ لینا چاہیے۔ جامعات اور کالجوں کے نصاب کو ان ضروریات سے مربوط کیا جائے، جبکہ ڈگری کے ساتھ عملی تربیت، انٹرن شپ اور کاروباری تجربے کو فروغ دیا جائے۔ پیشہ ورانہ تعلیم کو کم تر سمجھنے کے بجائے اسے جدید صنعت اور باعزت روزگار سے جوڑنا ضروری ہے۔
دوسرا قدم روزگار پیدا کرنے والے شعبوں میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی ہے۔ چھوٹے اور درمیانی کاروباروں کے لیے آسان قرض، کاروبار شروع کرنے کے سادہ طریقۂ کار، مستحکم ٹیکس پالیسی اور توانائی کی قابل برداشت لاگت فراہم کی جائے۔ حکومت کو ایسی صنعتوں اور کاروباروں کی حوصلہ افزائی کرنی چاہیے جو مقامی خام مال استعمال کریں، ملکی ضروریات پوری کریں اور برآمدات بڑھائیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی، سافٹ ویئر، فری لانسنگ، ای کامرس اور ڈیجیٹل خدمات نوجوانوں کے لیے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں، لیکن ان کے لیے معیاری انٹرنیٹ، جدید تربیت، عالمی منڈیوں تک رسائی اور ادائیگیوں کے قابل اعتماد نظام ضروری ہیں۔
تیسرا قدم خواتین اور پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کے لیے عملی رکاوٹیں دور کرنا ہے۔ محفوظ ٹرانسپورٹ، قابل اعتماد ڈے کیئر مراکز، کام کی جگہ پر ہراسانی سے تحفظ، آن لائن روزگار کی تربیت اور مقامی سطح پر ہنر سکھانے کے مراکز اس سلسلے میں مؤثر ہو سکتے ہیں۔ دیہی علاقوں میں زرعی کاروبار، فوڈ پروسیسنگ، مویشی بانی، قابل تجدید توانائی اور مقامی مصنوعات کی مارکیٹنگ کے ذریعے بھی روزگار پیدا کیا جا سکتا ہے۔
حکومت کو نوجوانوں کے لیے قرض اور تربیت کی سکیموں کے نتائج بھی شفاف انداز میں سامنے لانے چاہییں۔ کتنے نوجوانوں نے تربیت حاصل کی، کتنے کو مستقل روزگار ملا، کتنے کاروبار دو یا تین سال بعد بھی قائم رہے اور کتنی آمدن میں اضافہ ہوا؟ ان سوالات کے جواب کے بغیر محض تقسیم شدہ قرضوں، جاری کردہ سرٹیفکیٹس یا منعقدہ تقریبات کو کامیابی قرار نہیں دیا جا سکتا۔ ہر سکیم کے لیے قابل پیمائش اہداف، آزادانہ جانچ اور عوامی رپورٹنگ ضروری ہے۔
نوجوانوں کی بے روزگاری کا حل حکومت، تعلیمی اداروں اور نجی شعبے کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ حکومت سازگار معاشی ماحول اور شفاف نظام فراہم کرے، تعلیمی ادارے مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق علم اور ہنر دیں، جبکہ کاروباری شعبہ نوجوانوں کو تربیت، ملازمت اور ترقی کے حقیقی مواقع فراہم کرے۔ آبادی میں اضافے کی رفتار کو بھی تعلیم، صحت اور خاندانی منصوبہ بندی کی مؤثر سہولتوں کے ذریعے متوازن کرنا ہوگا، تاکہ معاشی ترقی کے ثمرات بڑھتی ہوئی آبادی تک پہنچ سکیں۔
پاکستان کا نوجوان مسئلہ نہیں، ملک کا سب سے بڑا انسانی سرمایہ ہے۔ مسئلہ اس وقت پیدا ہوتا ہے جب ریاست اس سرمایہ کاری کو پیداواری صلاحیت میں تبدیل کرنے میں ناکام رہے۔ اگر تعلیم کو روزگار، ہنر کو صنعت، میرٹ کو مواقع اور حکومتی منصوبوں کو قابل پیمائش نتائج سے جوڑ دیا جائے تو نوجوانوں کی یہی بڑی آبادی پاکستان کی معاشی کمزوری دور کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ لیکن اگر لاکھوں نوجوان ڈگریاں لے کر بھی اپنی صلاحیت استعمال کرنے سے محروم رہے تو اس کا نقصان صرف ان کے خاندانوں کو نہیں، پوری معیشت اور معاشرے کو برداشت کرنا پڑے گا۔
واپس کریں